تخت یا تختہ

کل رات 2011 ء میں سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر پر بنی فلم دیکھ رہا تھا۔ایک چھوٹی گروسری شاپ کے مالک کی بیٹی کے برطانیہ کی تین دفعہ وزیراعظم بننے کی کہانی کو خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے۔وہ آکسفورڈ یونیورسٹی گئیں اورپھرسیاست میں داخل ہوگئیں۔حیران کن سین وہ ہے جب انہیں کنزرویٹو پارٹی کا لیڈر بنا کر وزیراعظم بننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ وہ حیران ہو کر اپنے پارٹی خیرخواہوں کو کہتی ہیں: آپ پاگل ہوگئے ہیں؟ میں بھلا کیسے برطانیہ کی وزیراعظم بن سکتی ہوں؟ آج تک کوئی خاتون وزیراعظم نہیں بنی تو میں کیسے بنوں گی؟ اصرار ہوا تو وہ بولیں: مجھے وزیراعظم نہیں بننا ‘ ایسے ہی ٹھیک ہوں۔ خیر انہیںراضی کیا گیا۔ جب مارگریٹ تھیچر نے گھر جا کر اپنے خاوند کو یہ خبر سنائی تو اس کا ردعمل دیکھنے والا تھا ” کیا کہا: تم گریٹ بریٹین کی وزیراعظم بنو گی؟‘‘ ایک خاوند یقین ہی نہیں کرسکتا تھا کہ اس کی بیوی‘ جس سے اس کی روز کسی بات پر گرما گرم بحث ہوجاتی ہے‘ وزیراعظم بنے گی۔ مارگریٹ تھیچر کی آواز میں وہ بات نہ تھی جو پارلیمانی رہنما ایک وزیراعظم کے عہدے پر بیٹھے پرسن سے توقع رکھتے تھے کہ اس میں اتھارٹی ہو‘ رعب اور دبدبہ ہو‘ کئی دن تک انہیںباقاعدہ اس مخصوص آواز کی پریکٹس کرائی گئی۔
اس تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ بعض چیزیں خدا مقدر میں لکھ دیتا ہے۔ ایک خاتون‘ جو وزیراعظم بننے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی‘ کو مجبور کیا جاتا ہے اور اس کے مسلسل انکار کو ہاں میں بدلوایا جاتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی وزیراعظم کی امیدوار بن جاتی ہے اور تین دفعہ وزیراعظم بنتی ہے اور برطانیہ کی آئرن لیڈی کا خطاب اسے دیا جاتا ہے۔ مقدر اور تقدیر کے بارے میری ایک مختلف اپروچ ہے۔ میں اور میرا دوست جنید مہار اکثر اس پر بحث کرتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اگر سب کچھ تقدیر میں لکھا ہے تو پھر محنت اور کوشش کی کیا ضرورت ہے؟ گھر بیٹھے سب کچھ مل جائے گا۔ میرے خیال میں جن کی تقدیر اچھی نہیں ہوتی انہیں گھر بیٹھے کچھ نہیں ملتا۔ جن کی تقدیر یا مقدر اچھا ہوتا ہے انہیں تقدیر گھر سے اٹھائے گی‘ انہیں مجبور کرے گی‘ ان کی مزاحمت کے باوجود ان کے لیے کچھ راہیں متعین کرے گی‘ انہیں سات دریا اور سات جنگل عبور کرائے گی‘ کئی امتحانوں سے گزار کر انہیں ٹاپ پر لے جائے گی۔ یہ مقدر ہے‘ یہ تقدیر ہے یا اللہ کی مہربانی ہے جو آپ کو گھر نہیں ٹکنے دے گی اور آپ کو اپنی منزل پر پہنچا کر دم لے گی۔آپ کو اپنے اردگرد ایسے لوگ ملیں گے جن کا آپ کو یقین نہ آئے گا کہ یہ کیسے یہاں تک پہنچ گئے۔
عابدہ حسین اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ وہ گورنر پنجاب جنرل جیلانی سے فخرامام کے ساتھ ملنے گئیں تو وہاں باہر ایک نوجوان مٹھائی کا ڈبہ لے کر بیٹھا تھا۔ وہ اندر گئیں تو پوچھا کہ باہر کون مٹھائی لے کر بیٹھا ہوا ہے تو جواب ملا: کسی بزنس مین کا بیٹا ہے اور اس نوجوان کا نام نواز شریف ہے۔ وہی نواز شریف بعد میں اس ملک کا تین دفعہ وزیراعظم بنا۔ محمد خان جونیجو کا کس نے سوچا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچیں؟عمران خان کو دیکھ لیں‘ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وہ آصف زرداری اور بے نظیر سے اپنے ہسپتال کے لیے امداد لینے گئے تھے جو نہیں ملی الٹا زرداری ان سے کچھ لین دین کے چکر میں تھے۔ آج وہی عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں جو کبھی اپنے ہسپتال کے لیے ایک اور وزیراعظم سے مدد لینے گئے تھے۔ انہی نواز شریف سے عمران خان نے بہت سی مدد ہسپتال کے لیے لی جن سے ان کی آج بدترین دشمنی ہے۔ یہی جنرل مشرف تھے جنہیں عمران خان اپنے ہسپتال لے گئے اور تقریب کا مہمان خصوصی بنایا اور جنرل مشرف نے کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے عطیہ دیا۔ آج عمران خان کی کوئی بات جنرل مشرف کی مذمت کیے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ چند برس پہلے میانوالی کالج کی تقریب میں عمران خان اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور احسن اقبال کو مہمان خصوصی کے طور پر لے گئے تھے۔ اس تقریب کا کلپ دیکھ رہا تھا تو حیرانی ہوئی کہ خان صاحب نے تعریفوں کے پل باندھے ہوئے تھے۔
عمران خان کا سیاست میں عروج بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ اچھی قسمت لے کر پیدا ہوئے اور آج تک قسمت ان کا ساتھ دیتی آئی ہے۔ ایسا بندہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ پیدا ہی خاص ہوا ہے اور تقدیر اس سے کوئی بڑا کام لینا چاہتی ہے اور یہیں سے انسان وہ غلطیاں شروع کرتا ہے جو آخر اس کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔ بروٹس کو بھی یہی یقین دلایا گیا تھا کہ اگر اس نے اپنے دوست سیزر کو قتل نہ کیا تو روم تباہ ہو جائے گا۔ بروٹس کو یار لوگوں نے بانس پر چڑھایا ہوا تھا کہ روم کو بچانا اس کی ذمہ داری ہے۔ بروٹس ان لوگوں کے چکر میں آگیا۔ سیزر قتل ہوا اور روم میں خانہ جنگی چھڑ گئی جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ خود بروٹس کو خودکشی کرنا پڑی۔شیکسپیئر کا ڈرامہMacbeth پڑھیں تو اس کی بیوی بھی اسے یہی یقین دلا رہی تھی کہ اس نے بڑے کام کرنے ہیں اور اسے اپنے بادشاہ کے لہو سے ہاتھ رنگنا پڑیں تو رنگ لے۔ تین چڑیلیں سکاٹ لینڈ کے جنرل میکبتھ کو پیش گوئی کرتی ہیں کہ وہ ایک دن بادشاہ بنے گا۔ بیوی کے کہنے پر وہ سکاٹ لینڈ کے بادشاہ کو قتل کر کے خود بادشاہ بن جاتا ہے اور گھبرا کر مزید لوگ قتل کرتا ہے۔ میکبتھ کے اس ایکشن سے سول وار شروع ہوجاتی ہے جو خود میکبتھ کے لیے بربادی لاتی ہے۔
جب انسان خودکو ناگزیر سمجھ کر دیوتا کا درجہ دے لیتا ہے ‘ پھر وہ ہر ایک سے توقع رکھتا ہے کہ اب وہ عام انسان اس خاص انسان کی پوجا کریں۔اسلام آباد میں یہی کچھ چل رہا ہے۔ہر کوئی دوسرے انسانوں پر حکومت کا نشہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ عمران خان بھی وہی غلطی دہرا چکے ہیں جو نواز شریف نے کی تھی۔ نواز شریف کو ان کی اپنی غلطیاں جیل لے گئیں۔ خود میاں صاحب نے عمران خان کی مدد کی تھی۔ اب یہ نواز شریف‘ زرداری یا مولانا کے کمالات نہیں کہ عمران خان کی حکومت لڑکھڑا رہی ہے بلکہ وہی مزاج اور وہی اپروچ ہے جو نواز شریف کی تھی۔ نواز شریف کو عمران خان فوبیا لے ڈوبا اور عمران خان بھی اسی کا شکار ہوئے۔
عمران خان کو چاہئے تھا کہ وہ” وزیراعظم‘‘ بن کر اپنے اتحادیوں اور ایم این ایز کے ساتھ اچھا پیش آتے نہ کہ ان کا ”دیوتا ‘‘ بنتے جس کی پوجا ان پر لازم ہو۔ اگر یوں ہوتا تو شاید حالات یہ نہ ہوتے۔نواز شریف کے زوال کی ذمہ دار مریم نواز تھیں جن کا ٹویٹر وزیراعظم ہاؤس سے خاموش نہیں ہوتا تھا اور چوہدری نثار علی خان کو کہنا پڑ گیا کہ حکومتیں ٹویٹرسے نہیں چلتیں۔ نتیجہ وہی نکلا جس سے چوہدری نثار نے خبردار کیا تھا۔ شریف خاندان کے زوال کی وجہ مریم نواز کا ٹویٹر اور میڈیا سیل تھا۔ عمران خان نے وہیں سے شروع کیا جہاں شریف چھوڑ گئے تھے۔
ایک وزیراعظم کو بولنے سے زیادہ خاموش رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر بات پر ردعمل نہیں دینا ہوتا۔ عمران خان اگر آج عالمی اور قومی سطح پر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو اس میں ان کی زبان کا بڑا ہاتھ ہے۔ جو کام وزیردفاع یا فارن منسٹر کے کرنے کے تھے وہ خان صاحب روز کسی نہ کسی تقریب میں کرتے رہے۔ وزیراعظم نے اپنی زبان سے دنیا کے کئی ملکوں کو offendکیا جس کی ضرورت نہ تھی۔ نواز لیگ حکومت کو مریم نواز کا ٹویٹر لے ڈوبا تو تحریک انصاف حکومت کو عمران خان کا ہر روز کسی نہ کسی تقریب میں مقامی سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر‘ ملکوں کے تعلقات کی نزاکتیں سمجھے بغیر‘ بولنا لے بیٹھا۔ کسی نے کیا سچ کہا تھا کہ زبان آپ کو تخت پر لے جاتی ہے اور وہی زبان تختہ بھی کرا دیتی ہے۔ اب آپ کی مرضی کہ کہاں پہنچناچاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں