خود ملزم‘ خود جیوری‘خود جج

یاد پڑتا ہے کہ پرویز مشرف دور میں پولیس ریفارمز کے نام پر پولیس آرڈر جاری کیا گیا جس میں پولیس کو بے پناہ طاقت دی گئی تو اس وقت کچھ حلقوں نے اس پر کچھ تحفظات کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ سابق پولیس افسر افضل شگری اس پروجیکٹ پر کام کررہے تھے جنہوں نے بعد ازاں نیشنل پولیس فاؤنڈیشن سے اسلام آباد میں کئی پلاٹ خاندان کے نام پر بٹور لیے۔ پولیس افسران کو لگا کہ یہ ڈی ایم جی افسران سے جان چھڑانے کا بہترین وقت ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس ایس ایس پی کا باس ہونے کا اختیار ختم کر دیا جائے تو پولیس بہت بہتر پرفارم کرے گی۔ پولیس اور ڈی ایم جی میں ہمیشہ جنگ رہی ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جو پولیس والا ڈی ایم جی افسر نہیں بن سکا وہ ڈی ایم جی کا دل و جان سے مخالف ہے۔ آپ کسی پولیس افسر سے مل لیں وہ گھنٹوں ڈی ایم جی افسران کی خامیاں بتائے گا اور پورے ملک کی خرابی کا ذمہ دار بھی قرار دے گا۔ ایک دفعہ ایک پولیس افسر سے اس موضوع پر بات ہورہی تھی اور وہ ڈی ایم جی افسران کی خامیاں گنوانے میں مصروف تھے تو میں نے ہنس کر پوچھ لیاکہ آپ کتنے نمبروں سے ڈی ایم جی افسر بننے سے رہ گئے تھے؟ ان کے منہ سے نکلا: بس چند نمبرز ہی تھے۔ انٹرویو میں دس نمبر اور مل جاتے تو میں ڈپٹی کمشنر ہوتا۔ میں نے کہا :تو اس کا غصہ ہے کہ دس نمبر کم ملے؟ آپ ڈی ایم جی میں ہوتے تو پولیس کی برائیاں کررہے ہوتے۔
افضل شگری جیسے افسروں نے پولیس کو وہ آزادی لے کر دی جس کا نتیجہ اس قوم نے بھگتا اور ابھی تک بھگت رہی ہے۔ زیادہ پیچھے نہیں جاتے‘ جو کچھ ماڈل ٹائون میں کیا گیا وہ آپ کے سامنے ہے کہ ایک بیریئر ہٹانے کے معاملے پر چودہ بندے مار دیے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ ان کے سر پر ان کے پولیس افسران بیٹھے ہیں جو ان کا مورال ڈائون نہیں ہونے دیں گے۔ ساہیوال میں ایک چھوٹی کار میں سوار پوری فیملی کو اڑا دیا کیونکہ وہ جو کبھی ڈپٹی کمشنر یا ڈی ایم جی کا ڈر تھا کہ انہوں نے ان کی رپورٹ لکھنی ہے یا ان کی انکوائری کرنی ہے وہ سسٹم ختم کر دیا گیا تھا۔ پولیس ریفارمز آرڈر کے تحت کمیٹیاں بنائی گئی تھیں کہ وہ تھانوں پر نظررکھیں گی‘ ان کمیٹیوں نے واچ ڈاگ کا کام کرنا تھا‘ مگر ایک قابلِ احترام فیڈرل سیکرٹری نے‘ جن کے والد صاحب جو خود اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے اور انہیں بھی ایک کمیٹی میں رکھا گیا‘ مجھے خود بتایا کہ پولیس نے ایک ایک ممبر کے ڈیرے اور گھر پر چھاپے مارنا شروع کر دیے کہ خبر ملی ہے کہ آپ کے ہاں اشتہاری چھپے ہوئے ہیں۔ اب بتائیں کس کی جرأت ہوگی کہ پولیس پر بنی کمیٹی میں شامل ہو کر عام انسانوں پر پولیس کے ظلم اور بربریت کو ہائی لائٹ یا انہیں سزا دینے کی سفارش کرے۔ اس کے بعد آپ نے کبھی سنا کہ وہ واچ ڈاگ کمیٹیاں کہاں گئیں؟ پولیس کو پتہ تھا کہ ڈپٹی کمشنر سے جان چھڑا لی تو ان کمیٹیوں کو بھی دیکھ لیں گے۔ اب یہ حالت ہوچکی ہے کہ پولیس بے لگام ہے۔ پنجاب میں تو ویسے بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے ذریعے ہی کام چلتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے سلیم صافی کے پروگرام میں پنجاب کلچر بارے کہا تھا کہ پنجاب میں شاید ہی کوئی ڈی پی او میرٹ یا ایمانداری دیکھ کر لگایا گیا ہو۔
ایک چیز آپ پولیس والوں میں مشترک دیکھیں گے کہ ان کے پیٹی بھائی جو بھی کر گزریں‘ بندے مار دیں‘ گھروں میں گھس جائیں‘ خواتین کو اٹھا لیں ان کے سابق اور سرونگ افسران انہی کا دفاع کریں گے۔اگران کے خلاف ایکشن لیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ مورال ڈائون ہو گیا۔ مطلب اگر پولیس کا مورال ہائی رکھنا ہے تو پولیس کو لوگوں کے گھروں میں گھس کر زیادتی کی اجازت دے دینی چاہیے۔ انہیں قتل کی اجازت ہو‘ بے حرمتی کی اجازت ہو۔ آپ نے کبھی سنا کہ ریٹا ئرڈ اور سرونگ پولیس افسران نے کبھی اجلاس بلا کر ایسے پولیس افسران کی مذمت کی ہو یا انہیں اپنی تنظیم سے نکالا ہو جو شہریوں پر ظلم کررہے ہیں؟ متعدد پولیس افسران اب کینیڈا کی شہریت لے چکے ہیں۔ یہاں لوٹتے ہیں اور بچوں کو کینیڈا میں گھر لے کر دیتے ہیں اور ہر ماہ تگڑا پیسہ بھی بھیجتے ہیں۔ روز کینیڈا سے کوئی نہ کوئی ای میل بھیج کر تفصیلات بھیج رہا ہوتا ہے کہ آج کون سا پولیس افسر شہریت لینے آیا ہوا تھا۔ ایک گریڈ انیس ، بیس کا افسر کیسے کینیڈا میں بچوں کو بیس بیس لاکھ ڈالرز کے گھر لے کر دے سکتا ہے؟ اس معاملے پر کوئی پولیس افسر نہیں بولے گا کہ کہیں ان کے شیروں کا مورال ڈائون نہ ہوجائے۔
ابھی لیہ کی مثال دیکھ لیں کہ کیسے دیہاتوں میں عام انسانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ہے۔ وہاں جو پولیس گردی ہوئی یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں۔ رات دو بجے ایک بکری برآمد کرنے کے نام پر درجن سے زائد پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی وارنٹ اور لیڈی پولیس افسر کے گھروں میں گھس کر خواتین کا جو حشر کیا وہ بہت سے لوگوں کو حیران کر گیا ہے کہ پولیس کس لیول تک گر چکی ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ خواتین افسران زیادہ حساس اور زیادہ ہمدرد ہوتی ہیںلیکن جب ایک بی ایس کی طالبہ‘ جو ایک مزدور کسان کی بیٹی ہے‘ اپنے ماں باپ کے ساتھ لیہ کی خاتون ڈی پی او سے ملی اور بتایا کہ رات دو بجے اس کے گھر میں درجن بھر پولیس والے آ دھمکے‘بدتمیزی کی‘ گالی گلوچ کی اور تیس بکریاں اٹھا کر لے گئے تو اسے جواب دیا گیا کہ تمہیں تو اٹھا کر نہیں لے گئے۔اس بچی کی وہ ویڈیو دیکھ لیں کہ اس کی کیا حالت ہوئی جب اسے یہ جواب دیا گیا۔ ویسے بھی ہمارے سرائیکی علاقوں میں زیادہ تر پولیس افسران لاہور اورنواحی علاقوں سے جاتے ہیں جو ہمارے علاقے کے لوگوں کو کم تر سمجھتے ہیں۔ ان کے تکبر اور ظلم کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں۔
اب جب یہ خبریں سامنے آئی ہیں تو آئی جی پنجاب رائو سردار نے مذکورہ ڈی پی او کو کہا ہے کہ آپ کے خلاف شکایتیں ہیں‘ بیٹا آپ اپنی انکوائری خود ہی کر لو۔ ظاہر ہے نتیجہ کلین چٹ کی صورت میں نکلے گا۔ افسران نے‘ جن کے اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر تیس بکریاں اٹھا لیںاور خواتین کے ساتھ بدسلوکی بھی کی‘ موقع پر جانے کے بجائے متاثریں کو لیہ بلوایا اور صبح نو بجے سے شام تک باہر زمین پر بٹھائے رکھا۔ اب وہ مظلوم دیہاتی پولیس کو ڈھونڈ رہے ہیں اور انکوائری افسران اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اندازہ کریں عام شہری کے ساتھ زیادتی کا مرتکب اپنے خلاف انکوائری بھی خود ہی کرے گا۔
پولیس گروپ نے جب سے ڈی ایم جی گروپ سے آزادی پائی ہے اور ان کے کاموں میں ڈپٹی کمشنر کا کوئی رول نہیں رہ گیا‘ اس کے بعد آپ نوٹ کریں پولیس کے اختیارات میں کتنا اضافہ ہوا۔ یہ لوگ ڈپٹی کمشنر سے کچھ ڈر جاتے تھے کہ وہ انکوائری یا رپورٹ میں کچھ خلاف نہ لکھ دے‘ مگر اب وہ ڈر بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب تو پولیس خود ملزم ہے‘ خود جیوری اور خود ہی جج ۔ یقین نہیں آتا تو لیہ جا کر دیکھ لیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں