تحریک عدم اعتماد کے بعد

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جا چکی۔ اب گیند قومی اسمبلی کے سپیکر جناب اسد قیصر کی کورٹ میں ہے، نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں کہ کب وہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں، اور یہ تحریک رائے شماری کیلئے اُس کے سامنے رکھ دیں۔ آئین کے مطابق تو یہ سارا معاملہ دو سے تین ہفتے کے دوران نمٹا دینا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں کی طرف سے اجلاس جلد بلانے کی بات کی جارہی ہے۔ دونوں ہی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو طول نہیں دینا چاہیے۔ وزرائے کرام یہی فرما رہے ہیں، اور اپوزیشن لیڈر بھی، لیکن عملاً کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، مناسب ہوتاکہ جناب سپیکر بے یقینی کی فضا ختم کرنے کیلئے تیزرفتاری سے کام لیتے، لیکن یہ ان کی صوابدید پر ہے، وہ بہرحال تحریک انصاف کے رہنما ہیں۔ اسی کے زیرسایہ ان کی سیاست پروان چڑھی ہے،اس لیے وزیراعظم کی مشاورت (یارہنمائی) کے ساتھ ہی قدم بڑھائیں گے یا نہیں بڑھائیں گے۔ اپوزیشن توان سے سخت نالاں ہے، ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں، بلکہ یہ تک سوچا اورکہا جاتا رہا ہے کہ وزیراعظم سے پہلے ان کے ساتھ نمٹ لینا چاہیے تاکہ کسی فنی یا فقہی نکتے کا سہارا لے کروہ حکومت کی تقویت کا سامان نہ کر گزریں۔ سپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے رائے شماری خفیہ ہوتی ہے۔ دائیں ہاتھ کو پتہ نہیں چل پاتاکہ بایاں ہاتھ کیا کررہا ہے۔ فلور کراسنگ کا کوئی الزام لگ سکتا ہے نہ ہی اسمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، اس لیے سپیکر سے اگر پیشگی دو دو ہاتھ کرلیے جاتے، تو حکومت کے منحرف ارکان آزادانہ ہاتھ دکھا سکتے تھے، لیکن چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جس طرح ہوا، اوران کے خلاف تحریک عدم اعتماد جس طرح ٹھس ہوئی، شاید اس سے عبرت پکڑکر سپیکر کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔ براہ راست وزیراعظم پر حملہ کرنے کی ٹھانی گئی۔
یہ درست ہے کہ وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد آئینی راستہ ہے۔ اگر قومی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد انہیں حاصل نہیں رہتا توپھر ایوانِ اقتدار سے رخصت ہونا لازم ہے‘ لیکن جس طرح طلاق حلال اور جائز ہوتے ہوئے بھی ناپسندیدہ فعل ہے، اس پراظہارِ مسرت نہیں کیا جاتا، اورشرفا کے ہاں تواس کا تصورہی ممکن نہیں ہوتا، اسی طرح تحریک عدم اعتماد بھی آئینی اورقانونی ہونے کے باوجود پارلیمانی نظام کو مرغوب و مطلوب نہیں ہوتی۔ اسی لیے اس آپشن کو بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں آج تک دوہی مواقع پر اس سے استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی، ایک محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف، اور دوسرے جناب شوکت عزیز کے خلاف، لیکن دونوں بار محرکین کوناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ برطانیہ اور بھارت میں بھی چند ہی واقعات ایسے ہوئے کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کوگرایا گیا ہو۔ اگر ایک جماعت کواسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوتو پھر وہاں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اگر برسراقتدار جماعت اپنے وزیراعظم سے مطمئن نہ ہوتو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بُلاکر عدم اعتماد کا اظہارکیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم اس کے بعد گھر کی راہ لے لیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں یہ کھیل کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جہاں مخلوط حکومتیں قائم ہوں‘ وہاں اگرکوئی کولیشن پارٹنر اپنی حمایت واپس لے لے، تو وزیراعظم اپنا استعفیٰ پیش کردیتا یا نئے حلیف تلاش کرکے اپنی اکثریت ثابت کردیتا ہے۔ پاکستان میں اِس وقت تحریک انصاف کی مخلوط حکومت قائم ہے۔ مسلم لیگ(ق)، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو ساتھ ملاکر اکثریت بنائی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی حکومتی اتحادی نے ابھی تک اپنا راستہ جدا نہیں کیا۔ اگرایسا کر لیا جاتا تو حکومتی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ جاتی۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن ارکان نے پیش کی ہے۔ اتحادی ابھی تک گومگو میں ہیں، وہ سودے بازی یا معاملہ سازی میں مصروف ہیں۔ اپنی اپنی شرائط لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، اور بھائو تائو کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں البتہ بغاوت برپا ہے۔ جہانگیرترین کی قیادت میں بغاوت ہوچکی ہے۔ عبدالعلیم خان نے بھی جھنڈا اٹھا لیا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوپا رہاکہ باغیوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ تحریک انصاف کو انہوں نے سخت الجھن میں مبتلا کررکھا ہے۔ اُس کی طرف سے دھمکایا جارہا ہے کہ باغیوں کے ووٹ نہیں گنے جائیں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پارٹی لیڈرشپ اپنے ارکان کواجلاس سے غیرحاضر رہنے کی ہدایت جاری کردے گی۔ اگر تحریک انصاف کا کوئی رکن اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسمبلی میں پہنچے گا توسپیکر اُس کو ووٹ ڈالنے نہیں دیں گے، اوریوں وہ اپنا سا منہ لے کررہ جائے گا۔ فواد چودھری اوران کے برادرِ اصغر فیصل چودھری اس نکتے پر زور دے رہے ہیں جبکہ وکیلوں کے کئی چودھری انہیں بے نقط سنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپیکرکسی رکن کا ووٹ گننے سے انکارکر سکتا ہے، نہ کسی کو ووٹ ڈالنے سے روک سکتا ہے۔ فلور کراسنگ کا الزام ووٹ دینے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا، اس پر کارروائی کیلئے دستور میں دیئے گئے طریق کارکے مطابق آگے بڑھنا ہوگا۔ اس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ گویا کوئی منحرف رکن ووٹ ڈال بھی سکے گا، اس کا ووٹ گنا بھی جائے گا، اُس کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ بعد میں طے ہوگا کہ قتل ہوگا، توہی کسی کو قاتل قراردیا جائے گا۔ ایک نکتہ یہ بھی تراشا گیا ہے کہ اگرکوئی رکن پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ دے گا توپھر وہ تاحیات نااہل ہوجائے گا، گویا اس کی نااہلی صرف ایک ٹرم کیلئے نہیں ہوگی۔ اب تک یہی سمجھا جاتا رہا ہے، اوریہی ہوتا چلا آیا ہے کہ ڈی سیٹ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی سیٹ خالی ہوگئی، آپ نئے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، کسی دوسری جماعت کے ٹکٹ پر یا آزاد۔ تاحیات نااہلی کا ڈراوا دے کر منحرفین کے پائوں تلے سے زمین نکالی جارہی ہے۔ اس کا ایک توڑیہ ڈھونڈا گیا ہے کہ منحرف ارکان اگر اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں توبھی حکومتی اکثریت متاثر ہوجائے گی کہ ایسی صورت میں ہائوس 342 ارکان کا نہیں رہے گا،چھوٹا ہوجائے گا، اورتحریک عدم اعتماد منظور کرانے کیلئے 172 سے کم تعداد مطلوب ہوگی۔ ان نکتہ طرازیوں کے ساتھ ساتھ فریقین غم و غصے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو اپنے الفاظ پر قابو ہے نہ اپوزیشن کو، ایک دوسرے کوایسی ایسی سنائی جارہی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے اندر منظور یا مسترد ہونی ہے، میدانوں میں جلسے کرنے، ایک دوسرے پرچڑھ دوڑنے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کو وقار اور اعتماد کے ساتھ تحریک کا سامنا کرنا چاہیے، اور اپوزیشن کو بھی ایوان پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ جذبات کو بھڑکانے اور اشتعال دِلانے سے راکھ توبنائی اور اڑائی جا سکتی ہے، قصرِ جمہوریت کو مضبوط نہیں بنایا جا سکے گا۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے رہنما
گزشتہ چند روز کے دوران نظریہ پاکستان ٹرسٹ کودو صدمے برداشت کرنا پڑے۔ اس کے چیئرمین اور سابق صدرِ پاکستان جناب جسٹس(ر) محمد رفیق تارڑ مرحوم نے طویل علالت کے بعد داعیٔ اجل کو لبیک کہا، اور جمعہ کے دن اس کے مستعد اور توانا سیکرٹری شاہد رشید اچانک دِل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ مرحومین کا تفصیلی تذکرہ پھر ہو گا۔ دِل صدمے سے نڈھال ہے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے رفقا کے لیے یہ شدید صدمے کے لمحات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں