وفاداری کی تلاش میں

بہت سے دوست پوچھ رہے ہیں کہ جب سیاسی میدان تپ گیا ہے تم اس وقت بھی ڈھیلے ڈھالے لگ رہے ہو۔ نہ ٹویٹر پر آگ سے بھرے ٹویٹ کررہے ہو نہ سوشل میڈیا پر ری ٹویٹس لینے کا جنون سوار ہے‘ کیا ہوا ہے؟
ٹاپ کے کالم نگار ایاز امیر کی بات یاد آئی کہ اتنے تماشے دیکھ چکے‘ اب کوئی بات نئی نہیں لگتی نہ دل دھڑکتا ہے۔ کبھی امیدیں تھیں۔ وہ کب کی ختم ہو چکیں۔ اب اس حمام میں سب ننگے ہیں تو کیا رات کو نیند خراب کریں۔
اس وقت تو سودا خوب بک رہا ہے میڈیا کا۔ مختلف سیاسی گروپس میں تقسیم صحافی آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ ایک گروپ سمجھتا ہے عمران خان قوم کے مسیحا ہیں‘ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو آسمان گر پڑے گا۔ دنیا چلنے سے انکاری ہو جائے گی۔ کرپشن کا دور لوٹ آئے گا۔ دوسری طرف ایک اور گروہ ہے جو سمجھتا ہے اگر زرداری صاحب اور شریف برادران واپس نہ آئے تو پاکستان خطرے میں پڑ جائے گا۔ عمران خان، زرداری اور شریف برادران کی وہ وہ خوبیاں بتائی جارہی ہیں جو ان کو خود بھی نہیں پتہ۔ ایک کمال کام کیا ہے پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے کہ انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں جعلی ٹویٹر اکائونٹس بنا رکھے ہیں اور ان اکائونٹس کی مدد سے انہوں نے اینکرز، اور صحافیوں کو سوشل میڈیا پر یرغمال بنا لیا ہے۔ اگر ریٹنگز لینی ہیں تو کسی پارٹی کو جوائن کرنا پڑے گا۔ ان کا پروپیگنڈا کرنا پڑے گا۔ ان کی حمایت میں ٹویٹس کرنے پڑیں گے۔ پھر ہی آپ کے ٹویٹس ان کے ہزاروں جعلی اکائونٹس سے ری ٹویٹ ہوں گے‘ آپ کے ویڈیو کلپس کو سوشل میڈیا پرپھیلایا جائے گا اور آپ کو احساس ہوگا آپ کتنے پاپولر ہیں‘ لیکن شرط وہی ہے آپ کو ان پارٹی لیڈران کو مہان بنا کر پیش کرنا پڑے گا‘ ورنہ آپ کو ان کے میڈیا سیلز پروموٹ نہیں کریں گے۔ یوں ان سیاسی جماعتوں نے اینکرز اور صحافیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ان کے گیت گائیں۔
اب کوئی صحافی اگر کسی سیاسی لیڈر سے ملے تو دوسری پارٹی اسے لفافہ قرار دے دیتی ہے۔ یوں صحافیوں کو اتنا خوفزدہ کر دیا گیا ہے کہ وہ سچ کو رپورٹ کرتے ڈرنے لگے ہیں۔ ٹویٹ کرنے سے پہلے انہیں سوچنا پڑتا ہے‘ اس سے کون خوش ہوگا اور کون ان پر پل پڑے گا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے عوام تک سچ نہیں پہنچ رہا۔ عوام بھی بری طرح تقسیم ہو چکے ہیں اور ان کی اپنی اپنی سخت پسند‘ ناپسند ہے۔ وہ اس اینکر یا صحافی کو سننے کو تیار نہیں جو ان کی مرضی کی گفتگو نہ کرے ۔ یوں صحافیوں اور اینکرز نے بھی یہی سوچا کہ دکان پر وہی سودا بیچو جو بکتا ہے‘ لہٰذا وہ میڈیا جس کا کام unpopular truth عوام تک پہنچانا تھا وہ اب عوام کو وہی سنا رہا ہے جو وہ سننا چاہ رہے ہیں۔
بات جب خان صاحب پر آتی ہے تو کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ ساڑھے تین سال سے آپ وزیراعظم ہیں۔ آپ کو دنیا بھر کی سپورٹ ملی۔ میڈیا کا مکو آپ کی خواہش پر ٹھپ دیا گیا۔ جس اینکر نے چوں کی اس کا گلا دبا دیا گیا۔ ایک دور تو وہ بھی تھا کہ صرف وہی اینکر سکرین پر بچ گئے تھے جو عمران خان کے گن گاتے تھے۔ اور تو اور اینکرز اور صحافیوں کے جو ٹویٹس خان صاحب یا ان کے وزیروں کو پسند نہ آتے وہ بھی باقاعدہ فرمائش کرکے ڈیلیٹ کرائے جاتے۔ صحافیوں اور اینکرز کو طاقتوروں نے بلا کرکہا گیا پازیٹو رپورٹنگ کرنی ہے۔ خان صاحب کو ان تین سالوں میں کانٹا تک نہیں چبھنے دیا گیا۔ اس کے بدلے ان سے توقع کی گئی کہ ملک کو سیاسی استحکام فراہم کریں گے‘ اکانومی بہتر کریں گے‘ لیکن حالت یہ ہے کہ جب وہ آئے تھے‘ ڈالر ایک سو چوبیس روپے تھا آج ایک سو اسی کا ہوچکا ہے۔ ان تین برسوں میں خان صاحب نے ایم این ایز کو اپنی پرفارمنس یا رویے سے اپنا وفادار کیوں نہیں بنایا کہ آج وہ نہ بکتے؟ جب سیاسی لیڈر خود اپنی سیاسی فلاسفی سے انحراف کرے گا تو وہ کیسے ممبران سے توقع رکھے گاکہ وہ وفادار رہیں گے؟ جب عمران خان اپنی فلاسفی بدل رہے تھے تو میرے جیسے دو تین خبردار کررہے تھے کہ اس طریقے سے وزیر اعظم تو بن جائیں گے لیکن کوئی تبدیلی نہیں لا سکیں گے جس کے چکر میں قوم آپ پر اعتبار کر بیٹھی تھی۔ عمران خان اس قوم اور ملک کو ایک ہی طریقے سے بدل سکتے تھے کہ اپنے موقف اور فلاسفی پر ڈٹے رہتے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ کو فوراً رزلٹ مل جائیں۔ آپ پریشر گروپ بن کر بھی تو حکومتوں اور معاشروں کو تبدیلی پر مجبور کر سکتے ہیں۔ انڈیا میں انا ہزارے نے کرپشن کے خلاف مہم چلائی اور فائدہ کیجری وال نے اٹھایا اور عام آدمی پارٹی بنا کر اپنا میسج عام آدمی کو سمجھا دیا۔ یہاں تک سمجھا دیا کہ ابھی پنجاب الیکشن میں ایک جھاڑو دینے والی خاتون کے بیٹے نے وزیر اعلیٰ کو ہرادیا۔ ماں سے پوچھا گیا: اب کیا کرو گی؟ بولی: یہی جھاڑو دیتی رہوں گی کیونکہ کام ایک عبادت ہے۔
ہمارے ہاں الٹ ہوا۔ خان صاحب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے کہ لوگ اپنے جیسے عام بندے کو ووٹ نہیں دیتے لہٰذا وہ دنیا جہاں کا سیاسی کچرا اکٹھا کرکے اپنی پارٹی میں لائے اور فرمایا: مان لیا کہ وہ سب کرپٹ، بدمعاش غنڈے ہیں لیکن وہ سب الیکشن لڑنا اور جیتنا جانتے ہیں۔ جیسے خان صاحب الیکٹ ایبلز کو وزیر اعظم بننے کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے‘ ویسے ہی وہ الیکٹ ایبلز اب عمران خان کے خلاف استعمال ہونا چاہتے ہیں۔ خان صاحب بمشکل ہی قومی اسمبلی آتے یا ایم این ایز سے ملتے۔ آج تک انہیں اسمبلی میں کسی ایم این اے سے اٹھ کر ہاتھ ملاتے نہیں دیکھا۔ ہو سکتا ہے آپ کو یہ بات معمولی لگتی ہو لیکن ایک سیاسی جمہوری کلچر میں یہ اہمیت کی حامل ہے کہ ان کا وزیر اعظم ان سے کیسا رویہ رکھتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کیوں سینیٹ کی سیٹ دس برس سیاست سے دور رہنے باوجود جیت گئے اور حفیظ شیخ کیوں ہار گئے؟ وجہ وہی تھی کہ یوسف رضا گیلانی کا وزیر اعظم کے طور پر سب ایم این ایز سے رویہ اچھا تھا۔ حفیظ شیخ کسی سے سیدھا ہاتھ ملا کر بھی خوش نہیں تھے۔ رزلٹ سب نے دیکھ لیا۔
خان صاحب نے پارلیمنٹ پر توجہ کے بجائے اپنے اے ٹی ایم، دوستوں کو اعلیٰ عہدے بانٹنے، دنیا جہاں سے دوست بلا کر وزیر‘ مشیر بنا دیا۔ جو ووٹ لے کر آئے تھے ان کے ساتھ سیدھے منہ ہاتھ تک نہ ملایا۔ عمران خان اور ان کے حامی مانیں یا نہ مانیں انہوں نے اپوزیشن کا کام دو طریقوں سے آسان کیا ہے۔یہی اپوزیشن صرف تین برسوں میں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوگئی جو تیس برس کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔ وجہ خود عمران خان اور ان کے لاڈلے بزدار صاحب ہیں۔ یہی میڈیا جس کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے تھے اس کا سب سے پہلے مکو ٹھپا اور اپوزیشن کو میڈیا پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا کہ چلو میرے خلاف اسے استعمال کرو۔ اپنے ایم این ایز کو اگنور کرکے غیرمنتخب یار دوست وزیر بنا کر اور انہیں عزت نہ دے کر خود سے دور کیا اور اپوزیشن کا کام آسان کیا۔
اب جو بھی کہیں کہ میڈیا بک گیا ہے یا ایم این ایز نے خود کو فروخت کر دیا ہے، لیکن کبھی اپنے گریبان میں خود بھی جھانکیں کہ آپ بدل گئے تو وہ بھی بدل گئے۔ آج آپ رو رہے ہیں کہ وہ مشکل وقت میں وفادار نہیں رہے تو خان صاحب بھی تو اپنی آئیڈیالوجی سے وفاداری نہ کر سکے اور ایک کے بعد دوسرا کمپرومائز کرتے چلے گئے۔جہاں تک وفاداری کی بات ہے یہ خریدی نہیں جاتی یہ کمائی جاتی ہے۔ انسانوں کو اپنا وفادار بنانے کیلئے سات جنگل اور سات دریا عبور کرنے پڑتے ہیں۔ آپ نے اپنے نعرے کے ساتھ وفاداری دکھائی ہوتی تو آج وفاداروں کی کمی نہ ہوتی۔ جس بھائو تول میں آپ کباڑ خرید لائے تھے اسی میں یا اس سے زیادہ میں وہ بک گیا ہے تو گلہ کیسا؟ آپ نے خود کہا تھا آپ ایماندار لوگوں کے ساتھ انقلاب نہیں لا سکتے۔ جب آپ نے خود شکست مان لی تھی اور ڈاکٹر فائوسسٹس کی طرح اپنی روح کا سودا دنیاوی لذتوں کے لیے کر لیا تھا تواب گلہ کیسا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں