قتل کرنا جرم ہے یا قتل ہونا؟!

سیالکوٹ میں تھانہ اگوکی کے علاقے نول موڑ میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری کے منیجرسری لنکا کے شہری پریا نتھاکمار کو بے رحمی سے قتل کرنے کے بعد جس وحشیانہ انداز میں اُن کی لاش کو پتھر اور ٹھڈے مارے گئے، پھر اُسے جلادیا گیا، یہ سانحہ ظاہر ہے کبھی نہ بھولنے والا ہے، مگر اِس ”ہجوم“ کی یادداشت چونکہ بڑی کمزور ہے، لہٰذا قوی امکان ہے یہ سانحہ اُسی طرح بیس بائیس کروڑ کا یہ ”ہجوم“ فراموش کردے گا جیسے اِس سے پہلے اِسی نوعیت کے کئی سانحات فراموش کرچکا ہے۔اور ہمارے حکمران جو دعوے کررہے ہیں اِس سانحے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دیں گے تو یہ سزا کہیں ویسی ہی ”جزا“ نہ بن جائے جو سانحہ ساہیوال کے ذمہ داران کے لیے بن گئی تھی کہ آج سب آزاد پھر رہے ہیں، ….یہ اچھی بات ہے پریانتھاکمار کو بچانے کی کوشش کرنے والے کی وزیراعظم نے حوصلہ افزائی کی، اِس حوالے سے کچھ کردار معاشرے کا بھی بنتا ہے، ایسے ہی بہادروں کی قدرکرکے، اُنہیں شاباش دے کر دنیا کو ہم یہ پیغام دے سکتے ہیں ہماری اخلاقی روایات ابھی ”ویلنٹیلٹر“ پر ہیں، ابھی مری نہیں ہیں، ہمارے حکمرانوں نے پریا نتھاکمار کو بچانے کی کوشش کرنے والے نوجوان عدنان ملک کی بہادری اور جرا¿ت پر فخر کیا ہے، حکمرانوں کو چاہیے خودبھی بہادر بنیں اورسانحہ سیالکوٹ کے ذمہ داران کو فوری اور ایسی عبرتناک سزادیں کہ ایسی درندگی کا آئندہ کوئی تصور بھی نہ کرسکے۔ اِس سانحے کے ذریعے دنیاکو ایک بار پھر ہم یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوگئے ہمارے کچھ لوگ انتہا درجے کے گھٹیا، کمینے، شوہدے اور قوت برداشت سے مکمل طورپر محروم ہیں، ….آج کل میں اپنے اکلوتے بیٹے کو روزانہ جو نصیحت بہت زور دے کر کرتاہوں”تمہارے کوئی گلے پڑ جائے، کوئی ہتھی پڑ جائے، کوئی ڈکیتی کی واردات تمہارے ساتھ ہو جائے، کوئی تمہاری گاڑی کا نقصان کردے، تم کسی سے جھگڑا مت کرنا، مزاحمت مت کرنا، یہ عمل سیدھا سیدھا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے،کوئی تمہارے ساتھ کبھی کتنا ہی سخت کیوں نہ بولے، بحث کرنے کے بجائے، تمہاری غلطی نہ بھی ہو تم معافی مانگ لینا، کیونکہ اب لوگ جان سے مارنے کی صرف دھمکی نہیں دیتے، جان سے ماردیتے ہیں، یہ ”عدم برداشت“ بھی”نئے پاکستان کا ایک ”تحفہ“ ہے، پرانے پاکستان میں لوگوں میں ایک دوسرے کی تنقیدی باتوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہوتا تھا، اپنی کسی خرابی پر کسی کی تنقید کو وہ اپنی اصلاح سمجھتے تھے، سب سے بڑا ہتھیار ”اینٹ“ ہوتا تھا، سب سے بڑی دھمکی یہ ہوتی تھی ”میں اینٹ مار کے تیراسر پھاڑ دیاں گا“، تب لوگ ایک دوسرے پر سیدھی گولیاں نہیں چلاتے تھے، ایک دوسرے پر شیشے کی بوتلیں پھینکتے تھے اور قریب کھڑے لوگ خوفزدہ ہوکر بھاگ جاتے، اور لوگوں سے کہتے”فلاں جگہ پر مت جانا وہاں لڑائی ہورہی ہے اور بوتلیں چل رہی ہیں، زیادہ تر بوتلیں اِدھر اُدھر گر جائیں، کوئی ایک آدھ بوتل کسی کے سرپریا جسم کے کسی اور حصے پر لگ جاتی وہ معمولی زخمی ہو جاتا اور چند گھنٹے بعد ٹھیک ہو جاتا، کلاشنکوف کا کوئی تصور تک نہیں ہوتا تھا، کلاشنکوف کا ذکر پہلی بار ہم نے ایک گانے میں سنا ” میں آں حُسن دی کلاشنکوف“….یہ نورجہاں نے گایا تھا، تب ہم بہت چھوٹے تھے، میں نے اپنے ابوسے پوچھا ” ابو جی یہ”حسن کی کلاشنکوف“ کیا ہوتی ہے؟، اُنہیں بھی نہیں پتہ تھا کیا ہوتی ہے….اینٹ کے علاوہ دوسرا بڑا ہتھیار جو کچھ ”کن ٹُٹے“ اپنی شلوار کے ”نیفے“ میں لگاکر رکھتے تھے وہ ”گراری والا چاقو“ تھا۔ یہ چاقو لڑائی میں استعمال ہوتا تھا جس سے لوگ زخمی ہوتے تھے مرتے نہیں تھے، …. اب ”نئے پاکستان“ میں کلاشنکوف سے مزید خطرناک اسلحہ لوگوں کے پاس ہے، معمولی معمولی جھگڑوں میں اِس کا استعمال کرکے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے، اب ہم سوچتے ہیں ”تبدیلی“ کے نام پر ہمیں بے وقوف بنانے کی سازش کامیاب ہوگئی، ہم ”نئے پاکستان“ کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے، حالانکہ کوششیں ہمیں ”پرانے پاکستان“ کو واپس لانے کی کرنی چاہیے تھی، جس میں شرم وحیا ہوتی تھی، بڑے چھوٹے کا لحاظ ہوتا تھا، رشتوں کی قدرہوتی تھی، جب حلال جانوروں وپرندوں کو ذبح ہوتے ہوئے بھی لوگ نہیں دیکھ سکتے تھے، جب کہیں کوئی قتل ہوتا تھا آسمان سرخ ہوجایا کرتا تھا، فضا سوگوار ہو جایا کرتی تھی، زمین پھٹی پھٹی محسوس ہوتی تھی، …. اب معاملات اورطرح کے ہیں، اب معاشرہ اِس قدر بدصورت ہوگیا ہے یہاں قتل کرنا جُرم نہیں قتل ہونا جرم ہے…. جو غلیظ نظام اب یہاں رائج ہے مجھے خدشہ ہے وہ وقت نہ آجائے ہم قبروں سے مقتولوں کو نکال کر اُنہیں عدالتوں میں لے جائیں، اُن پر مقدمے قائم کریں کہ تمہیں قتل ہونے کی جرا¿ت کیسے ہوئی؟۔تمہیں قتل ہوتے ہوئے ذرا شرم نہیں آئی، میرا بس چلے میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی قبر سے نکال کر اُس سے بھی حساب لُوں، اُس سے بھی پوچھوں جب تم عدالتی قتل سے بچ سکتے تھے، کوئی کمپرومائز کرسکتے تھے، تم نے یہ سب کیوں نہیں کیا؟ تم کیوں چُپ کرکے قتل ہوگئے؟….اِس ملک میں ظالموں کی رسی ہمیشہ بڑی دراز رہی، اب تک ہے، مگر بالآخر سزا سے کوئی نہیں بچ سکا، سزا بھی ایسی کہ دفنانے کے لیے ظالم کا جسم ہی نہیں مِلا،….”عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں“،بدبختوں کے لیے صرف کہانیاں ہیں…. ہمارے سزااور جزاکے نظام میں اتنے ستم ہیں، طاقت اور دولت کے بل بوتے پر بڑے سے بڑا جرم کرنا اب باقاعدہ ”سٹیٹس سمبل“ سمجھا جاتا ہے، دولت مند اور طاقتور اپنے جرائم پہ پردے ڈالنے کے بجائے اُنہیں فخر سے بیان کرتے ہیں، کسی شریف آدمی کے مقابلے میں جرائم پیشہ دولت مندوں وطاقتوروں سے تعلق رکھنے میں لوگ زیادہ ”عزت“ اور ”فخر“ محسوس کرتے ہیں، …. طاقتور اور دولت مند کسی پر ظلم زیادتی کرتے ہوئے اس لیے نہیں گھبراتے یا یہ کام وہ اِس لیے فخر سے کرلیتے ہیں اُنہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے قانون اُن کے گھر کی لونڈی ہے اور اِس کے ”رکھوالے“ اُن سے باقاعدہ تنخواہیں لیتے ہیں، ….یہاں کسی جرائم پیشہ کا ریکارڈ چیک کروالیں کسی نہ کسی جج، کسی نہ کسی جرنیل، کسی نہ کسی جرنلسٹ، کسی نہ کسی افسر، کسی نہ کسی حکمران سے اُس کا تعلق نکل آئے گا، اور اگر اِن میں سے کسی سے اُس کا تعلق نہ نکلا تو کسی مذہبی گروہ سے نکل آئے گا، کسی ایسے ” مذہبی گروہ“ سے جس کے سامنے ریاست یا حکومت بھی نہیں ٹھہر سکتی، اُن کی طاقت ، اُن کی اہمیت کا صحیح معنوں میں اندازہ مجھے اُس روز ہوا جب پچھلے دنوں لاہور میں اُنہوں نے فساد برپا کررکھا تھا، جس میں کئی بے گناہ پولیس والے شہید ہوگئے، جب یہ بلاٹلی، ریاست سے اُن کا کوئی خفیہ معاہدہ طے پا گیا تو ایک اعلیٰ پولیس افسر کی ایک آڈیو میں نے سنی، موصوف فرمارہے تھے ”شکر ہے ہمارے ملازمین مرے، اُن کا کوئی نہیں مرا“….!!

اپنا تبصرہ بھیجیں