ووٹ کی طاقت

قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 133 میں ضمنی انتخاب کا نتیجہ جب سے سامنے آیا ہے، پیپلز پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔ یہاں اسلم گل‘ جو ایک پرانے جیالے اور لاہوری برانچ کے سربراہ ہیں، میدان میں اتارے گئے تھے۔ آصف علی زرداری بنفسِ نفیس لاہور تشریف لائے اور اپنے کارکنوں میں نئی روح پھونکتے رہے۔ راجہ پرویز اشرف نے جو کہ وسطی پنجاب پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں یہیں ڈیرے ڈالے رکھے، پیپلز پارٹی کے متعلقین اور متاثرین دور دور سے آئے، گھر گھر پہنچے اور ووٹ مانگتے رہے۔ الزام لگانے والے الزام لگاتے رہے، ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالتے رہے، لیکن پیپلز پارٹی نے اپنا کام جاری رکھا۔ پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین کی دہائی دی جاتی رہی۔ مسیحی بستیوں کی مسیحائی کا تذکرہ بھی جاری رہا، برادرم ہارون الرشید اور عزیزم حبیب اکرم جیسے تجزیہ کار دور اور نزدیک سے بہت سی کوڑیاں لائے، لیکن سو باتوں کی ایک بات یہی تھی کہ پیپلز پارٹی نے ووٹوں سے بوریاں بھر کر دکھا دیں۔ جمہوریت اک ایسا طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ یہاں تارا مسیح کا ووٹ بھی اسی طرح گنا جاتا ہے، جس طرح کسی شیخ الحدیث والتفسیر کا، کرم علی کے ووٹ کا وزن بھی وہی ہوتا ہے جو برادرم خرم نواز گنڈا پور کا ہے۔ سارے ووٹ ایک ہی رنگ، ایک ہی شکل اور ایک ہی وزن کے ہوتے ہیں اور انہی کے بدولت ریاست کے مالکانہ حقوق کا دعویٰ کمزور سے کمزور اور غریب سے غریب بھی اسی طرح کر سکتا ہے جس طرح ایک کروڑ پتی، ارب پتی یا ہٹا کٹا سیٹھ، تاجر یا بزنس مین کرتا ہے۔ ووٹ کی میزان میں سب برابر ہو جاتے ہیں، پاکستان ووٹ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا اور اسی بنیاد پر مستحکم رہ سکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے کہ ووٹ کو عزت دی جائے۔ کوئی نواز شریف سے اتفاق کرے یا اختلاف، ان کی اس بات کو جھٹلا نہیں سکتا۔ پاکستان انہی علاقوں میں تو قائم ہوا تھا، جہاں مسلم لیگ کے ووٹر زیادہ تھے، اگر کانگریس کا پلڑا بھاری پڑ جاتا، ووٹ اس کی صندوقچی سے زیادہ برآمد ہو جاتے تو الگ مملکت کا خواب خواب ہی رہتا۔

زرداری صاحب کے اسی امیدوار نے اسی حلقے سے تین برس پہلے عام انتخابات میں 5585 ووٹ حاصل کئے تھے، جو اب بڑھ کر 32,313 ہو گئے ہیں، چھ گنا زیادہ۔ زرداری صاحب جو جھوم رہے ہیں، گا رہے ہیں، اور رقص فرما رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) پر چڑھ دوڑے ہیں، اور نواز شریف صاحب کے لتّے لے رہے ہیں تو یہ ان ہزاروں ووٹوں ہی کا کرشمہ ہے، جو ان کی جھولی میں آ پڑے ہیں یا جنہیں گھیر گھار کر، پچکار یا چمکار کر وہ اپنی جھولی میں ڈالے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سبز باغ دکھانے شروع کر دیے ہیں، نعرہ لگا دیا ہے کہ پنجاب کا آئندہ وزیر اعلیٰ کوئی جیالا ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) نے جوابی زخم لگانے کے لیے طلال چودھری کو آگے کر دیا ہے کہ وہ شمشیر برہنہ ہیں، ہر بات کہہ سکتے اور ہر وار سہہ سکتے ہیں۔ وہ یا ان کی طرح کے لوگ جو بھی کہیں یا کریں پیپلز پارٹی اکھاڑے میں واپس آ چکی ہے۔ حلقہ 133 نے اعلان کر دیا ہے کہ روٹھے ہوئے ووٹر کو منایا جا سکتا ہے۔ رانا ثناء اللہ اور قمر زمان کائرہ نے جلتی پر پانی چھڑکنے کی کوشش کی ہے لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے راستے جدا ہیں۔ پیپلز پارٹی میں ان لوگوں کی کمی نہیں، جو مسلم لیگ (ن) کی تنگی میں اپنے لیے کشادگی ڈھونڈتے ہیں۔ اس پر دبائو بڑھے گا، تو ان کے اندازے میں ان پر دبائو کم ہو گا۔ یوں دائو پیچ آزمانا ان کے لیے آسان ہوتا جائے گا۔

زرداری صاحب کشتی کھیلتے ہیں نہ کبڈی، وہ تو تاش پھینٹ سکتے ہیں یا شطرنج کی بازی لگا سکتے ہیں۔ یہ کھیل میدانوں میں نہیں، ڈرائنگ روموں میں ہوتے ہیں، سو ان کا ڈرائنگ روم ہی ان کا میدان ہے۔ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا۔ آج کے گڑے مردے کل چلتے پھرتے نظر آ سکتے ہیں، اور آج کی کھلی آنکھیں کل بند ہو سکتی ہیں۔ افراد ہوں یا جماعتیں انہیں ڈوب کر ابھرتے اور ابھر کر ڈوبتے دیکھا جاتا رہا ہے، اور دیکھا جاتا رہے گا۔ وزیر اعظم عمران خان ہی کو دیکھ لیں 1997ء اور 2002ء کے انتخابات میں ان کے ہاتھ کیا آیا تھا، لیکن 2013ء میں طاقت پکڑ لی، اور 2018ء میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو سمجھا جا رہا تھا کہ ان کی سیاست بھی تختہ دار پر لٹکا دی گئی ہے، یہ منوں مٹی کے نیچے دبی رہے گی، لیکن گیارہ سال بعد ان کی بیٹی اپنے والد کی کرسی بازیاب کرانے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان کے اپنے صدر فاروق لغاری نے سنگین الزامات لگا کر ان کی اسمبلی تحلیل کی، اور وزیر اعظم ہائوس سے انہیں چلتا کیا تو پورا ملک، یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور کے نعروں سے گونج اٹھا، لیکن ان کے ووٹر دبک کر گھروں میں بیٹھے رہے تو انہیں چند نشستوں پر قناعت کرنا پڑی۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو ان کے زیر اہتمام انتخابات میں پیپلز پارٹی پھر طاقت بن کر ابھری۔ اگر اس میں سے ”پیٹریاٹ گروپ‘‘ برآمد نہ کر لیا جاتا تو اقتدار کو اس سے دور رکھنا مشکل تھا۔ جنرل پرویز مشرف چند ہی برس بعد بے نظیر بھٹو سے معاملہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ان کے ساتھ این آر او پر دستخط کیے، سینکڑوں کیا ہزاروں افراد پر مقدمات ختم ہوئے، اور بے نظیر بھٹو فاتحانہ واپس پہنچیں۔ ان کی جان چلی گئی تو پرویز مشرف کو بھی اقتدار میں رہنا نصیب نہ ہوا۔ آصف علی زرداری نے انہیں ایوانِ صدارت سے یوں باہر نکالا جیسے دودھ سے مکھی نکالی جاتی ہے، خود ان کی جگہ سنبھال لی، اور اپنے گیلانی مخدوم کو وزیر اعظم بنا ڈالا۔ انہیں چودھری کورٹ نے ڈس لیا، تو راجہ پرویز اشرف راج کرنے لگے۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی جس طرح سمٹی، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ 2013ء اور 2018ء کے انتخابات اسے راس نہ آئے، لیکن 2023ء اور 2028ء میں کون کہہ سکتا ہے کہ کیا ہو گا؟ بلاول بھٹو کی جوانی دیوانی بن سکتی ہے، اور پیپلز پارٹی ایک بار پھر اٹھ کر بیٹھ، بیٹھ کر چل اور چل کر دانا دنکا چگ سکتی ہے۔ سیاست دان شکست کھا کر بھی شکستہ نہیں ہوتے۔ سرکاری ملازم خواہ جیسے بھی ہوں ریٹائرمنٹ کے بعد مٹی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ سارا کروفر ان کے منصب سے وابستہ ہوتا ہے، جونہی سبک دوش ہوئے بچھانے والوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ سیاست دان ابھر کر ڈوبتا اور ڈوب کر ابھرتا رہتا ہے۔ نواز شریف تین بار وزیر اعظم بنے۔ انہیں اقتدار سے رخصت کرنے والوں نے سمجھا ہو گا کہ ان کی سیاست بھی رخصت ہو گئی، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ جنرل پرویز مشرف اسے بے دم کر سکے نہ قید اور جرمانے کی سزائیں انہیں اپنے راستے سے ہٹا سکی ہیں۔ ان کا ووٹر آج بھی ان کی طاقت بنا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں