قائد حزبِ اختلاف، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے بالآخر وہ کام کر دکھایا جس کی اُن سے توقع کی جا رہی تھی۔ وہ ایک مقبول لیڈر کے طور پر پاکستانی سیاست میں اپنا نقش جما چکے ہیں۔ گزشتہ ربع صدی پر پھیلی ہوئی ان کی سیاسی جدوجہد اپنی مثال آپ ہے۔ کرکٹ کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے بعد انہوں نے سماجی خدمت کے شعبے میں اپنے آپ کو منوایا، شوکت خانم کینسر ہسپتال بنا کر اور چلا کر اپنی محبوبیت میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد کوچۂ سیاست کا رخ کیا، تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر انتخابی اکھاڑے میں اتارا، اور طویل فاصلہ طے کرکے وزارتِ عظمیٰ کا منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ 2002ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کے حصول سے شروع ہونے والا پارلیمانی سفر2018ء میں وزارتِ عظمیٰ تک پہنچا، اور لوگوں نے اس تبدیلی کا انتظار کرنا شروع کر دیا جس کے خواب انہیں دکھائے گئے تھے، جس کا وعدہ ان سے بار بار، بلکہ ہزاروں بار کیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آ کر کیا کِیا، ان سے قائم توقعات کس کس طرح ٹوٹتی اور جڑتی رہیں، وہ سب اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اُس پر بحث ہوتی رہے گی، ان کے حامی اور مخالف اپنے اپنے حق میں دلائل دیتے رہیں گے۔ سو باتوںکی ایک بات یہی ہے کہ عمران خان وہ کچھ کر کے نہیں دکھا سکے جس کا وہ دعویٰ کرتے تھے یا جس کی آرزو رکھتے تھے۔ ان کے اتحادی ان سے روٹھ گئے، مخالف سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو گئیں، خود ان کی جماعت کے کئی سرکردہ رہنما بغاوت پر اُتر آئے، جو انہیں طاقت فراہم کرنے میں لگے رہے تھے، وہ ان سے طاقت چھین لینے کے درپے ہو گئے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرا دی گئی۔ ایوان کی اکثریت ان کے خلاف ہو چکی تھی، اور ان سے تاج و تخت چھین لینے پر بضد تھی۔ عمران خان اس موقع پر امریکہ میں پاکستانی سفیر کا ایک خفیہ مراسلہ منظر عام پر لے آئے، اور یہ موقف اختیار کیا کہ امریکہ نے ان کی خارجہ پالیسی کی سزا دینے کے لئے ان کے خلاف سازش کی ہے۔ روس کا دورہ عالمی طاقت کے غیظ و غضب کو دعوت دے گزرا ہے، یوکرین پر روسی حملے کی مذمت سے انکار کرکے آزاد خارجہ پالیسی کی جو بنیاد انہوں نے ڈالی تھی اُس کی پاداش میں اپوزیشن جماعتیں، آلہ کار بن کر ان پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ ان کے اپنے ارکان کو خریدا گیا ہے، اور یوں پاکستانی جمہوریت کی رسوائی کا سامان کر دکھایا گیا ہے۔
آئینی اور قانونی طور پر جس دن سپیکر کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا چاہیے تھی، انہوں نے اس دن وزیر قانون کا لبادہ اوڑھنے والے وزیر اطلاعات فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر دیا، اور قرار دیا کہ غیر ملکی سازش کے نتیجے میں کی جانے والی اس حرکت میں برکت ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپیکر کی کرسی پر براجمان ڈپٹی سپیکر کی اس رولنگ کے ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان ٹیلی ویژن سکرین پر نمودار ہوئے، اور اعلان کیا کہ ان کے خلاف قرارداد عدم اعتماد مسترد ہو چکی ہے‘ اس لیے وہ آزاد ہیں کہ قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیں، سو صدر کو یہ تجویز انہوں نے بھجوا دی ہے، اب اپوزیشن کو انتخابی میدان میں ان کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس پر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ صدرِ مملکت نے وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے فی الفور قومی اسمبلی تحلیل کر ڈالی، اور الیکشن کمیشن کو حکم جاری کر دیا کہ نئے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دے۔ جو کچھ ہوا، اپوزیشن اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھی، آئینی اور قانونی ماہرین کی بھاری تعداد بھی اس کی ہمنوا تھی۔ سپریم کورٹ نے اس کا ازخود نوٹس لے لیا۔ حکومت اور اس کے وکلا کا موقف تھا کہ عدالت قومی اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی، اس لیے سپیکر کی رولنگ حتمی اور قطعی ہے، اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ منطق تسلیم کرنا مشکل تھا۔ قومی اسمبلی کی خود مختاری کا تقاضا یقینا یہی ہے کہ کوئی عدالت اس کے جملہ امور میں دخل اندازی نہ کرے، لیکن یہاں سوال قومی اسمبلی کی کارروائی کا نہیں تھا، ڈپٹی سپیکر کی آئین شکنی کا تھا، کیا اسے یہ اختیار دیا جا سکتا تھا کہ قرارداد عدم اعتماد پر فیصلہ کرنے کا جو حق ایوان کو حاصل تھا، اسے چھین لے۔ پاکستانی جمہوریت کی تاریخ میں پارلیمنٹ کی خود مختاری کے نام پر اس کو بے وقعت بنانے کی ایسی حرکت شاذ ہی کہیں کی گئی ہو۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، اور پانچ رکنی لارجر بینچ نے اتفاق رائے سے سپیکر کی رولنگ ختم کر دی، اسے خلافِ آئین قرار دے کر پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا۔ پارلیمنٹ پر اس سے پہلے فوجی، اور سیاسی شب خون تو مارے جاتے رہے تھے، سپیکر کو دن دیہاڑے ڈاکہ مارنے کی جسارت کبھی نہیں ہوئی تھی، اگر اس کی یہ واردات برداشت کر لی جاتی تو آئندہ کسی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہی نہ ہو سکتی، اور یوں آئین کا ایک انتہائی اہم حصہ معطل ہو کر رہ جاتا۔ سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ اجلاس بُلا کر قرارداد عدم اعتماد اس میں پیش کی جائے، اور اگر اسے منظور کر لیا جائے تو پھر نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ وزیراعظم اور اُن کی کابینہ کو بھی بحال کر دیا گیا، اور جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جا چکا ہے، یہ قرارداد اس میں پیش ہو چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے رفقا سے طویل صلاح مشورہ کیا، اور بالآخر یہ اعلان ہوا کہ وہ رات ساڑھے نو بجے قوم سے خطاب فرمائیں گے۔ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ ماتھے ٹھنکنے لگے، وزیراعظم کچھ بھی کہہ اور کر سکتے ہیں۔ ایک بحران سے نکلتے نکلتے کوئی اور بحران کھڑا کر سکتے ہیں۔ معاملات کو مزید الجھانے کے لیے کوئی اقدام کر سکتے ہیں۔ وسوسوں اور اندیشوں کے دوران خطاب شروع ہوا، لیکن انہوں نے ایک بار پھر ”سرپرائز‘‘ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اپنے اس بیانیے کو البتہ شدومد سے دوہرایا کہ وہ امریکی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کا واضح اعلان تھاکہ وہ پاکستان کی خودداری اور خود مختاری کا یہ مقدمہ لے کر عوام کی عدالت میں جائیں گے، اور اپنے مینڈیٹ کی تصدیق کرائیں گے۔ وزیراعظم کے اس بیانیے سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، اس پر شدید تنقید کی جائے، یا اس کی تعریف میں ڈونگرے برسائے جائیں، اس کے نقصانات واضح کیے جائیں یا فوائد کی تفصیل بیان کی جائے، اس سے قطع نظر وزیراعظم کو اس بات کی داد دی گئی کہ انہوں نے سیدھے رستے پر قدم رکھ دیا ہے۔ اگر وہ ثابت قدم رہے، تو پاکستانی جمہوریت توانا ہوگی، قوم کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ سپورٹس مین سپرٹ کا تقاضا یہی تھا اور ہے کہ اپنی شکست تسلیم کی جائے، اور دوسرا میچ کھیلنے کی تیاری شروع کردی جائے۔ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنے جوابی بیانیے کو عوام ہی کی عدالت میں لے جانا ہوگا، نئے وزیراعظم کو ایک ایسے قائد حزبِ اختلاف سے پالا پڑے گا، جو اپنی مشکلات تو دور نہیں کر سکا لیکن دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے گُر جاننے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن کے بینچ خوش آمدید کہتے ہیں۔ اقتدار کے دوران بھی انہیں اپوزیشن ہی کا حصہ سمجھا جاتا رہا، کہ گورننس سے زیادہ انہیں اپوزیشن کی اپوزیشن زیادہ مرغوب رہی، گویا، پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں