لڑا دے ممولے کو شہباز سے

خان صاحب کی دھواں دھار اور دھمکیوں سے بھرپور تقریر سن کر پھر خیال آیاکہ پاکستان میں یار لوگ کیسے ممولے کو شہباز سے لڑانے کے ماہر ہیں۔
جس روز عمران خان کو پشاور میں ہونا چاہیے تھا کہ وہاں اتنی بڑی ٹریجڈی ہو گئی تھی‘ وہ میلسی میں اپنا غصہ اتار رہے تھے۔ اگر میں غلط نہیں کہہ رہا تو اب تک وہ پشاور نہیں گئے‘ نہ ہی سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ شاید وہ اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ جس قوم کی رہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں‘ اسے بھی ان باتوں کی پروا نہیں رہی کہ کوئی اس کے غم میں شریک ہوتا ہے یا نہیں۔ لیڈرشپ سب جانتی ہے کہ یہ عوام کہاں جائیں گے۔ گھوم پھر کر انہی کی چرنوں میں جان دیں گے۔
یہ بات طے ہے کہ جو بھی پاکستانی حکمران یہ سمجھتا ہے اس کے اقتدار کا چل چلائو ہے وہ آخری نعرہ امریکہ کے خلاف لگاتا ہے۔ انیس سو اکہتر کے بعد امریکہ کو اپنے سب دکھوں کا ذمہ دار سمجھنا ہمارا ایک قومی فریضہ رہا ہے۔ پاکستانی آج تک ناراض ہیں کہ چھٹا بحری بیڑا کیوں نہ پہنچا۔ بروس ریڈل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ نکسن چینی سفیر سے ملا تاکہ وہ بھارت کے خلاف محاذ کھولیں اور پاکستانی فوج پر سے دبائو کم ہو۔ نکسن اس دوران مسلم ملکوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ امریکی اسلحہ پاکستان کو فراہم کریں کیونکہ امریکہ براہ راست نہیں دے سکتا تھا۔ چینی سفیر لوٹ کر ہی نہیں آیا۔ امریکہ کا خیال تھا کہ پاکستان لمبی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ لیکن بحری بیڑا آنے سے پہلے ہی جنگ ختم ہو چکی تھی۔ امریکہ نے پتہ چلانے کی کوشش کی کہ چینی اس موقع پر پاکستان کی مدد کو کیوں نہیں آئے۔ پتہ چلا کہ اندرا گاندھی اکہتر کی جنگ سے پہلے وائٹ ہائوس میں نکسن سے کہا تھا کہ وہ جنرل یحییٰ کو کہہ کر مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن رکوائیں کیونکہ لاکھوں بنگالی ریفیوجی بن کر ہندوستان آرہے تھے اور ان پر دبائو بڑھ رہا ہے کہ اس کا حل نکالیں۔ نکسن مسز گاندھی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ تب پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ اندرا گاندھی وہاں سے سیدھی ماسکو گئیں اور روس سے بات کی۔ روس کو پاکستان سے اس وقت سے چڑ تھی جب اس نے پشاور میں امریکہ کو روس کی جاسوسی کے لیے اڈے فراہم کئے تھے۔ اندرا گاندھی کو خطرہ تھا کہ اگر پاکستان پر حملہ کیا تو چین پاکستان کی مدد کو آئے گا۔ روس نے اس کا حل یہ نکالا کہ چین کو پیغام بھیجا کہ اگر بھارت کیساتھ سرحد کھولی تو روس بھی سرحد کھول دے گا۔ یوں چین پیچھے ہٹ گیا۔ اس طرح روس نے بھارت کو وہ تمام سپورٹ دی جو پاکستان کو توڑنے کیلئے ضروری تھی۔ آج تک ہم پاکستانی حیران ہیں کہ چین نے پاکستان کو ٹوٹنے سے کیوں نہ بچایا؟ کیوں نیوٹرل رہا۔ امریکی مورخین لکھتے ہیں کہ نکسن کی پاکستان سے دوستی کی امریکہ نے بڑی قیمت بھگتی کیونکہ بھارت اس سے دور ہوا جو اسکے سٹریٹیجک مفادات کیخلاف تھا۔ جب تک جمی کارٹر صدر نہیں بنا بھارت امریکہ تعلقات بہتر نہیں ہوئے۔ ہم آج اسی روس کی بانہوں میں بانہیں ڈالے رقص میں مصروف ہیں‘ جس نے پاکستان کو توڑنے میں مدد دی۔ دانشور کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بھی جواباً روس کو افغانستان میں پھنسا کر توڑا۔ آج وہی امریکہ ہمارا دشمن نمبر ون ہے‘ جس نے اس خطے میں اپنے تمام تر مفادات کو پیچھے ڈال کر پاکستان کو سپورٹ دی۔ ملکوں کے مفادات بدلتے رہتے ہیں۔ امریکن طعنے دیتے ہیں کہ آپ دو ہفتے سے زیادہ جنگ نہ لڑ سکے اور سارا الزام ہم پر ڈال دیا کہ بحری جہاز نہ پہنچا۔ جو قوم خود جنگ نہ لڑ سکے وہ دوسروں کو کیونکر طعنہ دے۔ یوکرائن کو کچھ بھی کہیں ان کے لوگ روس سے لڑ رہے ہیں۔ گوریلا جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔
پاکستان میں جب بھی کوئی لیڈر ڈومیسٹک ایشوز پر پھنس جاتا ہے تو اسے حب الوطنی اور قوم پرستی یاد آجاتی ہے اور قوم پرستی کی ٹھرک اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک امریکہ کو سب مسائل کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ بھٹو صاحب کو بھی یہی لگا تھا اور انہوں نے راجہ بازار جاکر تقریر ٹھوک دی کہ اس سے عوام ان کے پیچھے کھڑے ہو جائیں گے۔ انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ امریکہ انہیں مروانا چاہتا ہے۔ وجہ یہ بتائی کہ وہ ایٹم بم بنانا چاہتے ہیں اور امریکہ نہیں بنانے دیتا۔ پھر وہ بم جنرل ضیا نے امریکیوں کی مدد سے ہی بنایا۔ اگر امریکی ایٹم بم کی وجہ سے بھٹو کے دشمن تھے تو پھر انہوں نے برسوں جنرل ضیا کے بم سے نظریں کیوں چرائے رکھیں؟ یار لوگ کہیں گے افغانستان کی وجہ سے۔ وجہ جو بھی ہو اس سے اندازہ ہوا کہ بھٹو کا وہ انجام ایٹم بم کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ بھٹو کے خلاف بھی ان کے اپنے ہی استعمال ہوئے۔ نواز شریف کو بھی یہی لگا تھا کہ امریکہ ان کا دشمن ہے کیونکہ انہوں نے 1998 میں بل کلنٹن کے کہنے کے باوجود ایٹمی دھماکے کیے تھے۔
اب خان صاحب کو بھی یہی لگتا ہے کہ امریکہ ان کا دشمن ہے کیونکہ وہ امریکیوں کو اڈے نہیں دے رہے تھے۔ اڈوں کی بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ عمران خان انٹرویو میں فرما رہے تھے کہ امریکہ کو اڈے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف فارن آفس کہہ رہا تھاکہ امریکہ کے ساتھ اڈوں کی فراہمی کے پرانے معاہدے موجود ہیں۔ تیسری طرف سی این این خبر بریک کررہا تھا کہ عمران خان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف کی جینوا میں اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات ہوئی جس کے بعد کانگریس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں پیشرفت ہوچکی ہے۔اندازہ کریں کہ ملک کا وزیراعظم کیا فرما رہا ہے‘ اوراندر کھاتے ملاقاتیں کون کررہا اور امریکیوں کو تسلیاں دے رہا ہے کہ اڈوں کا معاملہ دیکھ لیں گے۔
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو جان بوجھ کر امریکہ سے ورکنگ ریلشن شپ قائم رکھنے سے دور رکھا گیا ہے۔ ان کے دماغ میں چند اہم لوگوں نے یہ بات ڈال دی کہ وہ بہت بڑے عالمی لیڈر ہیں۔ انہوں نے ہر ایرے غیرے امریکی کو گھاس نہیں ڈالنی۔ وہ صرف ٹرمپ سے ملاقات کریں گے یا پھر جو بائیڈن سے فون پر بات کریں گے۔ کسی اور کی نہ وہ فون کال سنیں گے نہ اس سے ملیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ اور طاقتور لوگ امریکیوں سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے‘ لیکن خان صاحب نے ملنے سے انکار کیا کہ یہ ان کا لیول نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکیوں کو یہ پیغام گیا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ان سے نفرت کرتی ہے لہٰذا اس سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ پیٹرن اٹھا کر دیکھ لیں تو بھٹو، نواز شریف اور اب عمران خان تک آپ کو ایک ہی بات سمجھ آئے گی کہ وہ سب خود کو اینٹی امریکہ لیڈر سمجھ کر آگے بڑھے کہ اس سے ان کی مقبولیت بڑھے گی‘ اقتدار بچ جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے وہ سیاسی قیادت جسے امریکہ کے زیادہ قریب ہونا چاہیے تھا‘ وہ امریکہ سے دور اور ہماری عسکری قیادت امریکہ کے قریب رہی ہے۔ اب اس اپروچ کا کس کو نقصان ہوا؟
ہمارے سیاسی لیڈرز اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے عوام کو بانس پر چڑھایا ہوا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی پر سودا نہیں کرتے‘ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ملک کا مفاد کس میں ہے۔
بہرحال خان صاحب شاید سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ بھی بھٹو کی طرح اینٹی امریکن نعرہ لگا کر عوام کے دلوں میں راج کریں گے۔ بھٹو کے ذہن میں بھی یہی بات بیٹھ گئی تھی، نواز شریف بھی اس سوچ کا شکار ہوئے، اور آج کل خان صاحب کو بھی بچت کا یہی اکیلا راستہ نظر آرہا ہے۔ یار دوست بھی کمال کرتے ہیں کہ ممولے کو شہباز سے لڑا کر خود ممولے کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر عمران خان ہی کرکٹر کے طور پر جنرل ضیا کو جپھیاں ڈال رہے تو سیاستدان بن کر جنرل مشرف جیسے حکمرانوں کے ریفرنڈم میں ووٹ بھی ڈلوا رہے ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں