میانوالی‘ بھکر‘ لیہ کے عظیم لوگ

عمران خان اور مریم نواز جب سے لیہ میں جلسے کرکے آئے ہیں تب سے بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر یار دوست ان جلسوں کے بارے مجھ سے فیڈ بیک مانگ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دوست زیادہ پُرجوش تھے۔ وہ خوش تھے کہ لیہ کی تاریخ میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں لوگ باہر نہیں نکلے۔ بات ٹھیک بھی ہے۔ عمران خان نے جتنے لوگوں کو باہر نکالا‘ لیہ کی تاریخ میں پہلے شاید ایسا نہیں ہوا۔
پی ٹی آئی والوں کی خوشی اُس وقت دوبالا ہوگئی جب لیہ جلسے میں مریم نواز کے منہ سے نکل گیا کہ وہ لیہ کو تحصیل بنوائیں گی حالانکہ لیہ کو ضلع بنے بھی تقریباً چالیس سال ہونے کو آئے ہیں۔ یوں مریم نواز کا پورا جلسہ اس ایک فقرے کی نذر ہوگیا۔ مریم نواز کو تقریر کرنے سے پہلے علاقے کی بنیادی چیزوں‘ وہاں کی ضروریات اور مسائل کا پتا ہونا چاہیے تھا لیکن وہی بات کہ جب مریم نواز جیسے لیڈر بغیر تیاری اور بریفنگ کے تقریر کریں گے تو پھر یہی کچھ ہوگا۔ میں اگر عمران خان یا مریم نواز کے لیہ میں جلسوں کی تقریر لکھ رہا ہوتا یا انہیں پوائنٹس بنا کر دیتا تو میں صرف ایک لائن میں سب کچھ ختم کر دیتا کہ ”اگر پنجاب میں ہماری حکومت بنتی ہے تو میں وعدہ کرتا؍ کرتی ہوں کہ ایک سال کے اندر اندر میانوالی سے مظفرگڑھ تک ایم ایم روڈ کو جدید موٹر وے میں بدل دیا جائے گا۔ اسی ایک جملے پر الیکشن جیتا جا سکتا تھا۔
ڈی آئی خان‘ تلہ گنگ‘ میانوالی سے بھکر‘ لیہ‘ مظفرگڑھ تک کے ان علاقوں کا سب سے بڑا مسئلہ ایم ایم روڈ ہے جہاں حادثات میں سینکڑوں خاندان اُجڑ چکے ہیں۔ پانچ سوکلومیٹر طویل یہ سڑک لاکھوں لوگ استعمال کرتے ہیں۔ میں نے25 برس قبل یہ سڑک استعمال کرنا شروع کی جب میرا تبادلہ ملتان سے اسلام آباد ہوا اور میں اپنے گاؤں لیہ جانے کے لیے اسلام آباد‘ تلہ گنگ سے میانوالی‘ بھکر‘ لیہ تک اس روڈ پر سفر کرتا۔ ان پچیس برسوں میں مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس سڑک کی قسمت کبھی بدلی ہو۔ اس سڑک پر لوگ تب بھی حادثات کا شکار ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں کلو میٹر طویل اس سڑک پر آپ کو کوئی ٹراما سنٹر‘ ایمبولینس سروس یا پولیس پٹرولنگ نہیں ملے گی۔ لوگ حادثات کا شکار ہوں گے اور خود ہی روتے پیٹتے گھروں کو لوٹ جائیں گے لیکن کبھی کسی حکمران سے سوال نہیں کریں گے۔ مجھے جن چند باتوں پر گہرا دکھ بلکہ پچھتاوا ہے‘ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو مجھ سے پوچھا‘ بتائیں آپ کے لیہ شہر کے لیے کون سا پروجیکٹ شروع کیا جائے؟ میں بیوقوف کہہ بیٹھا کہ وہاں یونیورسٹی بنوا دیں۔ مجھے کہنا چاہیے تھا کہ ایم ایم روڈ کو موٹروے بنوا دیں جیسے انہوں نے فیصل آباد سے ملتان موٹر وے شروع کیا تھا۔ شاید یہی گہرا پچھتاوا تھا جس نے مجھے مجبور کیا کہ ستمبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان کی اینکرز سے پہلی ملاقات میں میں نے یہ ایشو اٹھایا کہ وہ ایم ایم روڈ کی تعمیرِ نو کرائیں کیونکہ لوگ روزانہ اس طویل سڑک پر حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ میری بات سن کر عمران خان اچانک بھڑک کر اٹھ کھڑے ہوئے اور ناراض ہو کر مجھے کہا: یہ میرا کام نہیں کہ یہ سڑک بنواؤں۔ وہاں موجود چند صحافیوں نے الگ سے میرا مذاق اڑایا تھا۔ وزیراعظم عمران خان سے میرے ایم ایم روڈ کے سوال کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ‘مجاہدین‘ کی طرف سے میری تصویریں بگاڑ کر کئی روز تک مجھے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس کے بعد مجھے باقاعدہ بین کر دیا گیا کہ آئندہ اس شخص کو وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں نہ بلایا جائے۔
جنوبی پنجاب کے ان پانچ اضلاع کے لوگوں نے شاید پی ٹی آئی کو جتوایا بھی اس لیے تھا کہ شہباز شریف کے دس سالہ دور میں ان علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہ ہوا۔ جب ہر طرف موٹر ویز بن رہے تھے تو بھول کر بھی سرائیکی علاقوں کی سڑکوں کی بحالی کا کام نہ کیا گیا بلکہ شریف خاندان نے سی پیک کا جو پہلا روٹ انہی علاقوں میں بنتا تھا‘ وہ بھی یہاں نہ بننے دیا۔ سی پیک کا روٹ ڈیرہ اسماعیل خان سے میانوالی‘ لیہ‘ بھکر اور مظفرگڑھ سے ملتان اور کراچی موٹر وے سے ملانے کے بجائے حیران کن طور پر اسلام آباد کی طرف موڑ دیا گیا۔ یوں ان غریب علاقوں کے عوام کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا۔ بلکہ مجھے یاد ہے سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے دور میں لیہ میں جدید ہسپتال پر کام ہورہا تھا‘ جس پر ستر کروڑ لاگت آنی تھی۔ شہباز شریف نے وزیراعلیٰ بنتے ہی 2008ء میں اس ہسپتال پر کام روک کر فنڈز واپس لاہور منگوا لیے۔
سب کا خیال تھا کہ عمران خان کو ان علاقوں سے مینڈیٹ ملنے کے بعد یہاں ترقی ہو گی۔ ان علاقوں کا انفرا سٹرکچر بہتر کیا جائے گا‘ کئی بڑے پروجیکٹس یہاں شروع ہوں گے جس سے شہباز شریف دور میں روا رکھے جانے والے رویے کا بھی ازالہ ہو جائے گا۔ ازالہ خاک ہوتا‘ اُلٹا عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ بن کر لیہ سے ملتان‘ بہاولپور تک کے وسائل پر ڈاکا مارا اور بہت سی سہولتیں جو ان بڑے شہروں میں موجود تھیں‘ وہ سب بھی ایک آرڈر سے تونسہ منگوا لی گئیں۔ لیہ ہسپتال سے تو آلات تک تونسہ بھجوانے کے آڈرز دیے گئے۔ بہاولپور سے بسیں‘ تو ملتان سے بھی ایسی کئی سہولتیں اپنے علاقے میں لے گئے۔ آپ وزیراعلیٰ تھے‘ آپ نئے آلات خریدتے یا نئے استاد بھرتی کرتے۔ اُس کے بجائے لیہ کالج سے استادوں کا تبادلہ تونسہ یا ڈیرہ کیا گیا۔ لاہور سے تو کسی پروفیسر‘ استاد یا ڈاکٹر کو تونسہ بھیجنے کی جرأت نہ ہوئی سارا زور لیہ‘ بہاولپور اور ملتان پر ہی چلا۔
ایم ایم روڈ کو چھوڑیں‘ آپ شور کوٹ موٹر وے سے اتر کر لیہ چوبارہ اور چوک اعظم والی سڑک پر سفر کر کے دکھائیں۔ جی ہاں! وہی چوبارہ کا علاقہ جہاں عمران خان اور مریم نواز نے حال ہی میں بڑے جلسے کیے ہیں۔ اس سڑک پر گاڑی چلانا تو چھوڑیں‘ پیدل چل کر ہی دکھا دیں۔ شہباز شریف سے لے کر عثمان بزدار تک کسی نے اس سڑک کو ٹچ بھی نہ کیا‘ جس کا بس چلا اس نے ہی ان علاقوں کا استحصال کیا۔ شہباز شریف کے دس سال اور عمران خان کے ساڑھے تین سال حکمرانی کے بعد بھی چوبارہ چوک اعظم کے علاقوں کی بری حالت ہے۔ نہ عمران خان نے کچھ کیا‘ نہ شریف خاندان کو اللہ نے لاہور سے فرصت دی۔
بہرحال مجھے داد دینے دیں میانوالی‘ بھکر‘ لیہ اور مظفرگڑھ کے اُن لاکھوں لوگوں کو جو بدترین زندگیاں گزار رہے ہیں لیکن اُن لوگوں کے لیے جینے مرنے پر تیار ہیں جن میں سے ایک ایم ایم روڈ کی تعمیر کا سوال سن کر ناراض ہو کر پریس ٹاک چھوڑ کر چلا جاتا ہے کہ یہ میرا کام نہیں کہ ان علاقوں میں سڑکیں بنواؤں‘ لوگ حادثات کا شکار ہو رہے ہیں تو ہوتے رہیں جبکہ دوسری لیڈر مریم نواز کو اس علاقے کے لوگوں سے اتنی محبت ہے کہ وہ چالیس سال پہلے بنے ضلع لیہ کو تحصیل بنوائیں گی۔
یہ ہیں ہمارے پیارے قومی لیڈرز جو پچھلے دنوں ایک سیٹ جیتنے کے لیے لیہ کے صحرا تھل میں تشریف لے گئے۔ ویسے میانوالی‘ بھکر‘ لیہ اور مظفرگڑھ کے ان لاکھوں عظیم لوگوں سے زیادہ اچھے لوگ کہاں ملیں گے جنہیں اپنے ”قاتلوں‘‘ سے پیار ہے۔ لیہ میں اتنے ہزاروں لوگ کبھی ایم ایم روڈ یا شور کوٹ لیہ روڈ مانگنے اکٹھے نہیں ہوئے جن تباہ حال سڑکوں پر یہ روز حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ہزاروں لوگ جولائی کی گرمی میں تپتے تھل صحرا میں پھر بھی عمران خان اور مریم نواز کے جھنڈے اُٹھائے نعرے مار مار کر ہلکان ہورہے ہیں۔ کون اپنے ”قاتلوں‘‘ سے اتنا پیار کرتا ہے جتنا میرے علاقوں کے لوگ کرتے ہیں۔ بلاشہ یہ سب عظیم لوگ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں