وزیرِ اعظم سے ملاقات

وزیرِاعظم ہائوس کی مخصوص نشست گاہ میں وزیراعظم عمران خان ہمارے سامنے تشریف فرما تھے۔ ان کے اردگرد میڈیا کے چند منتخب افراد، ان کے وزرائے کرام اور اعلیٰ حکام کی اچھی خاصی تعداد بھی موجود تھی۔ وہ تحریک عدم اعتماد کے اسباب اور اثرات پر روشنی ڈال رہے تھے۔ ”آف دی ریکارڈ‘‘ اور آن دی ریکارڈ کی تمیز کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک بات ایک طرح کی ہوتی، تو دوسری بات دوسری طرح کی ہو جاتی، باتیں گڈمڈ ہورہی تھیں۔ جو کچھ چھپانا مقصود تھا، اس میں سے بہت کچھ میڈیا کی زینت بن چکا تھا، اور جو کچھ طشت ازبام کیا جا رہا تھا، اس سے بھی لوگ آگاہ ہو چکے تھے۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا، اور پرنٹ میڈیا نے مل ملا کر جو اودھم مچایا تھا، اس میں نہ کچھ چھپائے بن رہا تھا، نہ بتائے بن رہا تھا۔ وزیراعظم ایک پاکستانی سفارتکار کے مراسلے کا ذکر کرتے کرتے، اپنی نشری تقریر میں براہِ راست امریکہ کا نام لے چکے تھے، شاید ان کی زبان پھسل گئی تھی، لیکن گرے ہوئے دودھ کو دوبارہ پیالے میں ڈالنا ممکن نہیں تھا۔ وزیراعظم کو اصرار تھاکہ اُنہیں ان کی آزاد خارجہ پالیسی کی سزا دی جا رہی ہے۔ غلامانہ ذہنیت کے مالک سیاستدان اکٹھے ہوگئے ہیں، اور غیرملکی اشاروں پر تحریک عدم اعتماد پیش کر چکے ہیں۔ بڑی طاقت کی طرف سے کہہ دیا گیا تھا کہ عمران خان کو یوکرائن کے معاملے میں اپنے موقف کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ روس کا دورہ کرنے کی سزا دی جائے گی۔ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے تو پھر پاکستان کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، بصورتِ دیگر کان پکڑائے جائیں گے۔ وزیراعظم کو پورا یقین تھا کہ انہوں نے پاکستان کو آزادی اور خودداری کی راہ پر ڈالا ہے، ان کے اثاثے بیرون ملک نہیں ہیں، انہیں کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا، جن کے اثاثے بیرونی ممالک میں موجود ہیں، ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے ہونے والی بعض ملاقاتوں کی طرف بھی اشارہ کررہے تھے، حسین حقانی کی ”پراسرار‘‘ نقل و حرکت بھی انکے نزدیک معنی خیز تھی، پاکستان کے اندر غیرملکی سفارتکاروں کی منحرف ارکانِ اسمبلی، مختلف سیاسی رہنمائوں اور میڈیا شخصیات سے ملاقاتوں پر بھی وہ سوال اٹھا رہے تھے۔ تحریک عدم اعتماد انکے نزدیک ایک سازش کا حصہ تھی، اور وہ اِس سازش کو ناکام بنانے کیلئے تلے ہوئے تھے، یعنی خودی کا جھنڈا لے کر کھڑے تھے ؎
تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش
مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے میں تھا
ان کے سامعین میں ان سے اتفاق رکھنے والے بھی موجود تھے، اور اختلاف کرنے والے بھی۔ ان کی ہر بات کو جھٹلایا جا سکتا تھا، نہ ہر بات پر سر ہلایا جا سکتا تھاکہ حالات کی تشریح و تعبیر میں بہت کچھ صوابدیدی ہوتا ہے۔ وزرائے کرام اپنے افسردہ چہروں کے ساتھ وزیراعظم کی طرف دیکھتے، اور سراپا اتفاق بن جاتے، جبکہ میڈیا پرسنز کی بے تابیاں سوالوں میں ڈھل جاتیں۔ فواد چودھری کی ذہانت، اور حماد اظہر کی فطانت لقمے پر لقمہ دے رہی تھی۔ فرخ حبیب زبان سے زیادہ کان سے کام لینے میں مصروف تھے۔ دراز قد پرویز خٹک اپنے محکمے کے بارے میں متفکر تھے۔ اسد عمراور شوکت ترین اپنے آپ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ منیر احمد خان خاموشی کی تصویر تھے۔ کامران شاہد کے تابڑ توڑ سوالات نے ماحول کو گرما دیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود، نسیم زہرا، مہر بخاری کے پاس اپنے اپنے نکتے تھے۔ اجمل جامی، عثمان شامی بھی پہلو بدل رہے تھے۔ ایاز امیر مختصر الفاظ میں تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔ میرے سامنے وزیراعظم کے گزشتہ پچیس سال آن کھڑے ہوئے تھے۔ لاہور میں تحریک انصاف کے قیام کا اعلان ہوا تھا۔ کرکٹ کا ورلڈکپ جیتنے والے، اور شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے والے ہیرو سیاست کا رخ کر چکے تھے۔ درجنوں کیمروں کی چکاچوند میں ان کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا۔ وہ دور و نزدیک مرکزِ نگاہ تھے۔ امیدوں کا جہاں آباد ہو چکا تھا۔ گزشتہ پچیس سال کے دوران بہت کچھ ہو گزرا تھا۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست سے لے کر اکثریت کے حصول تک کھلے اور چھپے واقعات کا انبار موجود تھا۔ گزشتہ ساڑھے تین سال سے عمران خان وزیراعظم کے منصب پر تشریف فرما تھے۔ بہت کچھ کر گزرنے کے دعوے انہوں نے کیے تھے۔ بہت کچھ کر بھی دکھایا تھا، لیکن بہت کچھ ایسا بھی ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ایک بڑا متحدہ محاذ وجود میں آ گیا۔ کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں یک آواز تھیں۔ ریاستی ادارے ”نیوٹرل‘‘ ہو چکے تھے۔ اپنے آپ کو گروہی سیاست سے پاک کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ سیاست اہلِ سیاست پر چھوڑ دی گئی تھی۔ وزیراعظم کے کئی بڑے اتحادی انکا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ قومی اسمبلی میں اکثریت انکے ہاتھ سے پھسل گئی تھی، اور وہ ہمارے سامنے اپنے بیانیے پر قائم رہنے اور ہمیں اس کا قائل کرنے میں لگے تھے ؎
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے مایوسی کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا تھا، لیکن امید کی جو جوت وہ جلانا چاہتے تھے، وہ بھی جل نہیں پا رہی تھی۔ اپنی جان کو لاحق خطرات ان کی نظر میں تھے، کردار کشی کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا تھا، اپنی اہلیہ، اور ان کی دوست فرح کے خلاف مہم جوئی بھی ممکن تھی، جعلی آڈیو ٹیپس بھی نکالی جا سکتی تھیں، بوجھل دِل کے ساتھ عرض کیا، گزشتہ انتخاب میں آپ کو بتیس فیصد ووٹ ملے تھے، اڑسٹھ فیصد ووٹر دوسری جماعتوں کے تھے، آپ نے یہ کیا کِیا کہ اپنے مخالفین کو اپنے خلاف متحد کر لیا۔ آپ ایک دستور کے تحت وزیراعظم بنے تھے۔ آپ کی محدودات اپنی تھیں، آپ کے پاس کچھ بھی کر گزرنے کا اختیار نہیں تھا، ہر چیز کو بدل ڈالنا آپ کے بس میں نہیں تھا۔ آپ کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے تھا۔ پہلا کام پہلے، دوسرا کام بعد میں، تیسرا اس کے بعد میں۔ سب کام ایک ہی وقت میں کیسے کیے جا سکتے تھے؟ سیاسی جماعتوں، اپنے ساتھیوں، اور ریاستی اداروں میں سے ہر ایک الگ الگ سلوک کا مستحق تھا۔ آپ جائزہ لیجیے، اور دیکھیے کہ کون سی بات نہیں ہونی چاہیے تھی، کون سی بات درست کی جا سکتی تھی، اور کون سی بات حالات کو بے قابو کر چکی ہے۔
وزیراعظم کی دھن اپنی تھی۔ اس میں شبہ نہیں انکی سیاسی جماعت اپنا وجود رکھتی ہے، خیبرپختونخوا سے تازہ ترین بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے انہیں نیا اعتماد بخشا تھا۔ وہ تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد بھی اپوزیشن لیڈر کے طور پر جاندار کردار ادا کر سکتے، اور نگاہوں کا مرکز ٹھہر سکتے ہیں، لیکن وہ پارلیمانی نظام کی نزاکتوں کے مطابق حکومت کر سکے، نہ اسے سنبھال سکے اور نہ ہی اب نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار نظر آ رہے تھے۔ اُنہیں اب بھی یقین تھا کہ وہ کوئی ”سرپرائز‘‘ دے سکتے ہیں، ہوا کا رخ بدل سکتے ہیں۔ وہ قانونی ذرائع کے استعمال کا اشارہ کررہے تھے، اور کئی سننے والوں کو اس میں لاقانونیت کا سراغ مل رہا تھا۔ اپنے داخلی محاذ سنبھالتے سنبھالتے وہ خارجی محاذ پر دادِ شجاعت دینے میں لگ گئے ہیں۔ انہیں احساس نہیں ہورہا کہ پاکستان کے طاقتور عناصر میں سے کوئی بھی ایسی جنگ لڑنے کو تیار نہیں، جس میں پاکستان فریق ہی نہیں ہے۔ داخلی محاذ پر نیوٹرل ہونے والے خارجی محاذ پر بھی نیوٹرل ہونے کے فوائد سمجھا رہے ہیں۔ وزیراعظم کیا کر سکتے تھے، کیا کر گزریں گے، اِس بارے میں کچھ کہنے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ ساری کشتیاں جلا بیٹھے تو دریا پارکیسے ہو گا ع
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں