وادیٔ جن ، جہاں گاڑی خودبخود چلتی ہے؟

مدینہ منورہ سے باہر نکلتے ہوئے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ویران علاقے میں وادی جن واقع ہے، جس کا تاریخی نام ’وادیٔ بیضا‘ ہے، یہاں اس وقت تک کوئی انسانی آبادی نہیں ہے لیکن اونچ نیچ اور سطحی طور پر غیر ہموار راستے پر اکثر پاکستانی، ہندوستانی یا مشرقی معاشروں سے تعلق رکھنے والے زائرین ہی نظر آتے ہیں۔

اس وادی کی مشہور کرامت یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں گاڑی اسٹیئرنگ، ایکسیلیریٹر اور چابی گھمائے بغیر کئی کلو میٹر تک چلتی ہے، پانی سڑک پر گرائیں تو وہ مخالف سمت میں اونچائی کی طرف جاتا ہے۔

مدینہ منورہ کی طرف گاڑی کا رخ کریں تو گاڑی خود بخود تیز رفتار سے بھاگنا شروع کر دیتی ہے اور رفتار 130 کلو میٹر فی گھنٹہ تک چلی جاتی ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جنات کی طاقت ہے ، جو گاڑی کو یہاں سے واپس مدینہ منورہ کی طرف دھکیلتے ہیں۔

دوسری جانب آثار قدیمہ اور جغرافیائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں ’وادی بیضا‘ جو ’وادی جن‘ سے معروف ہے اور طائف میں ھدا کے مغرب میں گاڑیوں کا اُلٹی سمت چلنا نظر کے دھوکے کے ضمن میں آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کشش ثقل کی مخالف سمت میں حرکت کا گہرائی سے جائزہ لیاگیا۔ وہ وادی بیضا ھدا اور عمان میں صلالہ کے قریب مقامات کا متعدد مرتبہ دورہ کرکے جائزہ لے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشش ثقل کی مخالف سمت میں حرکت کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان مقامات میں کشش ثقل کی کمی نہیں بلکہ یہ چیزیں نظر کے دھوکے کے ضمن میں آتی ہیں۔

جغرافیائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں دیکھنے میں لگتا ہے کہ گاڑی نشیبی علاقے سے اوپر کی جانب سے جارہی ہے حالانکہ یہ جغرافیائی نظر کا دھوکہ ہے۔ جس طرح صحراء میں مسافر سراب دیکھتا ہے اسی طرح اسے نظر آتا ہے کہ اشیاء مخالف سمت حرکت کررہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں