تماشا

میرے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں امریکہ سے واپسی پر میری پاکستان میں کسی تبدیلی کی امید پر ایک قاری نے بڑا مزیدار تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”آپ امریکہ گئے تھے یا اصحاب کہف والے غار میں آرام فرمانے گئے تھے کہ جب باہر نکلوگے تو سب کچھ بدلا ہوا ہوگا‘‘ ایمان سے تبصرہ پڑھ کر لطف آگیا تاہم اس دوران کم ازکم ایک تبدیلی تو بہرحال ضرور آئی اور وہ یہ کہ چھ کے ٹولے میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔
یہ چھ کا ٹولہ دراصل ملتان سے منتخب ہونے والے چھ ارکان صوبائی اسمبلی پر مشتمل ایک انجمن امداد باہمی ٹائپ گروپ ہے تاہم گزشتہ چند دنوں سے ملتان میں اس چھ کے ٹولے کے دو ارکان کے مابین ”دھیں پٹاس‘‘ ہو رہی ہے اور مقامی اخبارات اس کے بارے میں روز نت نئی خبر لگا رہے ہیں۔
گو کہ مجھے اس جھگڑے کی وجہ بتاتے ہوئے تھوڑی شرمندگی سی ہو رہی ہے کہ معاملہ ریت بیچنے جیسے معمولی سے مسئلے کا ہے لیکن بتائے بغیر چارہ بھی نہیں۔ پہلے تو میں آپ لوگوں کو اس جھگڑے کے پس منظر سے آگاہ کر دوں۔ اصل میں محکمہ مائنز اینڈ منرل کے کسی ٹھیکیدار نے ملتان سٹی زون میں واقع ریت اور گسر کی کھدائی کا تین کروڑ تہتر لاکھ پچاس ہزار روپے کے عوض دو سال کے لئے ٹھیکہ حاصل کیا لیکن بقول ٹھیکیدار، ملتان سے پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے اور اس کے کارندوں نے اس کی ٹھیکے پر حاصل کردہ جگہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور کروڑوں روپے کے عوض حاصل کیے گئے ٹھیکہ شدہ رقبے سے روزانہ سینکڑوں ٹرالی ریت و گسر کھدائی کر کے آگے اونے پونے فروخت کر رہے ہیں‘ اس طرح ایم پی اے مذکورہ ان (ٹھیکے دار)کے حق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے اور روکنے پر ان کے ملازموں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ الٹا ان پر جھوٹے مقدمات درج کروانے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔
ایمانداری کی بات ہے کہ یہ خبریں پڑھ کر میں تو حیران و پریشان ہی رہ گیا۔ مذکورہ ایم پی اے ہمارا براہ راست نہ سہی، ہمارے دوستوں کا دوست ہے اور اسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ چھوٹی موٹی واردات تو ڈال سکتا ہے مگر قبضہ گیری، غنڈہ گردی، دادا گیری اور مار پیٹ وغیرہ کرنے کے قابل ہرگز نہیں ہے۔ کیا ہے! زیادہ سے زیادہ اپنے بھائی کو میرٹ سے ہٹ کر زور زبردستی سے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں ایم ایس لگوا لیا۔ اگر اسے ہٹا دیا تو ملتان سے اپنا چھ کا ٹولا لے کر وزیر اعلیٰ کے پاس چلے گئے اور اپنے بھائی کو منت ترلے کر کے دوبارہ ایم ایس لگوانے کی کوشش کر لی۔ ارکان اسمبلی کا ترقیاتی کاموں میں سے فی زمانہ والا طے شدہ کمیشن کھرا کر لینے کو بھلا آج کل جرم کہاں سمجھا جاتاہے؟ مجھے پتا ہے کہ ایسی چھوٹی موٹی ہینکی پھینکی سے بڑھ کر نہ تو اس کا مزاج ہے اور نہ ہی طبیعت، لیکن خبریں پڑھ کر ایسا لگا کہ گویا وہ ایم پی اے کسی مافیا گینگ کا سربراہ ہے۔
اب آپ خود بتائیں یہ خبریں پڑھ کر میرا حیران ہونا بنتا تھا یا نہیں؟ میں جانتا ہوں کہ مذکورہ ایم پی اے فی زمانہ دیگر ارکان اسمبلی کے مقابلے میں نسبتاً بہت شریف آدمی ہے اور اس سے کم از کم یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ چوری چھپے والی چھوٹی موٹی وارداتوں سے اتنا آگے نکل کر قبضہ گیری اور دادا گیری کے مرتبے پر فائز ہو جائے گا۔ پھر خیال آیا کہ میرے پاکستان سے باہر جانے کے بعد ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی واردات ہو جاتی ہے کیا خبر یہ محیرالعقول واقعہ بھی پیش آ گیا ہو‘ لہٰذا مناسب سمجھا کہ اس سلسلے میں زیادہ باخبر دوستوں سے حقائق معلوم کئے جائیں۔ جب اس بارے میں اپنے دو نہایت نیک نام ایم پی اے حضرات سے تفصیلات معلوم کیں تو ایک بات کی بہرحال از حد خوشی ہوئی‘ یہ کہ مذکورہ ایم پی اے کے بارے میں ہمارا خیال عین درست ثابت ہوا کہ اس شریف آدمی کو محض اس لیے بدنام کیا جا رہا ہے کہ وہ ریت مافیا کی لوٹ مار کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر رہا تھا۔ دراصل یہ سارا شوروغوغا چور مچائے شور والا معاملہ تھا۔
اصل صورتحال یہ معلوم ہوئی کہ جس ٹھیکیدار نے ریت اور گسر کی کھدائی کا دو سالہ ٹھیکہ حاصل کر رکھا ہے وہ اس بات کا پابند تھا کہ اس زون سے کھدائی کرکے ریت اور گسر اٹھانے والوں سے فی ٹرالی سرکاری طور پر منظور شدہ قیمت وصول کرے، لیکن ہوا یوں کہ ٹھیکیدار نے اس سلسلے میں ایک صوبائی وزیر کو اپنے ساتھ ملا لیا اور ریت اٹھانے والے مزدوروں اور ٹرالی والوں سے دوگنے ریٹ وصول کرنے شروع کر دیے۔ اس گٹھ جوڑ کے بارے میں بھی دو خبریں ہیں۔ ایک یہ کہ فرنٹ مین کے طور پر وزیر موصوف کا بھتیجا اس ٹھیکیدار کا حصہ دار ہے اور وہ اس کے زور پر سرکاری ریٹ کے بجائے زور زبردستی سے منظور شدہ ریٹ سے دوگنے ریٹ وصول کر رہا ہے جبکہ دوسری خبر یہ ہے کہ ٹھیکیدار وزیر موصوف کو اس سلسلے میں ماہانہ ”پتی‘‘ دے رہا ہے۔
ٹھیکیدار کے کارندوں کی جانب سے زبردستی زیادہ ریٹ وصول کرنے کے خلاف ریت اور گسر اٹھانے والے ٹرالی مالکان اور مزدوروں نے تنگ آ کر علاقے کے ایم پی اے سے رابطہ کیا۔ اب اتفاق سے اس علاقے کا ایم پی اے وہی تھا جس کے خلاف ٹھیکیدار شکایت کر رہا ہے اور اس نے اپنے علاقے کے مزدوروں اور محنت کشوں کے استحصال پر آواز اٹھاتے ہوئے انتظامیہ سے رابطہ کیا اور خود بھی موقع پر پہنچ کر اوورچارجنگ بند کروائی تو ٹھیکیدار نے اپنے سرپرست کے آگے فریاد کی کہ اگر وہ اپنے من پسند اور خود ساختہ ریٹ وصول نہیں کر سکتا تو پھر اسے حصہ داری یا پتی ادا کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ ٹھیکیدار کا سوال بھی اپنی جگہ درست تھا کہ اگر اسے زائد آمدنی نہیں ہو رہی تو وہ زائد ادائیگی کس لئے کرے؟
پروپیگنڈا کے طفیل ظالم مظلوم بن گیا اور مظلوم ظالم نظر آ رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ میں نے ملتان میں چھ کے ٹولے کی نشاندہی کی تھی جو پانچ ایم پی ایز اور ایک صوبائی وزیر پر مشتمل تھا اور انجمن امداد باہمی کے اصولوں کے تحت ایک دوسرے کے مفادات کی حفاظت کرتا تھا۔ آپس میں دست و گریباں ہونے والے ایم پی اے اور وزیر موصوف اسی چھ کے ٹولے کے رکن ہیں لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اس ٹولے کے باقی ارکان وزیر موصوف کی تیزیوں کے باعث ان سے تھوڑا سائڈ لائن پر چلے گئے ہیں اور نجی محفلوں میں دوسروں کو سرگوشی کر کے بتاتے ہیں کہ وہ کم از کم وزیر موصوف کے ٹولے کا حصہ نہیں ہیں۔
حیرانی اس بات پر نہیں کہ مفاد پرستوں میں پھوٹ پڑ گئی ہے بلکہ اس بات پر ہے کہ اب وزیروں، مشیروں اور عوامی نمائندوں پر مشتمل مافیاز کا معیار آٹا، چینی، کھاد اور زمینوں پر قبضوں سے گرتے گرتے ریت اور گسر کی حد تک آن پہنچا ہے‘ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عوامی نمائندے ریت بلیک کرکے مزدوروں اور ٹرالی کے مالکان کے استحصال جیسی سطح پر اتر آئے ہیں۔
وزیر موصوف کی لامحدود خواہشات کے باعث چھ کا ٹولہ فی الوقت پانچ کی تعداد تک سمٹ چکا ہے مگر مجھے گمان ہے کہ یہ چھ ایم پی ایز‘ جن میں ایک آزاد اور پانچ پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں‘ اگلے انتخابات میں کم از کم تین مختلف سیاسی پارٹیوں سے الیکشن لڑیں گے‘ اور یہ صرف ملتان میں ہی نہیں ہوگا، یہ تماشا جا بجا لگے گا، بلکہ ہر جا لگے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں