ایک دیوتا، کروڑوں پجاری

عمران خان کو ان کے ایڈوائزر بڑی محنت کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس سے اٹھا کر سڑک پر لے گئے ہیں۔ میجر عامر کبھی موڈ میں ہوں تو وہ پوری کہانی سناتے ہیں کہ کیسے نواز شریف نے پوری ایمانداری کے ساتھ محنت کر کے اپنی کرسی پر عمران خان کو لا بٹھایا۔ نواز شریف کو بھی سب نے سمجھایا تھا‘ میجر عامر نے تو قران پاک کی آیتیں بھی پڑھ کر سنا دیںلیکن نواز شریف کا دل نہ پسیجا اور انہوں نے وہی کام کیا جس سے سب منع کرتے تھے۔نتیجہ کیا نکلا؟ نواز شریف وزیراعظم ہاؤس سے بیٹی سمیت جیل جا پہنچے اور راستے میں ہر ایک ملنے والے سے پوچھنا نہیں بھولتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا؟ اب عمران خان بھی وہی سوال پوچھ رہے ہیں۔جو محنت نوازشریف نے عمران خان کو اپنے تخت پر بٹھانے کے لیے کی تھی وہی محنت عمران خان نے کی اور دوبارہ شریفوں کو اقتدار میں لے آئے۔
عمران خان اور نواز شریف میں بہت سی باتیں مشترک ملیں گی۔ طاقت انسان میں تکبر اور غرور پیدا کر دیتی ہے۔ وہ اپنے محسنوں کو بھول جاتا ہے اور خوشامدی اسے گھیر لیتے ہیں۔ ایسا انسان خود کو بہت چالاک ‘ ہوشیار سمجھتا ہے۔ وہ خود کو یقین دلا بیٹھتا ہے کہ وہ ایک دیوتا ہے جس کی پوجا ہر انسان پر فرض ہے۔ اس کا کام لوگوں کو استعمال کرنا اور لاشوں کے انبار لگا کر آگے بڑھ جانا ہے۔وہ خود کو اس بات کی داد بھی دیتا ہے۔عمران خان کو سن رہا تھا‘ کہہ رہے تھے کہ میڈیا کرپٹ ہے‘ انہیں ایک اینکر نے بتایا تھا کہ ان کے خلاف میڈیا میں پیسہ چل رہا ہے‘ اس اینکر کو بھی پیسوں کی آفر ہوئی تھی۔ مجھے ان کا یہ بیان سن کر ہنسی آئی۔ ساڑھے تین سال پہلے تک وہ اسی میڈیا کو روزانہ بلا کر انٹرویو دیتے تھے بلکہ کئی اینکرز کو تو خود کئی دفعہ درخواستیں کیں کہ انٹرویو کریں۔ کتنے کالم نگار اور صحافی ان کے رومانس میں رہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ سادہ ہیں، بھولے ہیں‘ اگر ان کی رہنمائی نہ کی گئی تو چالاک اور ہوشیار لوگ انہیں کہیں لوٹ نہ لیں۔ سب نے تہیہ کیاکہ عمران خان کا امیج بنانا ہے۔ آج وہی عمران خان‘ جن کے بارے کہتے تھے کہ انہیں کچھ نہیں پتہ، یہ کہتے ہیں کہ انہیں سب پتہ ہے۔آج وہی جو انہیں سمجھانے جاتے تھے ان کے بارے خان صاحب کی رائے ہے کہ وہ کرپٹ ہیں۔

اس قوم کو بھی داد دیں کہ عمران خان کی کہی ہوئی باتیں غلط نکلیں‘ جو وعدے کئے تھے سب جھوٹے نکلے‘لیکن قوم اب بھی ان پر اعتبار کرتی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ قوم عمران خان جیسے بندے کو تو قبول کر سکتی ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ زرداری اور شریف جنہوں نے کرپشن کی ہے‘ انہیں معافی نہیں۔ یوں اس دفعہ مقابلہ جھوٹ اور کرپشن کے درمیان ہے۔کبھی سوچتا ہوں واقعی یہ دنیا ہوشیار اور چالاک لوگوں کی ہے جو دوسروں کو چونا لگا سکیں۔

ان تین سالوں میں خان صاحب کتنے بدل گئے ہیں۔ اب خان صاحب کو میڈیا برا لگتا ہے۔ اب انہیں کسی کالم نگار کے کالموں یا رپورٹرز کی خبروں یا ٹی وی چینلز کے اینکروں یا کسی میڈیا ہاؤس کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ خود کہتے ہیں کہ میں اب ٹی وی نہیں دیکھتا، اخبار نہیں پڑھتا‘ صرف سوشل میڈیا چیک کرتا ہوں۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں اب کسی اینکر یا میڈیا کی ضرورت نہیں کیونکہ اب سوشل میڈیا نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ اب اخبارات اور ٹی وی پرانے ہوگئے ہیں۔ اس لیے وہ میڈیا اور اینکرز کو کرپٹ بھی کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میڈیا کو فارن فنڈنگ ہورہی ہے۔ یہ بیرونی قوتوں کے اشارے پر چلتا ہے۔ ان کی باتوں سے آپ کو میڈیا کے خلاف نفرت واضح نظر آتی ہے جسے وہ چھپاتے بھی نہیں۔ویسے خان صاحب سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر میڈیا کرپٹ ہے یا پیسے لے کر سیاستدانوں کا امیج بناتا یا خراب کرتا ہے تو پھر عمران خان نے ان برسوں میں کتنے اینکرز، صحافیوں اور کالم نگاروں کو پیسہ کھلایا یا کرپٹ کیا؟ عمران خان کے بارے تو مشہور ہے کہ وہ کسی کو چائے تک نہیں پیش کرتے اور اس بات پر ان کا فین کلب انہیں داد دیتا ہے۔ وہ معاشرہ جہاں کسی مہمان کی خدمت ایک روایت ہے اور شان سمجھی جاتی ہے وہاں اس بات کو فخر بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بندہ کسی کو چائے تک نہیں پلاتا۔

انہی اینکرز اور صحافیوں نے عمران خان کے خلاف چلنے والی کمپین کا مقابلہ کیا، انہیں ٹی وی چینلز پر نجات دہندہ بنا کر پیش کیا۔ ان کے ایک سو چھبیس دن تک دھرنے لائیو دکھائے۔ آج جب خان صاحب کی اپنی الگ دنیا قائم ہوگئی ہے اور وہ وزیراعظم بن گئے ہیں اور واپس اپوزیشن میں بھی آگئے ہیں تو انہیں وہی میڈیا کرپٹ لگتا ہے۔ اب انہیں لگتا ہے کہ میڈیا کا جتنا استعمال انہوں نے کرنا تھا کر لیا۔ اب سوشل میڈیا ہی نئی دنیا ہے۔ اب وہ سوشل میڈیا کی ٹیمیں بنا رہے ہیں جو سارا دن ان کے مخالفین کو اور اینکرز کو گالیاں دیں اور انہیں لفافہ صحافی کہتی رہیں۔

اگرچہ وہ مین سٹریم میڈیا کے اینکرز کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن پھنس جائیں تو وہ ان سب کو بلا کر مدد بھی لیتے ہیں۔ اپنے اقتدار کی وزیراعظم ہاؤس میں آخری شام انہوں نے ایسے ہی اینکرز کو بلایا ہوا تھا اور اپنی بے بسی کا شکوہ کر رہے تھے۔ ایک اینکر جو اس میٹنگ میں شریک تھے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ان کے قریبی لوگ کچھ بھی نہیں بتارہے تھے۔انہیں دنیا کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس وقت عدالت کھل چکی ہے۔ انہیں کسی ایڈوائزر نے نہیں بتایا تھا کہ سپریم کورٹ نے ان کی حکومت کی درخواست مسترد کر دی ہے یا پھر پارلیمنٹ کے باہر قیدیوں کی وین پہنچ گئی ہے کہ اگر عدالت نے ان پر توہین عدالت لگا دی تو وزیراعظم سمیت سب وزیر اور سپیکر گرفتار ہوں گے۔ یہ سب باتیں انہیں وہاں موجود صحافیوں نے بتائیں۔ وہ سربراہ حکومت جو سوشل میڈیا پر چلے‘ اس کے وزیروں اور مشیروں کے لیے اسے بے خبر رکھ کر استعمال کرنا آسان ہو جائے گا۔اگر وزیراعظم کو اہم باتوں سے بے خبر رکھا جائے گا تو پھر یہی کچھ ہوگا۔

سابق وزیراعظم اور ان کے وزرا ایک ماہ تک یہ بتاتے رہے کہ یہ سب امریکن سازش تھی اور انہیں ہٹا دیا گیا۔ اب فواد چودھری نے اس غبارے سے ہوا نکال دی ہے کہ فوج سے لڑائی نہ ہوتی تو حکومت نہ جاتی۔ مطلب امریکن سازش محض ایک بہانہ تھا ‘ اصل لڑائی تو پاکستان کے اندر لڑی گئی۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ کئی وجوہات تھیں جو دھیرے دھیرے بڑے اختلافات میں بدلتی چلی گئیں۔بات وہی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں پہنچ کر سب بھول جاتے ہیں کہ وہ یہاں تک کس کی حمایت کی وجہ سے پہنچے تھے۔ وہ خود کو اصلی عوامی نمائندہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے اختیارات انہی قوتوں اور لوگوں پراستعمال کرنے لگتے ہیں جو انہیں پاور میں لائے تھے۔ انجام ہمارے سامنے ہے۔باقی چھوڑیں خان صاحب کی اس بات کو انجوائے کریں کہ جو میڈیا، اینکرز اور کالم نگار دن رات بائیس برس تک تمام تر خامیوں کے باوجود انہیں فرشتہ ثابت کرتے رہے، خان صاحب کے رومانس میں ان کی دیومالائی کہانیاں سناتے رہے اور عوام کو قائل کیا کہ وہ ایماندار بندے ہیں‘ انہیں اپنا بادشاہ بنا لیں، آج انہی کے بارے خان صاحب کا فرمانا ہے کہ وہ اینکر، کالم نگار، چینلز اور میڈیا ہاؤسز کرپٹ ہیں۔اب اچانک سوشل میڈیا والے اچھے ہو گئے ہیں۔ اب وہ سب خان صاحب کے لیے استعمال ہوں گے جیسے کبھی اخبارات اور چینلز ہوتے تھے‘ جنہیں بقول خان صاحب اب وہ نہ دیکھتے ہیں نہ پڑھتے ہیں۔ نیا زمانہ اور نیامیڈیا۔ خان صاحب نے اچھے سیاستدان کی طرح عمر بھر دوسروں کو استعمال کرنا ہے‘ کبھی کسی کا شکر گزار نہیں ہونا کیونکہ اپنے تئیں وہ ایک دیوتا ہیں اور باقی کروڑوں ان کے بچاری۔

اپنا تبصرہ بھیجیں