اطمینان ایک نعمت ہے

امریکی حکومت کی بات چھوڑیں‘ حکومتیں تو ساری ہی ایسی ہوتی ہیں‘ منافق‘ دو نمبر اور فراڈ۔ کیا امریکی حکومتیں اور کیا ہماری حکومتیں‘ کسی کی منافقت میں کوئی فرق نہیں‘ سوائے اس کے کہ امریکی حکومتوں کی ساری منافقت اور دو نمبریوں کے فوائد ان کے عوام کو پہنچتے ہیں جبکہ اس کے نقصانات باقی دنیا کو‘ بشمول ہمارے‘ اُٹھانا پڑتے ہیں جبکہ ہماری حکومتوں کی دو نمبریوں اور منافقت کے سارے فوائد ہمارے حکمرانوں کے حصے میں آتے ہیں جبکہ اس کے سارے نقصانات ہماری جھولی میں پڑتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم وہ بدقسمت ہیں جن کے حصے میں صرف اور صرف نقصانات ہی آتے ہیں۔ خواہ امریکی حکومت پہنچائے یا ہماری اپنی حکومتیں پہنچائیں۔ دوسری طرف ایک اور بات بڑی مزیدار ہے اور وہ یہ کہ دونوں ملکوں کے عوام اپنی اپنی حکومت کے ساتھ سو فیصد تعاون کرتے ہیں۔ امریکی عوام امریکہ کی بہتری میں اپنی حکومت کا پورا ساتھ دیتے ہیں اور ہمارے عوام اپنے ملک کی بربادی پھیرنے اور لوٹنے میں اپنی حکومت کی پوری پوری مدد کرتے ہیں۔ سو عوام کو وہی کچھ ملتا ہے جس کیلئے وہ خود بھی کوشش کرتے ہیں۔ امریکی عوام کے حصے خوشحالی جبکہ ہمارے حصے میں قرضے آتے ہیں اور ان قرضوں کی صورت میں عالمی طاقتوں کی زور آوری اور ڈکٹیشن چلتی ہے۔ خواری‘ ذلت اور گدائی ہمارا مقدر ہے۔
امریکی حکومت سے قطع نظر کہ امریکی حکومت کی ترجیحات ہمارے نزدیک کتنی ہی غلط‘ قابلِ اعتراض اور نامناسب کیوں نہ ہوں بہرحال ان کی عوام اور ملک کیلئے تو سراسر فائدے کا سبب ہیں۔ باقی دنیا کی خیر ہے۔ امریکیوں کیلئے امریکہ ہی پور ی دنیا ہے۔ انہیں نقشے والی باقی دنیا کی نہ کوئی پروا ہے اور نہ ہی کوئی زیادہ سروکار ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عام امریکی کو باقی دنیا کے متعلق زیادہ علم ہی نہیں ہے۔ وہ ہماری طرح خوامخواہ ایسی باتوں میں اپنی ٹانگ پھنسانے کے قائل ہی نہیں جن کا ان کے ساتھ کوئی براہِ راست تعلق نہ ہو۔ ایک بار ایک (بظاہر)خاصے سمجھدار امریکی سے افغانستان کے بارے میں گفتگو ہوئی تو اس نے مجھ پر ”انکشاف‘‘ کیا کہ افغانستان میں سارا مسئلہ تیل کا ہے اوروہاں تیل کے حصول کیلئے جنگ ہو رہی ہے۔ اَسّی فیصد امریکیوں کو یہ علم ہی نہیں کہ ایران‘ عراق اور لیبیا وغیرہ امریکہ سے ہزاروں میل کے فاصلے پر ہیں۔ ان کو باور کروایا گیا ہے کہ یہ ” شر پسند‘‘ ممالک ان کی جان اور امریکہ کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور امریکہ پر حملہ کرسکتے ہیں‘ لہٰذا ان کو حملے سے سے روکنا‘ ان کے ہتھیاروں کو تباہ کرنا‘ امریکہ کو محفوظ رکھنا اور امریکی عوام کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر ان پر حملہ کرنا اور ان کی طاقت کو کچلنا ہی امریکہ کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اب بھلا آپ بتائیں آپ امریکیوں کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟
امریکی حکومت کا سارا کاروبار ہی اسی جنگ و جدل سے چل رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے دنیا بھر پر مسلط کی گئی جنگوں کا سارا منافع امریکی کنٹریکٹروں کی جیب میں جاتا ہے اور ان کنٹریکٹروں کی پشت پر پھر وہی پالیسی ساز ہیں۔ سارا پیسہ کنٹریکٹروں کو اور پھر بالواسطہ ان کی پشت پر موجود لوگوں کو اور مفتوح ممالک کے لوٹے ہوئے وسائل ریاست کو مل جاتے ہیں۔ عوام کو صرف وہ احساسِ تحفظ نفع میں بچتا ہے جو حکومت اپنے شہریوں کو دلاتی رہتی ہے۔ امریکی حکومت کو دنیا کے بیشتر ممالک میں ویسے ہی گالیاں پڑتی ہیں جیسے ہمارے ہاں رواج ہے؛ تاہم اصل بات یہ ہے کہ امریکی حکومت کی ساری چالاکیوں‘ مکاریوں‘ کارروائیوں اور سازشوں کے باوجود کم از کم میرا یہ تجزیہ ہے کہ عام امریکی شہری اپنی حکومت کے برعکس چھل‘ فریب سے عاری ہے۔ ٹرمپ کی امریکی سیاست میں آمد کے بعد ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان سیاسی خلیج گہری ہونے کے باوجود کم از کم میں نے امریکیوں کو اپنی طرح سیاست میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا نہیں دیکھا۔ بیشتر عمر رسیدہ امریکیوں کو مطمئن‘ خوش باش اور حال مست پایا۔
اس بار مجھے مینیا پولس کے ہوٹل کی لابی میں ایک بوڑھے امریکی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ میں اپنے کمرے سے نیچے لابی میں آیا کہ وہاں کافی مشین لگی ہوئی تھی اور کم از کم چار قسم کی کافی بنانے کی سہولت تھی۔ میں نے فرنچ و نیلا کافی بنائی اور لابی میں کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر کافی سے لطف لینا شروع کر دیا۔ باہر دو دن پہلے پڑنے والی شدید برف باری کے ثبوت کے طور پر برف کی موٹی تہہ بچھی ہوئی تھی۔ ابھی کافی کے دو چار گھونٹ ہی لیے ہوں گے کہ سامنے بیٹھا ہوا وہ بابا اُٹھ کر میرے پاس آگیا اور پوچھنے لگا کہ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔ میں نے کہا :سو بسم اللہ! وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اور پوچھنے لگا کہ میں کس شہر سے آیا ہوں؟ میں نے اسے بتایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور فی الحال ادھر اپنی بیٹی کے پاس ریاست اوہائیو میں آیا ہوا ہوں۔ اس نے اوہائیو کے موسم کے بارے میں پوچھا۔ پھر پاکستان کے بارے میں چند بنیادی سوالات کیے۔ اسی دوران وہ بتانے لگا کہ وہ ریٹائرڈ ملازم ہے۔ امریکہ میں سرکاری ملازمت کی تین بنیادی اقسام ہیں: لوکل گورنمنٹ‘ ریاستی گورنمنٹ اور فیڈرل گورنمنٹ۔ اس نے بتایا کہ وہ فیڈرل حکومت کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ‘ جسے آئی آر ایس کہتے ہیں‘ میں غالباً ڈپٹی سیکرٹری کے طور پر ریٹائر ہوا تھا۔ نوکری سے فراغت کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے میں چلا گیا‘ ادھر مینیا پولس گاڑی خریدنے کیلئے آیا ہے۔وہ اس ریاست سے ایک ریاست چھوڑ کر اگلی ریاست مونٹانا میں رہتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ جہاں رہتا ہے وہاں سے قریب ترین چھوٹا سا قصبہ بھی تقریباً ساٹھ ستر میل دور ہے‘ وہ اپنی ضروریات کا سارا ہفتہ وار سامان وہاں سے خریدتا ہے اور واپس اپنے فارم پر آجاتا ہے۔اس کی زمین میں خاصا بڑا جنگل ہے اور وہاں پرندوں کے علاوہ بہت سے جانور ہیں ‘وہ شکار کا اہتمام کرنے والی ایک کمپنی میں حصہ دار ہے اور خود بھی شکار کرتا ہے۔
اس نے بتایا کہ قریب ترین گیس سٹیشن اس کے گھر سے پندرہ میل دور ہے‘ اس کے خط پتر اسی گیس سٹیشن پر آتے ہیں۔ چھوٹا موٹا ضرورت کا سامان بھی وہ اسی گیس سٹیشن سے خریدتا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ اس ویرانے میں بور نہیں ہوتا ؟ ہنس کر کہنے لگا: ساری عمر شہروں میں نوکری کرنے کے بعداب وہ اس Wilderness کو انجوائے کر رہا ہے۔ اس کا ایک لائیو سٹاک فارم ہے۔ وہ جو اور چارہ کاشت کرتا ہے اور اس کا خاصا بڑا شہد کا فارم ہے۔ اتنے کاموں کے ہوتے ہوئے بھلا بوریت کی کوئی گنجائش ہے؟
مجھے اس ریٹائرڈ سرکاری افسر کی بعداز ریٹائرمنٹ والی زندگی پر حسرت ہوئی کہ وہ کس طرح ایک ویرانے میں اپنی زندگی کے آخری دن مزے سے گزار رہا ہے۔ ادھر یہ عالم ہے کہ میرا جو دوست نوکری کے لیے ملتان سے نکلا‘ واپس ملتان نہیں پلٹا۔ نام کیا لکھوں‘ ایک لمبی فہرست ہے جو کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد میں نوکری کرتے رہے تو بعداز ریٹائرمنٹ وہیں کے ہو رہے۔ ملتان تو اب صرف وہی دوست باقی بچے ہیں جن کا کام اور کاروبار یہاں تھا۔ میں سوچتا ہوں ہمارے سرکاری افسر دوست تو ملتان جیسے شہر میں واپس نہیں لوٹے‘ اگر انہیں کسی ایسی جگہ واپس آنا پڑتا جہاں پٹرول پمپ بیس میل دور ہوتا اور خط بھی وہیں سے لانا پڑتا جبکہ قریب ترین قصبہ بھی ستر میل دور ہوتا تو ان کا کیا بنتا؟ اندر سے آواز آئی: اطمینان ایک نعمت ہے جو ہر کسی کو میسر نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں