16 دسمبر، ہمیں سکھا گیا!

16دسمبر کا دن دو سانحوں کی یاد دلاتا ہے، ایک تو سقوطِ ڈھاکہ، کہ یہ زخم کبھی بھرنے والا نہیں ہے، اور دوسرا، سات سال پہلے ہونے والا پشاور کے آرمی پبلک سکول (APS) پر دہشت گردوں کا حملہ۔ اس میں لقمۂ اجل بننے والوں میں ایک سو تینتیس بچے تھے۔ ہنستے کھیلتے طلبا اور طالبات جو اپنے ننھے منے ہاتھوں میں بھاری بھرکم بستے اٹھائے، اور خوابوں میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے اپنی درسگاہ میں آئے تھے، جن کی مائیں اور بہنیں اپنی اپنی دہلیز پر نگاہ جمائے ان کی واپسی کے لمحات گن رہی تھیں، سنگدل دہشتگردوں نے ان کے خون کی ہولی کھیل کر پوری پاکستانی قوم کو خون کے آنسو رلا دیا۔ یہ آنسو ابھی تک خشک ہونے میں نہیں آ رہے۔ ہر سال 16دسمبر آ کر خون کے سارے دھبوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے، اور ہم سوالیہ نشان بن کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ع
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
اس کے ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑجاتی ہے کہ ہم نے کسی سانحے سے کوئی سبق بھی سیکھا ہے یا نہیں۔ کئی دانشور اور تجزیہ کار نفی میں سر ہلانے لگتے ہیں۔ انکا اصرار ہے کہ کسی سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ ہم بحیثیت قوم اسی راستے پر گامزن ہیں، غلطیاں دہرا رہے ہیں، اور حماقتوں پر اِترا رہے ہیں، کچھ کرکے دکھا نہیں پا رہے۔ اسے روایتی تجزیہ کاری یا تجزیہ نگاری بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ محاورہ یاد کرتے کرتے عمر گزاری ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی سبق حاصل نہیں کرتا، لیکن اگر کھلی آنکھوں سے گزشتہ ماہ و شب کا جائزہ لیا جائے، تو ماننا پڑتا ہے کہ ہم نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے، اور ہر سانحے نے کچھ نہ کچھ بدلا ضرور ہے۔ اس سال دسمبر کے مہینے میں پاکستان کے انتہائی ممتاز دانشور جاوید جبار کی لکھی ہوئی، اور انہی کی نگرانی میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر تیار ہونے والی دستاویزی فلم کی، لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں نمائش ہوئی، اس میں حقائق اس انداز سے پیش کیے گئے ہیں کہ اپنے اور پرائے سب سامنے آ جاتے ہیں۔
1971ء کی جنگ کیوں شروع ہوئی، وہاں پاکستانی فوج کی تعداد کتنی تھی، کتنے قیدی بنائے گئے؟ انسانی جانوں کا زیاں کتنا ہوا، عزتوں کو کس نے کس کس طرح پامال کیا؟ ہندسوں کو ضرب کس کس طرح دی گئی، پروپیگنڈے کے بل پر جھوٹ کا نام سچ کیسے رکھا گیا؟ رائی کا پہاڑ کیسے بنایا گیا؟ ان سب سوالات کے جواب جاوید جبار صاحب اور ان کی ٹیم نے دینے کی کوشش کی ہے، لیکن اپنی طرف سے نہیں، بھارتی، بنگلہ دیشی اور مغربی ذرائع کی زبان سے کوئی بات مستند حوالے کے بغیر نہیں کی گئی۔ یہ فلم جو درجنوں کتابوں پر بھاری ہے اسے ہر ہر پاکستانی کو دیکھنا چاہیے، ہر ہر یونیورسٹی، کالج اور سکول میں اسے دکھایا جانا چاہیے کہ مستقبل کو زیر کرنے کیلئے ماضی سے آگاہی لازمی ہے۔ اسی المیے کے حوالے سے کراچی میں چند نوجوانوں نے ایک فیچر فلم بھی بنائی ہے، ”کھیل ہی کھیل میں‘‘ اس کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ اسے ابھی تک دیکھ نہیں پایا، اس لیے فی الحال تفصیلاً کچھ عرض کرنے کے قابل نہیں ہوں، ان بچوں کو داد البتہ دی جانی چاہیے کہ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے تاریخ کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر جنید احمد کی کتاب ”بنگلہ دیش کی تخلیق‘‘ جھوٹی کہانیوں کو بھک سے اڑا دیتی ہے۔ پانچ سال پہلے شائع ہونے والی یہ دھماکہ خیز کتاب اب تک دو لاکھ سے زیادہ شائع ہو چکی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی قبولِ عام حاصل کر چکا ہے۔ اس سال دسمبر ہی کے مہینے میں ڈاکٹر صاحب نے اسلام آباد اور لاہور میں خصوصی لیکچر دیے۔ لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وسیع بخاری آڈیٹوریم میں وائس چانسلر جناب ڈاکٹر اصغر زیدی نے ان کا خیر مقدم کیا۔ اساتذہ اور طلبہ بہت بڑی تعداد میں انہیں سننے کے لیے اکٹھے ہوئے، اور ڈاکٹر صاحب نے ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک اپنے نتائج تحقیق سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بھی بھارتی اور بنگلہ دیشی ذرائع پر بھروسہ کیا ہے، پاکستانی حوالے سے اپنی بات بڑھانے یا بنانے کی کوشش نہیں کی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیسے بنا، تکلیف دہ واقعات کا ایک ایسا سلسلہ ہے، جو برسوں کو محیط ہے، اسے اس کے صحیح تناظر میں سمجھنا لازم ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے یہ شرطِ اول ہے۔ اگر دو لفظوں میں اس کہانی کو سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ… انڈیا، اور مارشل لا… دونوں نے مل کر یہ قیامت ڈھائی۔ دونوں میں سے کوئی ایک نہ ہوتا تو یہ سانحہ اس طرح پیش نہ آتا، جس طرح 16دسمبر 1971ء کو پیش آیا۔ مارشل لاء کے نفاذ نے وہ حالات پیدا کئے، جن میں بھارتی سازشوں کو بروئے کار آنے کا موقع ملا۔ اگر ایوب خان کا مارشل لا نہ لگتا، تو یحییٰ خان کے مارشل لا سے بھی پالا نہ پڑتا۔ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کے قد بھی اتنے بڑے نہ ہوتے، اور اگر ہوتے بھی تو انہیں ایک دوسرے سے اس طرح ٹکرانے کا موقع نہ ملتا۔ اگر یہ سب کچھ ہو جاتا لیکن بھارت ہمارا ہمسایہ نہ ہوتا، اندرا گاندھی جیسی کوتاہ نظر وہاں کی وزیراعظم نہ ہوتی تو ہمارا داخلی جھگڑا داخلی رہتا، ایک دوسرے سے ٹکرانے والے اپنا اپنا سر لے کر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہتا۔ بھارتی جارحیت کیلئے ماحول سازگار بنانے والے، جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں سے کم ضرر رساں تو نہیں ثابت ہوئے۔
سرنڈر کی ذلت اٹھانے کے بعد پاکستانی قوم نے اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ہی پچھتاوے کے کسی لمحے میں اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر ہم ایٹمی طاقت ہوتے تو بھارت کو ہم پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہو سکتی، سو ہمیں یہ صلاحیت حاصل کرنی چاہیے، اور الحمدللہ ہم نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ سقوطِ ڈھاکہ کا یہ پہلا سبق تھا، جو ہم نے حاصل کیا۔ دوسرا بڑا سبق یہ حاصل کیاکہ دستور اتفاقِ رائے سے بنانا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو ہی کی قیادت میں یہ معرکہ بھی سرکر لیا گیا۔ 1973ء کا دستور ان تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مشاورت سے تیار ہوا جو پارلیمنٹ میں موجود تھیں۔ تیسرا سبق جو سیکھا گیا، وہ یہ تھا کہ دستور کی بہرقیمت حفاظت ہونی چاہیے۔ پاکستان کو کسی طور دوبارہ دستور سازی کی مشق میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ سو، مارشل لا تو لگتے رہے، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف دونوں نے طویل عرصہ اقتدار سنبھالے رکھا، لیکن دستور کو منسوخ نہیں ہونے دیا۔ اسے ”زیر التوا‘‘ رکھا گیا، گویا فریزر میں منجمد پڑا رہا، جونہی باہر نکال کر تھوڑا سا گرمایا، اس نے آنکھیں کھول دیں، اور ہم نے اس کی انگلی پکڑ لی۔
اے پی ایس کے سانحہ کے بعد سیاسی اور فوجی قیادت یکجا ہوئی، نیشنل ایکشن پلان بنا، اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ کا ایسا آغاز کیا گیا، سر پر کفن اس طرح باندھا گیا کہ ان پر پاکستان کی زمین تنگ ہوگئی۔ پورا قبائلی علاقہ انکے وجود سے پاک کردیا گیا، ایک ایک کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ سکول پر حملہ کرنے والے چند تو موقع پر مارے جا چکے تھے، پانچ کو میدانِ جنگ میں نشانِ عبرت بنا ڈالا گیا۔ ایک کی اپیل ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ منصوبہ ساز بھی واصلِ جہنم ہوئے۔ افغانستان سے اڑھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد پر باڑ لگانے کا معجزہ کر دکھایا گیا۔ شہدا کے وارثوں کیلئے کروڑوں روپے مختص کیے گئے، انکی دلجوئی کی ہرممکن کوشش ہوئی، انہیں عمرے کی سعادت نصیب ہوئی، بیت اللہ میں پہنچ کرانہوں نے اپنے شہیدوں کیلئے، غازیوں کیلئے، وطن کیلئے اور ہم وطنوں کیلئے دُعائیں مانگیں، انہی دعائوں کی بدولت ہم آج سُکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ دہشتگردی ایک بھیانک خواب کی طرح ہماری نگاہوں سے رفو چکر ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں