پاکستان کا سستا ترین ملک ہونے کا حکومتی دعویٰ بے بنیاد ہے، کراچی چیمبر آف کامرس

کراچی چیمبر آف کامرس نے پاکستان کو دنیا کا سستا ترین ملک قرار دینے کا حکومتی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ نومبیو انڈیکس میں کم فی کس آمدنی، مہنگائی، غربت، بے روزگاری کو زیر غور نہیں لایا گیا۔

کراچی چیمبر کے صدر محمد ادریس نے کہا ہے کہ پاکستان کا سستا ترین ملک کا دعویٰ بے بنیاد اور زمینی حقائق کے منافی ہے، دنیا کے 139 ممالک کی اس درجہ بندی کو ہرگز مدنظر نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ یہ بنیادی طور پر کم کرایہ اور اشیائے خورونوش انڈیکس پر مبنی ہے جبکہ دیگر اہم اجزا جیسے فی کس آمدنی کی کم شرح، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری وغیرہ کو درجہ بندی کو حتمی شکل دیتے وقت زیرِ غور نہیں لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بدترین مہنگائی کے باعث پاکستان کی پوری آبادی بری طرح متاثر ہے، بنیادی طور پر یوٹیلیٹیز کی بلند قیمتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے تمام گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے غریب عوام کی زندگیوں میں مزید مشکلات کا سامنا ہے۔

محمد ادریس نے نشاندہی کی کہ عالمی بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والوں کی غربت کی شرح 3.2 ڈالر یومیہ آمدنی کے لحاظ سے پاکستان میں غربت کا تناسب 21-2020 میں 39.3 فیصد رہا جبکہ 40 فیصد گھرانوں کو اعتدال سے لے کر شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں