علم و حکمت کا دروازہ

صورتحال ایسی ہے کہ اس میں کچھ پنجابی اور سرائیکی محاورے اور ضرب الامثال یاد آ رہے ہیں لیکن زمین سے جڑی ہوئی زبانوں کے محاوروں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہر چوتھا محاورہ ایسا ہے کہ لکھا نہیں جا سکتا اور اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ چوتھا محاورہ ہی سب سے زیادہ کام کا ہوتا ہے۔ خیرات بانٹنے سے متعلق محاورہ بھی ایسا ہی ہے کہ من و عن لکھا نہیں جا سکتا اور کاٹ پیٹ کر قابل تحریر بنائیں تو اتنا بودا اور پھسپھسا رہ جاتا ہے کہ لکھنے کو جی نہیں کرتا۔ اب صورتحال خراب ہوئی ہے تو خان صاحب کو شکوے شکایتوں سے بھرے ہوئے اتحادیوں کو، ناراض ارکان اسمبلی کو اور باغی گروپوں کو منانے کا خیال آیا ہے۔ لیکن عالم یہ ہے کہ وہ اپنے باغی ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کے بجائے ان کو معاف کر دینے کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ایک محاورہ یاد آجاتا ہے۔
ایک انا پرست راجپوت کو خیرات مانگنے کی مجبوری آن پڑی تو خود ایک رانگڑ کے کندھوں پر سوار ہو گیا اور بازار میں صدا لگانے لگ گیا کہ ”لیا مائی کجھ سردا ای، نئیں تے رانگڑ بھکھا مردا ای‘‘ (اے خاتون! اگر کچھ بن پڑتا ہے تو خیرات کر دو، ورنہ یہ رانگڑ بھوکا مر جائے گا) کندھے پر سوار یہ اکڑ خان راجپوت جب رانگڑ کے بھوکے مرنے کا ذکر کرتا تو اپنی انگلی سے اس رانگڑ کی طرف اشارہ کرتا جس کے کندوں پر یہ خود چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ اپنے خان صاحب کا بھی یہی حال لگتا ہے کہ جن کو از خود ناراض کیا ہوا ہے ان کو خود منانے کے بجائے دوسروں کو بھیج رہے ہیں۔ ان کی پوری ٹیم میں صرف ایک جہانگیر ترین صاحب تھے جو ان سے ناراض ہونے والوں کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ گھیر گھار کر اور بہلا پھسلا کر واپس لے آیا کرتے تھے۔ اب وہ ناراض ہیں تو پوری ٹیم میں ایک بھی ایسا بندہ نہیں جو ناراض دوستوں کو منانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ خود خان صاحب پہلے جہانگیر ترین کے جہاز پر چڑھے رہے اور اب لگتا ہے اپنی انا کے جہاز پر چڑھ گئے ہیں۔ بندوں کی پرکھ اور پہچان کا یہ عالم ہے کہ منانے کے لیے وہ بندے منتخب کئے جن کے پاس کسی روٹھے کو منانے کا ایک دن کا بھی تجربہ نہیں؛ البتہ ان کے پاس لوگوں کو ناراض کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ ہمارے پیارے شاہ محمود قریشی اس کی روشن مثال ہیں۔
جیسے جیسے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ عدم اعتماد کے سلسلے میں اتحادی اپوزیشن کی پوزیشن بہتر جا رہی ہے ہم جیسوں کا دل بیٹھتا جا رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ خان صاحب کی حکومت کی نااہلی اور نالائقی، ان کے ارد گرد موجود لوگوں کی لوٹ مار اور ان کے مشیروں اور معاونین خصوصیوں کا جھاڑو پھیر کر غائب ہو جانے والا معاملہ اپنی جگہ لیکن جب یہ سوچتے ہیں کہ اس ملک پر پھر وہی پرانے تجربہ کار لٹیرے مسلط ہو جائیں گے تو یقین کریں ہول سا آتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال کیلئے عزیزم روف کلاسرا ایک سرائیکی محاورہ سناتا ہے لیکن افسوس! صد افسوس یہ محاورہ بھی اسی قبیل اور زمرے میں آتا ہے جو ضبط تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔
اس تحریک عدم اعتماد سے نمٹنے کیلئے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ خان صاحب خود جلسے کرنے میں مصروف ہیں اور ارکان پنجاب اسمبلی کو متحد رکھنے اور اکٹھا کرنے کی عظیم ذمہ داری جناب عثمان بزدار کے لاغر و ناتواں کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ جو بندہ ٹی وی پروگرام میں کیے جانے والے سوالات پہلے سے بتا دینے کے باوجود ایک مہمان دوست اینکر کا سامنا نہ کر سکتا ہو اسے گلوں شکووں سے بھرے ہوئے ارکان اسمبلی کو رام کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ بزدار صاحب کا لوگوں کو راضی کرنے کا جو فارمولا میں نے دیکھا‘وہ تو یہ ہے کہ انہوں نے تونسہ اور ڈیرہ غازی خان کے عوام کو خوش کرنے کیلئے ہر دو شہروں میں بڑی بمبوکاٹ قسم کی سرکس کا بندوبست کیا تھا۔
ہمارے جیسے خوش فہمیاں پالنے اور بہتری کا خواب دیکھنے والوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں؟ ایک نااہل کی متوقع رخصتی پر کیا اس لئے مسرت کے شادیانے بجائیں کہ مسند اقتدار پر پھر وہی آزمائے ہوئے کھوٹے سکے آن براجمان ہوں جن سے تنگ آ کر اس ملک میں تیسری سیاسی قوت کی آمد کو تازہ ہوا کا جھونکا سمجھ کر امیدیں وابستہ کی تھیں؟ گویا ہمارے پاس اب جو دو آپشن بچے ہیں‘ یہ ہیں کہ ہم نااہلوں یا بدعنوانوں میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ وہ جو عزیز روف کلاسرا والے محاورے کی بات ہو رہی تھی وہ ایسی ہی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ افسوس کہ یہ بھی وہی والا چوتھا محاورہ ہے۔
صورتحال سلجھنے کے بجائے روز بروز الجھتی جا رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ ہاتھ حکومتی ذمہ داروں کا ہے جنہوں نے روز اول سے ‘کِھچ کے رکھو‘ اور ‘دَب کے رکھو‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ مخالفین پر زوردار چڑھائی کی حکمت عملی پر عمل پیرا خان صاحب کے مقلدین نے بھی اسی پالیسی کو اپنایا اور حکومت میں آنے کے بعد بھی مخالفین پر چڑھائی جاری رکھی۔ اس دوران خان صاحب نے نئی نئی منطقیں ایجاد کیں اور اپنے مخالفین سے باقاعدہ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ اس سلسلے میں پیش کی گئی دلیل اتنی بے تکی ہے کہ سوائے حیرت کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا: شہباز شریف سے ہاتھ ملانے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کی کرپشن کو قبول کرلیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پوپ سے ہاتھ ملانے کا مطلب یہ نکال لیا جائے کہ میں نے عیسائیت قبول کرلی ہے۔ ولادیمیر پوٹن سے ہاتھ ملانے کا مطلب یہ نکال لیا جائے کہ ہم نے روس کے یوکرین پر حملے کو درست مان لیا ہے اور مودی سے ہاتھ ملا لیں تواس کا مطلب یہ نکال لیا جائے کہ نہ صرف میں نے اس کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو جائز مان لیا ہے بلکہ پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و بربریت کو بھی بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کرلیا ہے۔ حکمرانی کے تقاضوں میں پہلا تقاضا اپنی ذات سے اوپر جاکر سوچنا ہوتا ہے اور اس معاملے میں خان صاحب نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا۔
اگر وہ پرویز الٰہی کو صاف لفظوں میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دینے کے بعد اسے پنجاب کا سپیکر بنا سکتے ہیں اور سیالکوٹ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی38 پر اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے اس حلقے میں چودھری پرویز الٰہی کے زیر اثر ووٹوں کے حصول کی خاطر مونس الٰہی کو وفاقی وزارت دے سکتے ہیں تو شہباز شریف سے ہاتھ ملانے میں کیا حرج تھا؟ جب مطلب ہوتو سپیکری اور وفاقی وزارت بخش دیں اور دل نہ کرے تو ہاتھ ملانے سے انکار کردیں۔ یہ رویہ کسی سربراہ حکومت کا نہیں بلکہ کسی زود رنج بچے کا ہی ہو سکتا ہے۔ ایک دوست کہنے لگا کہ جہانگیر ترین کو بہرحال اس موقع پر سب کچھ بھول کر خان کا ساتھ دینا چاہئے تھا۔ میں نے اس دوست سے پوچھا کہ جہانگیر ترین نے تو بجٹ کے موقع پر حکومت کی غیرمشروط حمایت کردی تھی‘ جواباً گزشتہ نو ماہ میں ان کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا گیا ہے؟ نرگسیت میں مبتلا خان صاحب اپنی غیرمشروط حمایت اور اطاعت کو اپنا حق سمجھتے ہیں‘ اور ایسا نہ کرنے والے کو کسی صورت معاف نہیں کرتے۔ اگر وہ اپنی میں سے باہر نکل سکتے تو صورتحال شاید اتنی خراب نہ ہوتی۔ جب یہ زعم ہوکہ آپ کو ہر بات کا علم ہے اور آپ سب کچھ جانتے ہیں تو پھر آپ پر بہتری، علم، آسانی اور حکمت کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں