کیا موجودہ حالات میں مثبت تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے؟

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: موجودہ حالات آپ کے سامنے ہیں، لوگ امن، استحکام اور انصاف چاہتے ہیں ، مگر ان سے محروم ہیں ۔دوسری طرف مذہب کی طرف بھی کوئی خاطر خواہ رجحان نہیں ہے، کیا ان حالات میں کسی تبدیلی کی امید رکھی جاسکتی ہے ؟ اگر تبدیلی آئے بھی تو وہ کس قدر پائے دار ہوگی؟

جواب: امن، معیشت، ملک و ملت کے داخلی و خارجی استحکام اور عدل و انصاف،غرض ہر اعتبار سے مثبت تبدیلی کی امید بھی رکھنی چاہیے، اور ہمہ جہت اِصلاحِ اَحوال کے لیے ہر مسلمان کو اپنے دائرۂ اِختیار میں جدّ و جہد بھی جاری رکھنی چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے جس وقت کلمۂ حق بلند فرمایا اس وقت دنیا موجودہ حالات سے زیادہ اَبتر نہیں تو بہتر حالت میں بھی نہیں تھی، لیکن آپ ﷺ کے انتہائی اِخلاص، بے مثال صبر واستقامت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جاں گسل محنت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی قربانیوں کے نتیجے میں بہت جلد آدھی دنیا اسلامی تعلیمات سے منور ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھول دیے،اور اس تبدیلی کے اَثرات بقیہ دنیا تک بھی پہنچے، بلکہ آج تک پوری دنیا اس تبدیلی سے مستفید ہورہی ہے۔

اس عالمگیر مثبت تبدیلی کی بنیاد دینِ اِسلام ہی تھا، لہٰذا مثبت تبدیلی آج بھی ممکن ہے،بلکہ صحیح معنیٰ میں تبدیلی مذہبِ اِسلام کو تھامنے کی صورت میں ہی ہے، کمی ہماری طرف سے ہے، اگر ہم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین والا ایمان اور اِسلامی اَخلاق و تعلیمات کو اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محنت کریں تو تبدیلی زیادہ دور نہیں۔ وہ معاشرہ جہاں مذہبی جوش وخروش پایا جاتا ہے، وہ تبدیلی کے لیے زیادہ سازگار ہوتا ہے۔

اس کے برعکس اگر کسی معاشرے میں مذہب کے لیے جگہ نہیں ہے تو وہ تبدیلی کے لیے بھی موزوں نہیں ہے۔ناموافق حالات میں اگر کوئی حقیقی تبدیلی آتی ہے تو وہ ناپائیدار ہونے کے بجائے زیادہ پائیدار ہوگی۔تاریخ کاسبق یہ ہے کہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ناموافق ماحول اورناموزوں حالات میں ہوتا ہے ، حالات جس قدر شدید اور غیرموافق ہوتے ہیں ،تبدیلی بھی اس قدر مستحکم، دیرپا اور طویل ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں