پہاڑ واپس بلا رہے ہیں!

احمد شاہ کا تعلق وزیرستان کے قریب ایک علاقے سے ہے۔ وہ رضوان احمد خان کے گھر پچھلے سات سال سے ڈرائیور ہے۔ اس کی عمر 47 سال ہے۔بتانے لگا کہ دس جنوری کو وہ کراچی چھوڑ کر واپس وزیرستان اپنے بچوں کے پاس جارہا ہے۔
میں چونکا اور پوچھا: خیریت؟ لوگ وزیرستان یا قبائلی علاقے چھوڑ کر کراچی اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں اور آپ کراچی چھوڑ کر وزیرستان جارہے ہیں۔ احمد شاہ نے ایک گہری سانس لی اور بولا کہ وہ کراچی‘ جہاں میرا دادا وزیرستان ایک دشمنی کی وجہ سے چھوڑ کر آباد ہوا تھا‘ اب اسے مزید اپیل نہیں کرتا‘ اس کا وزیرستان لوٹنے کو دل کرتا ہے۔
میں نے پوچھا: احمد کیا ہوا؟ احمد نے اپنی کہانی سنانی شروع کی۔
کراچی جانا ہو تو رضوان احمد خان کے گھر ٹھہرنا ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ہندوستان کے شہر رام پور سے ہے جہاں کے چاقو بڑے مشہور ہیں۔ رضوان صاحب ہمارے دوستوں کے دوست مرحوم عمران احمد خان کے بھائی ہیں۔ عمران احمد پی آئی اے میں تھے۔ ہردلعزیز ‘کھلا ڈلا لیکن لاابالی۔ ان کی شاہین صہبائی اور عامر متین سے بڑی دوستی تھی۔ میرے پیر بھائی اقبال دیوان اگر کراچی ہوں تو ان کے ساتھ محفل جم جاتی ہے۔ دیوان جی ایک اصلی اور نسلی قسم کے میمن ہیں اور اکثر میمن مزاح بارے شاندار گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ان کی اپنی ایک مخصوص حسِ مزاح ہوتی ہے جسے ہر کوئی نہیں سمجھ پاتا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب، پینٹر، لکھاری اور ادیب ہیں۔ ان کی حال ہی میں شاندار لٹریری کتاب ”کہروڑ پکا کی نیلماں‘‘ چھپی ہے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے وہ قریبی اور لاڈلے افسر تھے لہٰذا ہمارے پاس باتیں کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔
خیر بات ہورہی تھی رضوان احمد خان کی۔ مجھے ہمیشہ سے وہ لوگ بہت متاثر کرتے ہیں جن کے ہاں برسوں پرانے ملازمین کام کرتے ہوں۔ میں ان لوگوں کے ساتھ کمفرٹ ایبل محسوس نہیں کرتا جن کے ہاں آپ جب بھی جائو تو نیا ملازم نظر آئے۔ جس گھر میں ملازم مدتوں سے کام کررہے ہوں میرا خیال ہے ایسے لوگوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ گھریلو ملازمین کا ایسا خیال رکھتے ہیں کہ وہ چھوڑ کر اور کہیں جانے کا نام نہیں لیتے۔ یہ ان مالکان کا کریڈٹ ہوتا ہے کہ ملازمین کی عادتیں اتنی خراب کر دیتے ہیں کہ وہ پھر کسی اور کے قابل نہیں رہتے۔ ایک دفعہ بھارتی کوریوگرافر فرح خان کے کسی گھریلو ملازم کا انٹرویو دیکھ رہا تھا۔ کہنے لگا: وہ سب ملازمین کا اتنا خیال رکھتی ہیں کہ گرمیوں میں ملازمین کو ایئرکنڈیشنر لگوا کر دیا ہوا ہے کہ اگر مالکان ٹھنڈے کمرے میں سوئے ہوئے ہیں تو ملازمین بھی وہی سہولے انجوائے کریں۔
یہی حال رضوان احمد خان کا بھی ہے۔ وہ ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے ہاں بھی گھریلو ملازمین کو مطمئن اور خوش دیکھا۔ انہوں نے ایک بڑی اعلیٰ بات بتائی کہ 1987 میں انکے والد نے کراچی میں چمڑے کا کاروبار شروع کیا تو ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس وقت ایک کروڑ کا نقصان ہوا۔ سب لوگ گھر ڈپریسڈ بیٹھے تھے کہ اتنا بڑا نقصان ہوگیا۔ وہ بولے: نقصان تو ہوگیا لیکن تجربہ دے گیا‘ اب کوئی نیا نقصان نہیں اٹھائیں گے‘ یہی کاروبار کریں گے۔ آج وہ چمڑے کے بڑے ایکسپورٹرز ہیں۔یاد آیا کہ کچھ برس قبل ایک دوست کے ساتھ کراچی آیا تھا اور اس کے بیٹے کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ان کے ڈرائیورکو نامطمئن پایا۔ وجہ پوچھی تو بولا: صاحب دس ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں‘ کئی دفعہ درخواست کی کہ دو ہزار بڑھا دیں کہ اب کراچی میں گزارہ نہیں ہوتا نہیں مانے اور کہا: کہیں اور ڈھونڈ لو۔ اسی رات وہ نوجوان مجھے اور اپنے والدکو ایک شاندار ریسٹورنٹ کھانا کھلانے لے گیا۔ اس وقت کم از کم بل تین چار ہزار بنا ہوگا۔ مجھ سے نوالے نگلنا مشکل ہورہا تھا کہ کسی کیلئے پورے ایک ماہ میں دو ہزار اضافی تنخواہ کتنا بڑا ایشو تھا اور یہاں آرام سے ہم تینوں تین چار ہزار روپے کا کھانا کھا گئے تھے۔
خیر یہی سوچ کر احمد سے پوچھا: کیا بات ہے رضوان صاحب سے آپ خوش نہیں ہیں؟‘ بولا: نہیں نہیں صاحب‘ رضوان صاحب اور باجی، ان کی بہنیں سب گھر کے افراد اپنے گھر کا فرد سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے تو سات برسوں سے انکے ہاں کام کررہا ہوں۔ بہترین سہولتیں دے رکھی ہیں بلکہ باجی تو ہر ماہ یہ کہہ کر نہیں جانے دیتیں کہ ابھی رک جائو۔
‘تو پھر کیا ہوا؟‘ میں نے احمد شاہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگا: میرا دادا وزیرستان چھوڑ کر کراچی چلا آیا تھا کہ ان کی پرانی دشمنی چل رہی تھی۔ ان کے والد اس وقت دو برس کے تھے۔ خود احمد شاہ کراچی میں پیدا ہوئے۔ احمد شاہ باتوں اور رویے سے سمجھدار اور مہذب انسان لگا۔ میں نے پوچھا: آپ کتنے پڑھے ہوئے ہیں؟ کہنے لگا: قسمت میں پڑھائی کہاں؟ بچپن سے ہی مزدوری کرنا شروع کر دی تھی۔ میں نے کہا: کراچی جیسا شہر چھوڑ کر وزیرستان کیوں؟ احمد نے ایک گہری سانس لی اور بولا: کراچی میں ہی پیدا ہوا‘ یہیں پلا بڑھا‘ بچے بھی یہیں پیدا ہوئے۔ میں نے پوچھا: کتنے بچے ہیں؟ بولا: سات ہیں‘ پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے۔
میں نے کہا: ماشاء اللہ۔ بچوں کا سن کر حیران نہیں ہوا‘ لیکن اس وقت حیران ہوا جب وہ بولا کہ دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے‘ اب بیٹے کی شادی وزیرستان جاکر کروں گا۔ میں نے کہا: احمد وہ واٹس ایپ سٹیٹس پر جو پیاری سی چھوٹی سال دو سال کی بچی کی فوٹو لگائی ہوئی ہے؟ وہ جلدی سے بولا: میری سب سے چھوٹی بیٹی ہے‘ شائستہ نام ہے۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی جب اس کی تصویر لی۔ بڑی ہوگی تو اسے دکھا کر چھیڑوں گا۔
میں نے کہا: احمد آپ کے آبائواجداد کہاں سے آئے تھے؟ بولا: وہ دراصل بخارا سے تھے‘ ہم سید لوگ ہیں۔ اپنے علاقے میں میرے والد کا پھڈا ہوا‘ دشمنی پڑ گئی تو وہ افغانستان ہجرت کرگئے۔ وہاں بھی ہمارے کسی بڑے کا جھگڑا ہوا تو وہ چھوڑ کر وزیرستان آگئے۔ وزیرستان پھڈا ہوا تو دادا کراچی چلے آئے۔ پھر خود ہی ہنس کر بولا: ہمارا خاندان پھڈے ہی کرتا آیا ہے‘ اس لیے میں نے جب بچپن سے یہ سب کہانیاں سنیں تو ہمیشہ خیال رکھاکہ ہمارے خاندان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے لہٰذا میں نے آج تک کسی سے پھڈا نہیں کیا کہ مجھے بھی اپنے بچوں کے ساتھ وہ تاریخ نہ دہرانی پڑے جو میرے بزرگوں ساتھ مسئلہ رہا۔
میں نے کہا: احمد ابھی تک آپ نے وجہ نہیں بتائی کہ وزیرستان واپس کیوں جارہے ہیں؟ احمد نے گہری سانس لی اور بولا: اب کراچی میں دل نہیں لگتا۔ ہر طرف ٹریفک، بھیڑ بھاڑ۔ دل گھبراتا ہے۔ بچے اپنے گائوں گئے تو انہوں نے واپس آنے سے انکار کر دیا۔ اتنے خوبصورت علاقے‘ طویل قامت پہاڑ‘ کھلا آسمان جہاں رات کو پورا چاند نظر آتا ہے۔ میرے بچے اپنے باپ دادا کے علاقوں کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے ہیں کہ وہ وہیں کے ہورہے۔ اب میں ان کے بغیر اکیلا کراچی کیا کروں گا؟ اپنی کچھ زمین ہے وہ کاشت کر لوں گا‘ گزارہ ہو ہی جائے گا۔
ایئرپورٹ پر اتارنے سے پہلے احمد نے مڑ کر مجھے دیکھا اور بولا: دراصل مجھے پہاڑ واپس بلا رہے ہیں۔ مجھے اپنے باپ دادا کی دھرتی واپس بلا رہی ہے جہاں سے وہ کبھی جان بچانے کیلئے ہزاروں میل دور کراچی آن بسے تھے۔ اب واپسی کا سفر شروع ہے۔ اب گھر جانا ہے۔
احمد اب بھی بول رہا تھا۔ میں نے بیگ کندھوں پر لٹکایا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر ایئرپورٹ کی طرف چل پڑا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں