اخلاقی طور پر انحطاط پذیر معاشرہ

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماضی کے سنہرے خوابوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم ماضی کی اپنی ان اخلاقی اور معاشرتی خوبیوں پر اکڑ رہے ہیں جن کی ایک رتی بھی اب ہم میں موجود نہیں۔ ہم اپنے آباء کے قصوں سے دل بہلانے والے وہ لوگ ہیں جن میں اپنے آباء کی سی ایک بات بھی نہیں۔ اس زیاں کا احساس ویسے تو ہمہ وقت ہی رہتا ہے لیکن جب دیار غیر میں آتے ہیں اور وہاں وہ سب کچھ دیکھتے ہیں جو کبھی ہماری میراث تھی اور اب ان کا چلن ہے جن کے مقابلے میں ہم بزعم خود نہایت اعلیٰ ارفع ہیں تو اس خیالی سوچ پر حیرانی نہیں افسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے کھو جانے کا رتی برابر افسوس نہیں ہے۔ ہم آج بھی اپنی ان خوبیوں اور اچھائیوں پر اینڈتے پھرتے ہیں جو حقیقت میں اب ہم میں ہیں ہی نہیں۔
وہی حضرت اقبالؒ والی بات کہ:
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
ایسی ایسی گھٹیا اور فضول حرکتیں کہ سوچ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور ہنسی بھی آتی ہے۔ اب بھلا بتائیں بہاولپور میں ہاکی کے لیجنڈ سمیع اللہ کے مجسمے کی ہاکی چوری کرنے کی کیا تک تھی؟ بھلا وہ ہاکی کسی کے کس کام کی تھی؟ مگر بھائی لوگ ہاکی کھسکا کر لے گئے۔ دو چار دن بعد دوبارہ نئی ہاکی لگائی گئی اور کوئی فنکار دوبارہ اس ہاکی کو لے کر چمپت ہو گیا۔ اب بندہ پوچھے‘ یہ سوائے گناہِ بے لذت کے اور کیا تھا؟ مگر یہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی انحطاط کی نشاندہی کرتا ہوا عمل ہے۔ دو چار دن ہوتے ہیں کسی نے وہاڑی میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مجسمے کی عینک چوری کر لی ہے۔ اب بھلا جس نے بھی اتاری ہے اس نے یہ عینک اپنی دادی اماں کو تو نہیں پہنانی تھی۔ بس اپنی طرف سے شغل لگایا اور بانیِ پاکستان کے مجسمے کی عینک اتار لی۔ یہ سوائے اس اخلاقی دیوالیہ پن کے سوا اور کچھ بھی نہیں، جس سے ہم گزر رہے ہیں۔
ادھر امریکہ میں جس معاشرے کو ہم پاکستان میں بیٹھ کر گھٹیا، رذیل، تباہ شدہ اور خدا جانے کن کن القابات سے نوازتے ہیں‘ وہاں یہ عالم ہے کہ آن لائن خریداری کا بہت رواج ہے۔ اس آن لائن خریداری کے کاروبار کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں دوسرے امیر ترین شخص جیف بیزوس کا تعلق اسی آن لائن خریدوفروخت کے کاروبار سے ہے۔ جیف بیزوس دنیا کے سب سے بڑے آن لائن کاروبار کرنے والے ادارے ”ایمازون‘‘ کا بانی و مالک ہے۔ اس روز بروز بڑھتے ہوئے آن لائن خریداری کے رجحان میں حالیہ وبا کے دوران کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن خریدی گئی اشیاء میں سے بیشتر چیزیں ایک کارٹن کی صورت میں کوریئر آپ کے گھر لاتا ہے۔ گھنٹی بجاتا ہے اور گھر میں کسی فرد کی غیر موجودگی کی صورت میں وہ کارٹن گھر کے دروازے کے باہر رکھ جاتا ہے۔ میں نے بے شمار گھروں کے باہر یہ سامان رکھا ہوا دیکھا ہے‘ بلکہ خود میری بیٹی کے گھر کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ہم واپس آئے تو باہر سامان پڑا ہوا تھا۔ ایسا بھی بارہا ہوا کہ میں گھر میں اکیلا تھا اور گھر کی اوپر والی منزل پر تھا‘ نیچے گھنٹی بجی‘ مجھے آتے ہوئے تھوڑی تاخیر ہوئی تو کوریئر سامان کا کارٹن رکھ کر چلا گیا۔ میں باہر نکلا تو دروازے پر کارٹن پڑا تھا۔ میری بیٹی اور داماد ہسپتال میں اپنی نوکری پر اور بچے سکول میں ہوتے ہیں۔ وہ اپنا سارا آن لائن خریدا گیا سامان گھر واپسی پر دروازے کے باہر پڑا ہوا وصول کرتے ہیں۔ بقول ان کے آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ان کی کوئی چیز گم ہوئی ہو یا چوری ہو گئی ہو۔
سامان ٹھیک نہ نکلے یا آپ کی منشا کے مطابق نہ ہو تو فروخت کنندہ وہ سامان واپس لے لیتا ہے۔ نہ کوئی بحث ہوتی ہے نہ کوئی انکار کرتا ہے۔ عموماً اٹھائیس دن کے اندر اندر آپ خریدا ہوا سامان حتیٰ کہ کپڑوں کی صورت میں اگر آپ پہن بھی چکے ہیں اور دوسرے سامان کی صورت میں اگر آپ اس کی پیکنگ کھول چکے ہیں یا استعمال میں لا چکے ہیں معیار پر پورا نہ اترنے یا کسی اور وجہ سے ناپسند ہونے کی صورت میں واپس کر دیں تو کوئی بھی واپس لینے سے انکار نہیں کرتا۔ ادھر یہ عالم ہے کہ میں نے نیلا گنبد لاہور میں ایک سرجیکل سپلائیز والوں سے سفر میں پائوں کو سوجنے سے بچانے والی مخصوص جرابیں خریدیں تو اس نے پیسے گن کر دراز میں ڈالنے کے بعد رسید کاٹی اور ایک مہر اس رسید پر ثبت کر دی۔ پڑھا تو لکھا تھا کہ خریدا ہوا مال ہرگز واپس یا تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ میں نے سیلزمین سے پوچھا کہ کیا یہ شرط اس صورت میں بھی لاگو ہو گی اگر میں نے اس جرابوں کے جوڑے کی اصل پیکنگ نہ بھی کھولی ہو؟ اس نے کہا: آپ ہماری دکان سے باہر نکلیں گے تو اس جرابوں کے جوڑے کی تبدیلی یا واپسی نہیں ہو سکے گی خواہ آپ نے اس کی پیکنگ نہ بھی کھولی ہو۔
پاکستان میں ہمارے ایک دوست نے آن لائن شاپنگ کرتے ہوئے دو نائٹ سوٹ منگوائے۔ ویب سائٹ پر دیکھنے میں یہ خاصے معقول لگ رہے تھے۔ کارڈ پر ادائیگی ہوئی اور چار چھ دن بعد کوریئر ان کو سامان دے کر چلا گیا۔ جب کھولا تو اندر سے دو عدد پھٹی پرانی میلی کچیلی جینز نکلیں۔ شکایت کی تو جواب ملا کہ کوریئر والوں نے کمینگی کی ہوگی۔ کوریئر والوں سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ بارہا ایسی شکایتیں مل چکی ہیں اور یہ آن لائن سپلائی والے ہم پر ملبہ ڈال دیتے ہیں۔ ہم عشروں سے کام کر رہے ہیں‘ پہلے کبھی ایسی کوئی شکایت نہیں ہوتی تھی آخر کیا وجہ ہے کہ صرف ان آن لائن والوں کو ہی ہم سے شکایت ہے؟ آپ چیک کر لیں پیکنگ اوریجنل حالت میں تھی تو سامان کیسے تبدیل ہو گیا؟
قوم کی ذہنی حالت اس حد تک دیوالیہ ہو چکی ہے کہ بالکل بے ضرر اور بے فائدہ فضول قسم کی چوریاں اور بے ایمانیاں ہمارا وتیرہ بن چکی ہیں۔ ایسی چیزوں کو چوری کرنا جو ہمارے کسی کام کی نہیں۔ مثلاً سمیع اللہ کی ہاکی اور قائداعظم کے مجسمے کی عینک۔ دور کیوں جائیں‘ آپ کبھی سڑک پر اس بات کا جائزہ لیں کہ کتنی موٹرسائیکلوں کے سائیڈ مرر موجود ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دو فیصد موٹرسائیکلوں کے بھی سائیڈ والے شیشے نہیں ہوتے۔ میں نے ایک بار ٹھانی کہ معلوم کروں کہ یہ شیشے موٹرسائیکلوں والے کیوں نہیں لگاتے اور کہاں جاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ پچاس ساٹھ فیصد نے پہلے روز ہی اتار کر گھر رکھ لیے تھے کہ کوئی اتار نہ لے اور جنہوں نے نہیں اتارے تھے ان کے واقعی کسی نے اتار لیے تھے۔ اب بندہ پوچھے کہ اتارنے والوں نے ان شیشوں کا اچار ڈالنا ہے؟ اگر اتارنے والے نے یہ شیشے اپنی موٹرسائیکل پر لگانے ہیں تو اس پر تو پہلے سے ہی یہ شیشے لگے ہوئے تھے وہ کہاں گئے؟ اگر وہ کسی نے اتار لیے تھے تو اس اتارنے والے نے ان شیشوں کا کیا کیا ہو گا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ یہ صرف اخلاقی انحطاط اور دیوالیہ پن کا معاملہ ہے جو روز افزوں ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ نئی نسل کی تربیت کی جائے لیکن یہ تربیت کون کرے گا؟ پرانی نسل یعنی ہم لوگ! اللہ ہم پر رحم کرے اس نسل نے ہی تو سارا معاشرہ برباد کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں