ایک نایاب استاد کی رحلت

پروفیسر ڈاکٹر مجاہد علی بھی اپنے رب کے ہاں حاضر ہو گئے۔ اب زندگی کا وہ پہر شروع ہو گیا ہے کہ دوستوں کے حوالے سے دو قسم کی اطلاع ملتی ہے۔ کسی کے بچے کی شادی میں شرکت کا سندیسہ موصول ہوتا ہے یا کسی دوست کی رخصتی کی اطلاع ملتی ہے۔
خوش باش، ہنس مکھ، مردانہ وجاہت سے بھرپور اونچے لمبے ڈاکٹر مجاہد علی میرے یونیورسٹی کے استاد تھے اور میرے دوست بھی۔ دوستی ایسی کہ بس ایک خاص حد تک بے تکلفی کے بعد ایک حد آجاتی تھی۔ یوں سمجھیں کہ درمیان میں احترام کا ایساپردہ تھا جیسا گائوں کی خواتین اپنے گائوں کے مردوں سے کرتی ہیں کہ دوپٹے یا چادر کا پلو آدھے چہرے پر ہوتا ہے، یعنی چہرہ دکھائی بھی دے رہا ہے اور پردے کا التزام بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔
اگرچہ یہ لکھتے ہوئے اب شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے تاہم ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ اپنے بارے میں نہ لکھے تو اور بات ہے لیکن جب لکھے تو ڈنڈی نہ مارے۔ اور سچ یہ ہے کہ میں کوئی بہت اچھا طالبعلم نہیں تھا۔ دو تین خرابیوں نے اچھا طالبعلم بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ ایک تو طلبہ سیاست میں گوڈے گوڈے پھنسا ہوا تھا دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ تب غصے اور طبیعت کے جارحانہ پن کی وجہ سے راہ چلتے لڑائی مول لینا شاید میرا پسندیدہ کام تھا اور تیسرا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اپنے بارے میں ذہین ہونے کا خناس دماغ میں سمایا ہوا تھا‘ اور اس بات کا ادراک ہو چکا تھاکہ سمسٹرکے امتحانات میں آخری رات پڑھ کا پاس ہو جانا کوئی مشکل کام نہیں لہٰذا آخری دن کے علاوہ پڑھنا اپنے اوپر حرام کررکھا تھا۔ ہر بار پینسٹھ فیصد سے زائد نمبر آجاتے تھے اور یہی ہمارا ٹارگٹ ہوتا تھا۔ جب آپ اپنا ٹارگٹ آسانی سے حاصل کرلیتے ہوں تو محنت کون کرے؟ ایم بی اے کے کورس کی کتابیں تب اول تو مارکیٹ میں ملتی نہیں تھیں اور اگر ملتی بھی تھیں تو بہت ہی مہنگی۔ اتنی مہنگی کہ ہماری دسترس سے باہرہی سمجھیں۔ لائبریری میں کتابوں کی تعداد محدود ہوتی تھی اور ان کتابوں کیلئے طلبہ کے گروپس بنے ہوئے تھے جن کو مشترکہ طور پرکتاب ملتی تھی جو وہ مل جل کر پڑھ لیا کرتے تھے۔ ہر طالبعلم گروپ بناتے ہوئے جھٹ سے میرا نام لیتا تھا۔ ہمارے ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمود بودلہ صاحب نے میری اس مقبولیت کی وجہ دریافت کی توپتا چلاکہ میں کلاس کا واحد طالبعلم ہوں جو اپنے گروپ کے دیگر طلبہ سے کتاب نہیں مانگتا۔
دوسرے سمسٹر کے بعد مجھے لڑائی جھگڑے اور دنگا فساد کے جرم میں یونیورسٹی سے دو سال کیلئے نکال دیا گیا۔ یہ مدت دو سال کے بجائے تین سال ہوگئی۔ یہ ایک بالکل علیحدہ کہانی ہے تاہم جب میں یونیورسٹی میں دوبارہ داخل ہوا تو شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں کئی نئے استاد آ چکے تھے۔ ان میں سہیل ظفر، شکیل احمد، ڈاکٹر ظفراللہ اور مجاہد رفیق شامل تھے۔ تب مجاہد صاحب نے ڈاکٹریٹ نہیں کی تھی اور ان کا نام بھی مجاہد رفیق تھا۔ بعد ازاں انہوں نے پی ایچ ڈی کرلی اور اپنا نام مجاہد رفیق سے مجاہد علی کرلیا۔ اللہ جانے اس میں کیا رمز تھی۔ نہ ہم نے کبھی پوچھا‘ نہ انہوں نے بتایا۔ نوجوان اساتذہ میں ڈاکٹر مجاہد علی سب سے سخت، نظم و ضبط کے پابند، کسی حد تک بے لچک اور پڑھائی کے معاملے میں کسی رعایت کے قائل نہیں تھے۔ تب لڑکے ان سے بہت ہی تنگ رہتے تھے۔ ہمہ وقت ”کوئیز‘‘ (بغیر اطلاع کے اچانک لیا جانے والا ٹیسٹ) لینے پر تیار اور ہر ہفتے دس پندرہ صفحات پر مشتمل کوئی نہ کوئی کیس سٹڈی ہاتھ میں تھما دیتے کہ اسے تیار کرکے آؤ۔ یہ سلسلہ تین سمسٹر تک بھگتنا پڑا۔ یہ ان ڈیڑھ سال میں پڑھے جانے والے پندرہ مضامین میں سے تین کورس تھے جو مجھے آخری دن کے علاوہ بھی پڑھنے پڑے۔ میری ان سے اسی دوران دوستی بھی ہوگئی مگر ان کی نظرکرم و التفات کا یہ عالم تھاکہ میں ان طلبہ میں سے تھا جن پراُن کی سختی کا نزلہ زیادہ گرتا تھا۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد جب ان کا پڑھایا ہوا کام آیا تو ہر لمحہ ان کیلئے دل سے دعائیں نکلتی رہیں۔ ایک دن تعلیمی انحطاط کا ذکر چل نکلا تو نہایت افسردہ ہوگئے۔ میں نے ان کو تشفی دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو مجھ جیسا نالائق طالب علم بھی دیکھا ہے تو اب ملال کیسا؟ ایک دم سے سنجیدہ ہوگئے اورکہنے لگے: ایمانداری کی بات ہے‘ اب ایسے ایسے لوگ یونیورسٹی میں پڑھانے پر مامور ہیں کہ تم ان سے سو گنا زیادہ بہتر طالب علم تھے‘ اب اس سے تم اندازہ لگا لو کہ وہ کیا پڑھا رہے ہوں گے اور فارغ ہونے والے طلبہ کا کیا معیار ہوگا؟
چالیس سال پر مشتمل اس تعلق اور دوستی میں ایک واقعہ ایسا ہواکہ میں اس پر عشروں شرمندہ رہا۔ باوجود اس کے کہ میں طبعاً جھگڑالو تھا پوری زندگی میں ایسا نہیں ہواکہ میں نے کبھی اپنے کسی استاد کے ساتھ نظریں ملاکر بات کی ہو، اسے آگے سے جواب دیا ہو یا اس کے بارے میں کبھی سوچا بھی ہو مگر خدا جانے اس روز کیا ہواکہ میں تمام تر خوشگوار تعلقات اور بطور استاد مجاہد صاحب کی بے پناہ عزت کرنے کے باوجود ان کی طرف سے امتحان کی تاریخ مقرر کرنے پر اڑ گیا۔ مجاہد صاحب بھی بڑے دبنگ اور بے لچک استاد تھے‘ کہا: جس نے اس تاریخ پر پیپر دینا ہے وہ دے اور جس نے نہیں دینا وہ خود کو فیل تصور کرے۔ تاریخ کا معاملہ ٹیکنیکل تھا اور طلبہ یونینز کے الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو چکا تھا۔ مجاہد صاحب نے میری بات سن کر میز پر مکہ مارا اورکہا: امتحان اسی تاریخ کو ہوگا۔ میں نے مجاہد صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: دیکھتے ہیں پیپر کس طرح ہوتا ہے؟ وہاں سے میں سیدھا وائس چانسلر کے پاس گیا۔ تکنیکی مسئلے کے باعث امتحان کی تاریخ تو تبدیل ہوگئی لیکن تعلقات بگڑگئے۔ گوکہ بعد میں یہ آہستہ آہستہ نارمل اور پھر دوبارہ پہلے جیسے ہوگئے مگر دل میں ایک ملال تھا جو عشروں کسک بن کر آزار دیتا رہا۔ بارہا سوچا کہ ان سے معافی مانگ لوں مگر پھرڈر سا جاتاکہ کہیں مجاہد صاحب نئے سرے سے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ بھی بلاوجہ کا خوف تھا۔ بھلا وہ بھی اب کب پہلے جیسے ہمہ وقت غضب کے گھوڑے پر سوار رہنے والے مجاہد صاحب کہاں تھے؟ مگر بس ایسا ہی ہوا۔ پھر یوں ہواکہ مجاہد صاحب دل کے عارضے کے باعث ہسپتال کے آئی سی یو میں تھے۔ میں وہاں گیا اور مجاہد صاحب کے پاؤں دباتے ہوئے ان پر سر رکھا اور رو پڑا۔ مجاہد صاحب پریشان ہوگئے اور پوچھنے لگے: خیریت ہے؟ میں نے کہاکہ عشروں سے ایک بوجھ اٹھائے پھررہا تھا‘ آپ اس بوجھ کو اتارنے میں میری مدد کریں۔ انہوں نے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں ان کے قریب گیا تو انہوں نے میرا منہ چوم لیا۔ ان کی آنکھیں بھی جھلملا رہی تھیں۔
ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ پہلے یہ تشخیص ہواکہ انہیں آخری سٹیج کا بلڈ کینسر ہے اور وہ آٹھ دس روز میں ہی اپنے اللہ کے ہاں حاضر ہوگئے۔ میرے مالک نے مجھے عمربھر کے ملال سے بچا لیا۔ ان کی تعلیمی سختی نے عملی زندگی میں ہر لمحہ مدد کی اور ان کیلئے دل سے دعائیں نکلتی رہیں۔ وہ اپنی نوعیت کے اساتذہ کی علم دوست قبیل کے اس آخری گروہ کاایک روشن ستارہ تھے جو ناپید ہونے کے قریب ہے۔ اللہ رحمان و رحیم مجاہد صاحب پر اپنا خاص کرم فرمائے۔ مجھے جب ان کے لاہور میں ہونے والے جنازے کی خبر ملی تب میں سرگودھا میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیر سایہ یتیم اور نادار طالب علموں کیلئے فنڈ ریزنگ میں مصروف تھا۔ میں نے اللہ کے ہاں عرض کی کہ وہ میری اس کاوش کو اپنے ہاں مجاہد صاحب کے جنازے میں شرکت کے بدلے قبول فرمائے۔ دل میں ایک خاص اطمینان کی لہر سی محسوس ہوئی۔ یہ تبھی ہوتا ہے جب وہ رحیم و کریم آپ کی دعا کو قبولیت عطا فرماتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں