میرٹ گرتے گرتے کہاں پہنچ گیا ہے

سچ پوچھیں تو سیاسی گفتگو کے سلسلے میں معاملہ اب کوفت‘ بیزاری‘ تنگی اور الجھن سے آگے نکل گیا ہے۔ اب تو بعض اوقات سیاسی گفتگو کرنے والے سے باقاعدہ لڑ پڑنے کو دل کرتا ہے۔ معاشرے میں سیاسی اختلاف نے نفرت کی خلیج کی صورت اخیتار کر لی ہے اور یہ خلیج روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ میوزیکل چیئر نامی ایک تفریح ہوتی ہے جس میں میوزک چلنے کے دوران اس کھیل کے شرکا چلتے رہتے ہیں اور اس دوران منتظمین درمیان میں دائرے کی صورت میں لگی ہوئی کرسیوں میں سے ایک کرسی کم کر دیتے ہیں۔ ان کرسیوں کے گرد گھومتے ہوئے ہر شخص کو پتا ہوتا ہے کہ ان کرسیوں کے گرد گھومنے والوں کی تعداد کی نسبت اب ایک کرسی کم ہو چکی ہے اور میوزک رکتے ہی کوئی ایک شخص کھیل سے باہر ہو جائے گا اس لیے ہر شخص کی نظر اگلی کرسی پر ہوتی ہے۔ چالاک اور سمجھدار لوگ اس میوزک کے دوران کسی دوسرے شخص کے بجائے صرف اور صرف کرسی کے حصول پر آنکھ رکھے ہوتے ہیں اور اپنے پہلو والی کرسی کے پاس سے تب تک آہستہ آہستہ گزرتے ہوئے نظریں جمائے رکھتے ہیں جب تک ان سے اگلا شخص اگلی کرسی سے آگے نہ نکل جائے اور وہ اس کے گزرتے ہی تیز قدموں سے اگلی کرسی کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور یہ کھیل اختتام تک یونہی چلتا رہتا ہے۔ اس کھیل میں کسی کو کسی کے ساتھ رعایت برتتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ صرف وقتی کھیل کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اقتدار کے کھیل میں کرسی کے حصول کیلئے ہمارے سیاستدان کس حد تک خود غرض ہو سکتے ہیں‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بہت کو علم ہے کہ ملکی معیشت کا تختہ ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کی معاشی بدحالی اور خدانخواستہ دیوالیہ پن کی باتیں اب معاشی حلقوں میں گفتگو کا موضوع ہیں مگر حکمران کو اپنی کرسی کے تحفظ اور اپوزیشن کو کرسی کے حصول کے علاوہ نہ کچھ سوجھ رہا ہے اور نہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔
ہم نفرت کو نفرت سے‘ بدکلامی کو بدکلامی سے اور عدم برداشت کو جوابی عدم برداشت سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحمل‘ برد باری‘ برداشت اور اخلاقیات تو سمجھیں گویا بالکل قصۂ ماضی بن کر رہ گئی ہیں۔ اب ہمارے ہاں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف ایک سیاسی جمہوری منظر نامے کے دو فریق نہیں بلکہ متحارب فریق ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ حالتِ جنگ میں مشغول دو سیاسی دشمن ہیں جو ایک دوسرے کو شکست دینے کے نہیں بلکہ فنا کرنے کے درپے ہیں۔ اس نفرت اور دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ دنیا ٹی وی کے پروگرام ”مذاق رات‘‘ میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ارمغان سبحانی نے میزبان کے سوال کہ آپ کو مجبوری کے تحت اگر اپنے گھر میں ایک تصویر لگانی پڑے توکس کی ہو گی وہ تصویر؟ آپشن آپ کے پاس ہے کہ عمران خان‘ اور نریندر مودی۔ جواب میں ارمغان سبحانی کہنے لگا کہ اس سے بہتر ہے کہ نریندر مودی۔ اب آپ اس مائنڈ سیٹ سے اندازہ لگا لیں کہ سیاسی نفرت کس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ہمارا ایک رکن اسمبلی مسلمانوں اور پاکستان سے دشمنی کی بنیاد پر ہندو انتہا پسندوں کے ووٹوں سے برسر اقتدار آنے والے مودی کو عمران خان پر ترجیح دے رہا ہے۔
یہ صرف تصویر کا ایک رخ ہے‘ دوسری طرف بھی اسی قسم کی صورتحال ہے۔ عمران خان صاحب الیکشن جیتنے پر نریندر مودی کو مبارک باد کا پیغام بھیج سکتے ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر (تب کی بات ہے جب میاں شہباز شریف قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن تھے) سے بات کرنے سے صاف انکاری تھے۔ میاں نواز شریف سجن جندال کو ویزے میں مری کی اجازت نہ ہونے کے باوجود میری بلا کر ملاقات کر سکتے ہیں۔ نریندر مودی کو آم اور ساڑھیوں کا تحفہ دے سکتے ہیں لیکن عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ کوئی ان کو سمجھائے کہ اللہ کے بندو اگر آپ نے اس پارلیمانی جمہوری نظام میں حصولِ اقتدار کیلئے الیکشن لڑنا قبول کیا ہے تو اس نظام کے تحت آئینی مجبوری ہی سہی مگر آپ کو ایک ہی اسمبلی میں بھی بیٹھنا ہوگا اور بحیثیت قائدِ حزبِ اقتدار اور قائدِ حزبِ اختلاف ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بہت سے ایسے ضروری آئینی معاملات جن میں بہت ہی اہم آئینی حیثیت کی حامل تقرریاں بھی شامل ہیں‘ کرنی ہوں گی۔ بھلا یہ کیا ہوا کہ آپ اس آئین کے تحت الیکشن لڑ یں‘ اقتدار کے مزے لیں‘ حزبِ اختلاف کے لیڈر کا پروٹوکول انجوائے کریں اور آپس میں بیٹھ کر بات کرنے اور دیگر آئینی ذمہ داریوں کوسرانجام دینے کی بات ہو تو آپ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہ کریں۔ بھلے سے آپ کسی کو کرپٹ کہیں یا چور۔ آپ اسے دلی طور پر قبول کریں یا نہ کریں لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آپ کو وہ کچھ تو بہرحال کرنا چاہیے جس کیلئے آئین آپ کو پابند کرتا ہے۔ اب یہ نہیں ہوگا کہ آپ آئین کے تحت سارے مزے تو کریں اور جب ذمہ داریوں کا معاملہ آئے تو آپ اس سے بھاگ جائیں۔
اب اس سے بحث نہیں کہ میاں شہباز شریف کس طریقے سے وزیراعظم پاکستان بنے لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر تب تحریک انصاف کے اپنے ہی ارکان قومی اسمبلی لوٹے نہ بنتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ ان کے لوٹا بننے کی کہانی کی جڑیں کہاں پہنچتی ہیں یا ان کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا رہی تھیں‘ یہ اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ تب بے شک سب کچھ صاف دکھائی دے رہا تھا لیکن اخلاقی حوالوں سے ہٹ کر سب کچھ آئینی دائرہ کار میں ہوا۔ عدم اعتماد کی تحریک دنیا میں پہلی بار کامیاب نہیں ہوئی تھی لیکن اسلام آباد میں ہونے والی اس تحریک عدم اعتماد پر اپنی پارٹی کی اندرونی کمزوریوں کا سارا ملبہ بھی امریکہ بہادر پر ڈال کر ایک بیانیہ تشکیل دے دیا گیا۔ یہی حال حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے حلف پر کیا گیا۔ تب بھی اگر پی ٹی آئی کے پچیس اراکین صوبائی اسمبلی لوٹے نہ بنتے تو حمزہ شہباز بھلا کیسے وزیراعلیٰ منتخب ہوتا؟ ان لوٹوں کو اپنے کیے کی سزا رکنیت سے فراغت اور بعد ازاں الیکشن میں ناکامی سے خوب اچھی طرح مل گئی مگر تب کے گورنر پنجاب سرفراز چیمہ نے اپنے منصب کے سر میں خوب خاک ڈالی اور اپنی ہٹ دھرمی اور آئینی ذمہ داریوں کے انحراف کے طفیل اب وہ نئے سرے سے عمران خان کی آنکھ کا تارہ ہیں حالانکہ وہ گورنری سے پہلے اپنی پارٹی کی تیسری صف کے لیڈر بن چکے تھے۔
اب یہی کچھ موجودہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے کیا ہے۔ انہوں نے وفاق کا نمائندہ بن کر اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے کے بجائے شریف خاندان کے ذاتی گورنر ہونے کا ثبوت دیا اور وہی فلم دوبارہ چلائی جو تین ماہ قبل گورنر سرفراز چیمہ نے چلائی تھی۔ البتہ یہ فلم عدالت کے حکم کے باعث خاصے چھوٹے دورانیے کی ثابت ہوئی اور بات رات دو بجے ایوانِ صدر میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے حلف کے باعث اختتام کو پہنچ گئی۔ اگر عدالتی احکامات نہ ہوتے تو یہ فلم اب بھی چل رہی ہوتی۔ لوہا لوہے کو کاٹ سکتا ہے مگر بدکلامی کو بدکلامی سے‘ بدتہذیبی کو بدتہذیبی سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور ہماری سیاسی قیادت اسی فارمولے پر عمل پیرا ہے۔
کل ایک باخبر دوست نے فون پر مجھے خوشخبری سنائی کہ آپ کے ایک پرانے دوست (گو کہ اب کم از کم وہ ہمیں دوست نہیں سمجھتے) کا نام پنجاب کے متوقع وزیروں میں لیا جا رہا ہے۔ میں نے اس متوقع نامزدگی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس دوست سے پوچھا کہ اس متوقع وزارت کے لیے میرٹ کا کون سا بیانیہ سامنے رکھا گیا ہے؟ اس دوست نے جواب دیا کہ ملتان کے حالیہ جلسے میں اس نے رانا ثنااللہ کی مونچھیں اکھاڑنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا اور سٹیج پر بیٹھے ہوئے عمران خان نے اس ارادے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں