بے اعتباری کا موسم

جس ملک میں سیاسی نظام کو اوپر نیچے کرنے، حکومتیں بنانے اور پارٹیاں تبدیل کرنے والے سیاستدانوں کا مخصوص گروہ اپنی سیاسی وفاداریاں اصولوں کے بجائے کھلنے والے بریف کیسوں اور اپنے خلاف کھلنے والے کیسوں کے خوف سے بدلتے ہوں وہاں اس بات پر بحث کرنا کہ متوقع تحریک عدم اعتماد کا کیا نتیجہ نکلے گا‘ نہایت غیر دانشمندانہ حرکت ہوگی؛ تاہم یہ طے ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے نام پر ہونے والی حالیہ سیاسی گہماگہمی اور پکنے والی کھچڑی کے طفیل دوسروں کو بلاتکان ”گھبرانا نہیں‘‘ کا مشورہ دینے والے عمران خان اور ان کی وفادار کمپنی خود اچھی خاصی گھبرائی ہوئی ہے۔ گھبراہٹ بھرے اس ماحول میں سب سے زیادہ پریشانی حکومت میں شامل ڈانواں ڈول برگیڈ کو ہے۔
کسی نے کھانے پینے کے کسی شوقین سے کہا کہ وہ اس کی ”ون ڈش‘‘ دعوت کرنا چاہتا ہے‘ وہ بتائے کہ اس کیلئے حلوہ بنوائے یا مرغ پکوائے؟ چٹورا پیٹو کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ایسے ہی پریشان کرے جیسے تم نے مجھ کو پریشان کیا ہے۔ ابھی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے میں ڈیڑھ سال پڑا ہے۔ ڈیڑھ سال کم مدت نہیں ہوتی۔ خاص طور پر ڈال ڈال پر بیٹھنے اور اڑنے والے سیاسی پنچھیوں‘ جنہوں نے ہر روز دیہاڑی لگانی ہوتی ہے‘ کیلئے اٹھارہ ماہ بہت لمبی مدت ہے‘ لیکن اب وہ پریشان ہیں کہ کیا فیصلہ کریں؟ تحریک عدم اعتماد میں کھل کر سامنے آئیں یا ابھی پردہ غیب میں رہیں۔ اگر دباؤ دینے والے میدان میں کود پڑے تو کیا بنے گا؟ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی تو وہ کدھر جائیں گے؟ حالات اس حد تک پریشان کن ہیں کہ خود سیاستدان ہی نہیں بلکہ ان کے اردگرد والے اور ان کے توسط سے مال پانی بنانے والے تک پریشان ہیں۔ علیم خان کے میدان میں آ جانے سے پی ٹی آئی کے اندر غیر مطمئن ارکان اسمبلی کا زیادہ زور فی الوقت اسلام آباد کی حکومت کے بجائے لاہور میں قائم پنجاب کی تاریخ کی نااہل ترین صوبائی حکومت کے خلاف دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ اتنا ہے کہ خود بزدار صاحب تو رہے ایک طرف ان کے بھائی اتنے پریشان ہیں کہ رہے نام اللہ کا۔ ایسی غیریقینی صورتحال ہے کہ لگتا ہے دکانیں آج بند ہوئیں کہ کل بند ہوئیں۔ چند ماہ پہلے انتہائی مطمئن اور پرسکون بھائیوں پر کھڑے کھڑے اچانک ایسی افتاد آن پڑی ہے جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ اس پر انہیں پریشان ہونے کے بجائے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس رحیم و کریم نے انہیں موج میلے کیلئے ساڑھے تین سال جیسی لمبی مدت عطا کی۔ اگر بات میرٹ پر آجاتی تو اپنے بزدار صاحب کو اگلے تین سو سال تک ساڑھے تین منٹ کیلئے بھی وزارت اعلیٰ نصیب نہ ہوتی لیکن قدرت کو یہی منظور تھا کہ بچہ سقہ کی حکومت کے بعد تاریخ کے صفحات پر انہی صلاحیتوں کے حامل کسی دوسرے شخص کا نام بھی آنا چاہئے۔ اب قدرت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟
بے یقینی اور شکوک و شبہات اس قدر زیادہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کہیں اپنی جگہ بنا سکتا ہے یا تو بنانے میں لگا ہوا ہے یا ایسا کرنے کیلئے پَر تول رہا ہے۔ تین دن پہلے کی بات ہے میں ایک دوست کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہاں ملتان سے تعلق رکھنے والے تین ارکان صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک رکن صوبائی اسمبلی کے بارے میں تو میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کا جہانگیر ترین سے پورا پورا رابطہ ہے اور اس بات کا علم ہونے میں میرا کوئی کمال نہیں‘ یہ بات اس نے مجھے خود بتائی ہے اور اس کا نام اخباروں میں بھی ان ارکان کی فہرست میں آرہا ہے جو جہانگیر ترین کے ساتھ مکمل رابطے میں بھی ہیں اور ہونے والے اجلاسوں میں شرکت بھی کررہے ہیں۔ میرا یہ دوست آزاد حیثیت سے جیت کر رکن صوبائی اسمبلی بنا تھا؛ تاہم گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران اس نے اپنی نام نہاد آزاد حیثیت بھی برقرار رکھی ہے اور سارے حکومتی ترقیاتی فنڈ بھی لئے ہیں؛ تاہم میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس نے ان ترقیاتی فنڈز میں سے ایک پیسہ بھی اپنی جیب میں نہیں ڈالا اور سارے کے سارے فنڈز پوری ذمہ داری سے نہایت صاف ستھرے انداز میں خرچ کئے ہیں۔ یہ بات تو ویسے ہی درمیان میں آگئی وگرنہ بات تو ملتان کے ارکان اسمبلی کی بے یقینی اور پریشانی کے بارے میں ہورہی تھی۔
اس آزاد رکن صوبائی اسمبلی کے بارے میں تو میں سو فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگلا الیکشن وہ خود یا اس کے گھر کا کوئی فرد بہرصورت مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر لڑے گا۔ ساتھ موجود دیگر دو عدد ارکان صوبائی اسمبلی کا حال بھی خاصا خراب تھا۔ نہ وہ میرے سامنے کھل کر پی ٹی آئی کے خلاف بول سکتے تھے اور نہ ہی وہ اپنی دلی کیفیت کو چھپانے پر قادر تھے۔ ایک ایم پی اے سے میں نے پوچھا کہ وہ اگلا الیکشن مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑنے کیلئے کیا منصوبہ بندی کررہے ہیں؟ وہ بڑی دکھی آواز میں حسرت سے کہنے لگا کہ اس کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کا ہارا ہوا امیدوار نہ صرف یہ کہ پوری طرح مسلم لیگ سے جڑا ہوا ہے بلکہ وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ”گڈ بکس‘‘ میں بھی ہے‘ اس لئے اس کا مسلم لیگ (ن) میں تو بہرحال کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا۔ اس کے لہجے کی افسردگی اور چہرے کی کیفیت ساری صورتحال کی عکاسی کررہی تھی۔ یہی حال تیسرے ایم پی اے کا تھا اور یہ تینوں مل کر ایک صوبائی وزیر کی رفتہ رفتہ سرکتی ہوئی وفاداری اور اس کے مستقبل کے حوالے سے بڑی معنی خیز گفتگو کررہے تھے۔ ان تینوں میں سے ایک کہنے لگا کہ وہ صوبائی وزیر جس پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے جس حلقے کی ٹکٹ کا خواہاں ہے‘ اس پارٹی کے پاس اس کو دینے کیلئے فی الوقت اس مطلوبہ حلقے کی ٹکٹ میسر نہیں ہے۔
ایک ایم پی اے کہنے لگا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے اکثر ارکان اسمبلی شروع دن سے ہی پنجاب کی وزارت علیا پر بزدار صاحب کے انتخاب سے ناخوش تھے لیکن وہ ساڑھے تین سال تک صرف اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرتے رہے کہ عمران خان کا دبدبہ تھا اور یہ خوف تھا کہ اگر انہوں نے اس بارے میں زبان کھولی تو بزدار صاحب کی پشت پر پوری قوت سے کھڑے ہوئے خان صاحب کا سامنا کون کرے گا؟ لیکن مہنگائی، بیروزگاری، بدترین معاشی صورتحال، انتظامی معاملات اور سب سے بڑھ کر اپوزیشن کی حالیہ حکومت مخالف سرگرمیوں میں پیدا ہونے والے زوروشور نے جہاں عمران خان کی مقبولیت کا پول کھولا ہے‘ وہیں ان کو پہلی بار باقاعدہ دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب چیونٹیوں کے بھی پَر نکل رہے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے تک جو لوگ عمران خان کے آگے دم مارنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے اب آنکھیں دکھانے پر آگئے ہیں۔
ساتھ بیٹھا ہوا دوسرا ایم پی اے ہنس کر کہنے لگا: خالد صاحب! گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے ہم بھی بزدار صاحب کی چاپلوسی کررہے ہیں لیکن جتنی چاپلوسی آپ کا یہ حق گو دوست کرتا رہا ہے‘ ہم اس کا عشر عشیر بھی نہیں کرتے تھے۔ اب بزدار صاحب پر برا وقت آن پڑا ہے تو سب اپنا اپنا حصہ ڈالنے پراتر آئے ہیں۔ اس پر پہلا دوست کہنے لگا: میں نہیں، یہ خود بزدار کی بہت زیادہ چاپلوسی کرتا تھا۔ میں نے ہنس کرکہا: گویا اختلاف چاپلوسی پر نہیں‘ زیادہ پرہے۔ اب بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ میں تو موقع پر موجود نہیں تھا۔ اب میں کس پر اعتبار کروں؟ آج کل تو ویسے ہی بے اعتباری کا موسم چل رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں