بندر اور گھوڑے کا تماشا

وہی ہوا جس کا مجھے خدشہ تھا اور میرے اکثر بیوروکریٹ دوست ناراض ہوتے تھے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاسوں میں بیٹھ کر بیس برس میں جہاں دیگر اہم باتیں سیکھیں وہیں یہ بھی سیکھا کہ پاکستانی بیوروکریسی کی مدد کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ بڑی کرپشن تو دور کی بات ہے ایک وزیر یا وزیراعظم ایک چائے کا کپ نہیں پی سکتا اگراس بل پر ایک سیکشن افسر دستخط نہ کرے۔ جب تک آپ ایک فیڈرل سیکرٹری کو ساتھ نہیں ملائیں گے آپ لمبا چھوڑیں چھوٹا ہاتھ تک نہیں مارسکتے۔ اب آپ کہیں گے کہ اگر ایک سیکرٹری اپنے وزیر یا وزیراعظم کا غیرقانونی حکم نہیں مانے گا تو وہ اسے ٹرانسفر کر دے گا۔ سوال یہ ہے ایک وزیراعظم یا ایک وزیر کتنے سیکرٹریز کو ٹرانسفر کرسکتا ہے؟ ایک‘ دو‘ تین یا دس؟ اور کام پھر بھی نہیں ہوگا تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیوروکریسی دراصل خود اپنے وزیروں یا وزیراعظم کو راستے بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ کیسے مال بنا سکتے ہیں۔ اب ذرا بتائیں جب فروری 2017 ء میں سینیٹر کلثوم پروین نے کابینہ ڈویژن سے پوچھا تھا کہ نواز شریف نے اپنے چار برسوں میں بیرون ملک سوا سو دوروں میں کتنے تحائف وصول کیے‘ان کی مالیت کتنی تھی اور کس نے انہیں کیادیا تھا تو اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا گیا۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ یہ ایک قومی راز ہے ‘ نواز شریف کو ان سوا سو دوروں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔ اب مجھے بتائیں یہ بات نواز شریف کو کس نے بتائی کہ پرویز مشرف کے 2002ء کے بنائے گئے انفارمیشن ایکٹ کے تحت ہم یہ بہانہ بنا سکتے ہیں کہ ہم یہ معلومات سینیٹ کو دینے کے پابند نہیں‘ اسے کلاسیفائیڈقرار دے دیتے ہیں۔ ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب تحائف ایک قومی راز ہیں اور اگر انہیں سینیٹ میں پیش کیا گیا تو یہ اس قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ مطلب تحائف بھی قومی راز قرار پائے جو نواز شریف گھر لے گئے۔ قومی راز تھا تو وہ سرکاری تحویل میں رہتا۔ مطلب قومی راز نواز شریف کی تحویل میں محفوظ ہے لیکن توشہ خانہ میں غیرمحفوظ تھا۔ یہ سب مہربانیاں بابوز کی ہیں۔ یہ مشورے اور مت انہی کی دی ہوئی ہے کہ میاں صاحب ہم کچھ کرتے ہیں آپ نہ گھبرائیں۔ فواد حسن فواد اُس وقت پرنسپل سیکرٹری تھے‘ انہیں یہی بتایا گیا کہ ان تحائف کو قومی راز ڈکلیئر کر دیتے ہیں۔ ویسے جنرل مشرف خود نواز شریف اور ان کی پارٹی کے نزدیک اچھے نہیں تھے لیکن جب تحائف چھپانے کی ضرورت پڑی تو مشرف کا بنایا ہوا قانون جائز ہوگیا۔
ابھی دیکھ لیں کہ کیسے عمران خان نے سعودی عرب اور دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف کو نواز شریف کی طرز پر قومی راز قرار دے کر ان کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ معاملہ عدالت تک جا پہنچا تو بھی کابینہ ڈویژن کے افسران حکومت کو بچانے کی سبھی کوششیں کررہے ہیں۔ اٹارنی جنرل آفس اور وزارت قانون کے افسران کو بھی ساتھ ملا لیا کہ وزیر اعظم اور خاتون ِاول کو سعودی عرب‘ قطر اور دبئی کے حکمرانوں سے ملنے والے بہت مہنگے تحائف کی تفصیل عدالت اور عوام کو پیش نہیں کرنی۔کابینہ ڈویژن ‘ اٹارنی جنرل اور وزارتِ قانون ا ور کوئی کام کریں یا نہ کریں اس کام میں پورے دل سے مصروف ہیں کہ خان صاحب کو ملنے والے تحائف کی کسی کو بھنک تک نہ پڑے۔ جب پہلی بار سینیٹ نے نواز شریف کے تحائف کی تفصیلات مانگی تھیں تو اس وقت کے کابینہ سیکرٹری کو فورا ً معلومات ہاؤس میں پیش کر دینی چا ہیے تھیں۔ اس سے پہلے برسوں یہ سب تفصیلات سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش ہوتی رہی ہیں۔ اب اچانک کیا ہوا کہ بابوز نے نواز شریف اور عمران خان کو بچانے کا فیصلہ کیا؟ یوں ایک قانون کا بہانہ بنا کردو وزیراعظم کروڑوں روپے کے تحائف ہضم کر گئے۔
کابینہ ڈویژن چاہے تو وہ سب ریکارڈ عدالت میں پیش کرسکتی ہے لیکن وہ پیش نہیں کرے گی۔ وجہ میں نے بتا دی ہے کہ بیوروکریسی اس کام میں سیاستدانوں کا ساتھ دیتی ہے‘ ریاست یا عوام کا ساتھ نہیں دیتی۔ بیوروکریسی کا کام یہ تھاکہ وہ حکمرانوں‘ کاروباریوں یا دیگر طاقتور لوگوں کو کرپشن یا غلط کام نہیں کرنے دے گی اور قانون پر عمل کرائے گی۔ ایک طرح کا یہ حکمرانوں پر قانونی چیک تھا۔ حساب کتاب بیوروکریسی نے رکھنا ہوتے ہیں اور پھر حکمران تو چلے جاتے ہیں لیکن آڈٹ یا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر حساب کتاب بیورو کریسی نے دینا ہوتاہے؛ اگرچہ وزیر پھر بھی ان سے ناراض ہیں کہ سیکرٹریز پورا کام نہیں کرتے۔ اس پر کابینہ سیکرٹری احمد نواز سکھیرا پہلے ہی کابینہ اجلاس میں تجویز دے چکے ہیں کہ حکومت قانون میں تبدیلی لے آئے اور سیکرٹری کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کے اختیارات وزیروں یا ان کے من پسند لوگوں کو دے دیں اور قانون میں تبدیلی کر لی جائے۔ سکھیرا صاحب کا مطلب تھا کہ سارا حساب کتاب وزیر خود ہی رکھیں‘ خود منظوریاں دیں اور کل کو خود ہی آڈٹ پیرے اور آڈٹ رپورٹس لے کر خود ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا عدالتوں میں پیش ہوں اور اپنے فیصلوں کی وضاحت یا دفاع کریں اور جزا سزا خود ہی بھگتیں‘ جو اِن کے خیال میں اب سرکاری افسران کو بھگتنا پڑتی ہے اور سب سے بڑھ کر افسران ہی کو حکومتوں‘ وزرائے اعظم یا وزیروں اور میڈیا سے بھی باتیں سننا پڑتی ہیں کہ بیوروکریسی کام نہیں کرتی اور انہیں ناکام بنا رہی ہے۔
خیر اس تجویز پر وزیر بڑے خوش ہوئے کہ چلیں ‘گلیاں ہو جان گیاں سنجیاں تے وچ مرزے یار پھرن گے‘ اورمرضی کریں گے‘ لیکن کسی سمجھدار وزیر کو بات سمجھ آئی کہ یہ نیا پنگا نہ لیں ورنہ ساری عمر پیشیوں میں گزر جائے گی۔ سکھیرا صاحب نے تو راستہ دکھادیا تھا مگر وزراجال میں نہیں پھنسے‘ لیکن اب پچھلے کابینہ اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ وزیروں نے ایک نیا ڈرافٹ قانون منظور کرالیا ہے کہ وزیر صاحب یا حکومت بھی کسی مرضی کے افسر کو پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر لگا سکتی ہے۔ مطلب اب کسی کو بھی اٹھا کر بائیسویں گریڈ کے اختیارات دے کر کام نکلوالیں گے اوروہ کل کو خود آڈٹ‘ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا عدالتیں اور جیلیں بھگتتارہے گا۔
ویسے ایک انکشاف تو اور بھی ہوا ہے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کہ سب سے زیادہ کرپشن سرکاری افسران اور بڑے کاروباری گھرانوں نے کی ہے۔ قوم سمجھتی ہے کہ سیاستدان کرپٹ ہیں لیکن جو اعدادوشمار نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے رکھے ان سے آنکھیں کھل گئی ہیں۔ لمبی تمہید اس لیے باندھی ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں سے میرے ساتھی رپورٹر عمران مگھرانہ ایک ایسی خبر نکال کر لائے ہیں کہ آپ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ نیب دستاویزات کے مطابق جب سیاستدانوں کی کرپشن پکڑی گئی تو انہوں نے 47 کروڑ روپے واپس کئے‘ بیوروکریٹس نے آٹھ ارب روپے لوٹائے جبکہ کاروباری گھرانوں اور بڑے بڑے صنعت کاروں کی کرپشن پکڑی گئی تو انہوں نے 24 ارب روپے واپس کئے۔
مزید سن لیں سب سے زیادہ فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیز نے کئے ہیں۔ ایک لاکھ لوگوں کو لوٹا گیا۔ اب ذرا اندازہ کریں کہ اس ملک میں کیسے سرکاری افسران اور بزنس مین مل کر ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ ایسے ہی تو ان سرکاری افسران نے کینیڈا‘ برطانیہ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جائیدادیں خرید کر بچے وہاں شفٹ نہیں کر دیے یا بزنس مین یہاں سے لوٹ کر باہر جائیدادیں نہیں بنا رہے۔ سیاستدان ٹکے ٹکے کی چوری کرتے ہیں‘ بابوز اور بزنس مین لمبا ہاتھ مارتے ہیں۔ سرکاری افسران دراصل سیاستدانوں کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں جو ایک بندر گھوڑے کے ساتھ کرتا تھا کہ رات کو کچن سے آٹا کھا کر کچھ آٹا لاکر گھوڑے کے منہ پر مل دیتا۔ صبح مالک گھوڑے کی چھترول کرتا اور بندر دور بیٹھادانتوں میں خلال کرتا رہتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں