کتاب و سنت کی روشنی میں ادائے زکوٰۃ کی شرائط کی تفصیل

سوال: کتاب و سنت کی روشنی میں ادائے زکوٰۃ کی شرائط کی تفصیل بتلا دیئجے؟

جواب : شریعت کے مقرر کردہ نصاب سے کم مال کے مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ صاحب نصاب کا آزاد اور خود مختار ہونا ضروری ہے، کسی غلام اور مقروض پرزکوٰۃ فرض نہیں ہے۔

مال صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہو تو تب ہی اس پر زکوٰۃ فرض ہے مثلاً کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا، اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں، کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔

تاہم صاحب نصاب کو ادائیگی زکوٰہ کے وقت درج ذیل شرائط ذہن میں رکھنا ضروری ہیں۔

(1) زکوٰۃ دینے اور لینے والا مسلمان ہو:
زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زکوٰۃ دینے والا مسلمان ہو اور جس شخص کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے وہ بھی مسلمان ہو۔ کسی غیرمسلم کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔

(2) زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت:
جب زکوٰۃ نکال رہے ہوں اس وقت یا مستحق کو زکوٰۃ کی رقم دیتے وقت زکوٰۃ دینے کی نیت کرنا بھی ضروری ہے، البتہ جس شخص کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے اسے یہ بتلانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے۔

(3) مالک بنانا:
زکوٰۃ ادا کرتے وقت، زکوٰۃ لینے والے کو اس رقم یا اس شے کا مالک بنانا ضروری ہے۔

(4) مقررہ مدوں میں صرف کرنا:
جن لوگوں کو زکوٰۃ دینے کے لئے قرآن شریف میں تفصیل بیان کی گئی ہے ان کے علاوہ کسی دوسرے کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے گی تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔

(5) عاقل ہونا:
دیوانہ، مجنوں یا اپنے ہوش و حواس میں نہ ہونے والا شخص زکوٰۃ کی ادائیگی سے مبرا ہے۔ صرف عاقل اور سمجھ دار شخص ہی زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے۔

(6) بالغ ہونا:
نابالغ بچے پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے خواہ وہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو۔

اب اگر ایسے میں آپ رحمتوں اور برکتوں والے اس ماہ مبارک سے متعلق کوئی بھی دینی و دنیاوی شرعی مسائل کا حل جاننا چاہتے ہیں تو دیئے گئے لنک (https://ramadan.geo.tv/category/islamic-question-answers) پر کلک کیجئے۔