’’ہور چوپو گنے‘‘

میری تازہ ترین معلومات کا ذریعہ دوست ہیں‘ مگر یہ راوی ثقہ‘ بااعتبار اور باخبر ہیں۔ سو ان کی روایت سے نتائج اخذ کرنے میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ ہی کوئی قباحت۔ مزید یہ کہ اس تازہ ترین صورتحال کے پس منظر میں بہت سی چیزوں سے میں خود بھی اچھی طرح آگاہ ہوں۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک پہلی صف کے رہنما نے مجھ سے پوچھا کہ ملتان کے حلقہ این اے 157میں مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کھڑا ہونے کی صورت میں آپ کے خیال میں کیا صورتحال ہو گی (ابھی غفار ڈوگر کو وزیراعظم کا معاون خصوصی بنا کر معاملہ سیدھا نہیں کیا گیا تھا اور غفار ڈوگر ٹکٹ سے مایوس ہو کر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا سوچ رہے تھے) میں نے کہا: آپ میری عادت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ میں سوال کے جواب میں کسی پسند نا پسند یا مصلحت سے ہرگز کام نہیں لیتا اور جس بات کو عقلی طور پر درست سمجھتا ہوں وہ کہہ دیتا ہوں۔ ممکن ہے میں اس میں غلطی کر جاؤں‘ مگر جھوٹ نہیں بولتا۔ غلطی اور غلط بیانی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ علی موسیٰ گیلانی کو چار پانچ ماہ پہلے اس حلقے میں اپنے حریفوں پر جو سبقت دکھائی دیتی تھی وہ اب نہیں ہے۔ آپ کے امیدوار نے اس بار بھی تیسرے نمبر پر آنا ہے۔ اور نہ صرف تیسرے نمبر پر آنا ہے بلکہ پہلے سے بھی کم ووٹ لینے ہیں۔ تاہم آپ کے امیدوار کی موجودگی کی صورت میں علی موسیٰ گیلانی نے شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی کے مقابلے میں جو مقابلے کی فضا بنانی تھی وہ نہیں بن پائے گی اور آپ کا امیدوار علی موسیٰ گیلانی کی باآسانی شکست اور مہر بانو قریشی کی فتح کو باسہولت بنانے میں اپنا پورا حصہ ڈالے گا۔ مسلم لیگ (ن) کا وہ رہنما اس حلقے کو پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کیلئے خالی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اور یہاں سے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کھڑا کرنے کے حق میں تھا کہ اس کے بقول اگر ہم یہ حلقہ اب چھوڑ دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم مستقبل میں اس حلقے سے مستقل آؤٹ ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال دیکھ کر وہ کہنے لگا کہ اگر غفار ڈوگر کو ٹکٹ نہ دیں تو کیا ہوگا؟ میں نے کہا کہ آپ کو تو علم ہے کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں اور میں نہ صرف یہ کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی سیاست کو پسند نہیں کرتا بلکہ آپ کے متوقع امیدوار کے بارے میں خاصی بری رائے رکھتا ہوں مگر آپ کے سوال کا جواب اس ایمانداری سے دے رہا ہوں جو کسی مشورہ مانگنے والے کو اخلاقی تقاضوں اور حضرت محمدﷺ کے فرمان کے مطابق دینا چاہیے۔ اور جواب یہ ہے کہ اگر آپ نے غفار ڈوگر کو اس کی مرضی مطابق راضی نہ کیا تو وہ اس حلقے میں وہی کچھ کریں گے جو پی پی 217 میں آپ کے اس حلقے میں‘ اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس‘ آپ کے متوقع امیدواروں نے کیا تھا اور آپ کی شکست کو مزید یقینی بننے میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ اس دوست نے کہا کہ میں سمجھ گیا اور بات ختم ہو گئی۔
دو روز بعد میں نے پڑھا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے متوقع امیدوار غفار ڈوگر کو وزیراعظم میاں شہباز شریف کا معاون خصوصی بنا دیا ہے۔ میں اللہ کی شان اور بے نیازی پر انگشت بدنداں ہوں کہ کیا وقت آ گیا ہے اور کیسے کیسے لوگ معاون خصوصی بنائے جا رہے ہیں۔ پہلے تو یہ تھا کہ صرف رکن اسمبلی اور وزرا ہی نالائق اور نااہل ہوا کرتے تھے کہ ان کا کام کرنے کیلئے خاصے پڑھے لکھے لوگ موجود ہوتے تھے مگر مشیر اور معاون خصوصی تو ایسے لوگوں کو لگایا جاتا تھا جو علم و حکمت سے مالا مال ہوں اور اپنے سے کم علم حکمرانوں کو مشورہ دے سکیں‘ مناسب راستہ دکھا سکیں اور متوقع غلطیوں سے بچا سکیں‘ لیکن اب سب کچھ تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے لوگوں کو مشیر اور معاونِ خصوصی بنایا جا رہا ہے کہ قربِ قیامت کی نشانیوں کی یاد تازہ ہوتی جا رہی ہے۔ شاہ جی سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ وہ وزیراعظم کو ڈیری ڈیویلپمنٹ پر اپنے تجربے سے مستفید فرمائیں گے۔
پرانی بات ہے ایک دوست نے بتایا کہ وہ اپنے ایک افسر دوست کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس دفتر اور افسر کا اتا پتا اور عہدہ وغیرہ اس لیے نہیں لکھ رہا کہ وہ چھپنا تو ہے نہیں پھر فضول میں لکھنے کا بھلا کیا فائدہ؟ بعض موقعوں پر مصنف کسی بری اور ناقابلِ بیان صورتحال کے بارے میں لکھتے لکھتے رک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ”آگے آپ خود ہی سوچ لیں کہ کیا ہوا ہو گا‘‘۔ قارئین اس جملے کو پڑھنے کے بعد اپنے خیالات کا گھوڑا اس سے بھی کہیں آگے لے جاتے ہیں جہاں تک مصنف کے خیال کے گھوڑے نے زقند بھرنی تھی۔ اسی اثنا میں اس افسر کے دروازے پر کھڑے ہوئے دربان نے اندر آ کر اطلاع دی کہ فلاں ڈوگر آیا ہے۔ جواباً اس افسر نے دراز سے ایک لفافہ نکال کر اپنے دربان کو دیا اور کہا کہ جا کر ڈوگر کو دے دو اور معاملہ ختم ہو گیا۔ میرے دوست کے چہرے پر سوالیہ تاثرات دیکھ کر وہ افسر کہنے لگا: یہ بندہ ہمارے کام آتا رہتا ہے۔ اب یہ یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن لڑ رہا ہے۔ اسے یہ دو تین سو بیلٹ پیپر دیے ہیں۔ اس کی جیت یقینی بنانے کیلئے اتنے ہی ووٹ درکار ہیں۔ میرا دوست کہنے لگا: آپ اس بندے کو جانتے ہیں؟وہ افسر ہنس کر کہنے لگا: اتنا تو ضرور جانتا ہوں جتنا آپ جانتے ہیں لیکن جو بات آپ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے ہی بندوں کی ضرورت ہے اور یہی ہمارے کام آتے ہیں۔ اس کے بعد راوی چل سو چل لکھتا ہے۔
ادھر ملتان میں ضمنی الیکشن کا نیا معرکہ گرم ہے تو ادھر کمشنر ملتان پر شاہ محمود شاہ قریشی بھی گرم ہیں اور گرم بھی اتنے کہ اپنی دختر کے الیکشن سے قبل اسے ملتان سے ٹرانسفر کروانے کے درپے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں عمران خان سے بات کر کے پرویز الٰہی کو پیغام دلوایا اور یہ معلوم ہونے پر کہ الیکشن شیڈول اناؤنس ہو جانے کے بعد اس ضلع کے انتظامی افسر تبدیل نہیں ہو سکتے زور زبردستی سے کمشنر ملتان سے ایک ماہ دس دن کی چھٹی کی درخواست لکھوائی اور اسے Force Leave پرگھر بھجوا دیا۔ میں پہلے بھی اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیٹے کے حالیہ ضمنی الیکشن کے دوران پریس کانفرنس میں کمشنر ملتان پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے دھمکایا تھا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب موجودہ کمشنر ادھر ملتان میں ہی ڈپٹی کمشنر تھے تو انہوں نے ایک ہاؤسنگ کالونی کے تگڑے مالکان کی طرف سے زبردستی بند کیے گئے قدیمی راستے کو نہ صرف کھلوا دیا تھا بلکہ اس ہاؤسنگ سکیم کی دیگر بے ضابطگیوں پر اعتراض بھی کیا تھا۔ اس ہاؤسنگ سکیم کی منظوری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کروانے کی غرض سے قریشی صاحب نے ملتان ترقیاتی ادارے میں اپنی مرضی کا چیئرمین تعینات کروایا تھا مگر ڈپٹی کمشنر درمیان میں پھڈا ڈال کر بیٹھ گیا۔ اب پنجاب میں اقتدار ملتے ہی شاہ محمود قریشی کو کمشنر ملتان پر تاؤ آ گیا اور وہ ملتان میں حکومت پاکستان کے نہیں بلکہ ذاتی ملازم قسم کے افسر تعینات کروانا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ صرف انہی کا نہیں‘ ہر سیاستدان کا شوق ہے کہ اس کے علاقے کے پٹواری‘ تھانیدار‘ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر اس کی مرضی کے ہوں۔
اس ضمنی الیکشن میں موروثی سیاست سے یاد آیا کہ حلقہ این اے 157 سے پی ٹی آئی کی امیدوار قبلہ شاہ محمود قریشی کی دختر مہر بانو قریشی کا کورنگ امیدوار احمد کبیر قریشی ہے جو شاہ محمود قریشی کا سگا بھانجا ہے۔ احمد کبیر قریشی کا نام ان کے پردادا شیخ احمد کبیر کے نام پر رکھا گیا ہے جو مخدوم شاہ محمود قریشی کے دادا خان بہادر نواب مخدوم شیخ مرید حسین کے سگے بھائی تھے۔
موروثی سیاست کے خاتمے کے لیے عمران خان کا ساتھ دینے والوں سے اب اس کے سوا اور کیا کہیں کہ ”ہور چُوپو گنے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں