پھر وہی موٹروے (2)

مراد سعید والی بات صرف پاکستان پوسٹ تک رہتی تو میں شاید شوکت سے بالکل بھی بحث نہ کرتا کہ جس بات کا مجھے ذاتی طور پر تجربہ نہ تھا بھلا میں اس پر خواہ مخواہ کی بحث یا کٹھ حجتی کیوں کرتا؟ تاہم شوکت نے آگے سے سوال داغ دیا کہ موٹروے پر کیا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا: کوئی ایک مسئلہ ہو تو بتائوں۔ سالوں سے اس پر لکھ رہے ہیں مگر اب تو یقین سا ہوتا جا رہا ہے کہ اس لکھے کو کم از کم وہ تو ہرگز نہیں پڑھتے جنہوں نے اس معاملے کو سنوارنا یا درست کرنا ہے۔ رہ گئے دیگر پڑھنے والے تو وہ ہماری طرح محض کُڑھ ہی سکتے ہیں‘ کچھ کر نہیں سکتے۔ تمہیں یاد ہوگا کہ ہم گزشتہ سال اکٹھے ملتان سے سکھرگئے تھے۔ شوکت نے سر ہلا کر میری بات کی تائید کی۔ تمہیں وہ ناشتہ یاد ہے جو اچ شریف والے سروس ایریا میں کیا تھا؟ شوکت نے سر ہلا کر تصدیق کی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ناشتہ کیسا تھا؟ اس نے کہا: نہایت ہی بیکار تھا۔ چنے کچے تھے اور پراٹھے بیک وقت کناروں سے کچے اور درمیان سے جلے ہوئے۔ پلیٹیں، گلاس اور کپ انتہائی فضول، فارغ اور انتہائی کمتر معیار کے تھے لیکن اس ناشتے کی قیمت کسی بھی بہترین ریسٹورنٹ کی قیمت سے کم نہ تھی۔ دو پراٹھوں، دو پلیٹ چنوں اور ایک چائے کا بل گیارہ سو روپے بنا۔ واپسی پر اعظم پور کے ریسٹ ایریا میں رک کر واش روم گئے تو پانی ندارد۔ مسجد کے ساتھ والے واش رومز بند تھے۔ وہاں پر لگے ہوئے پینافلیکس پر لکھے ہوئے ایک نمبر پر فون کیا تو آپریٹر نے جواب دیا کہ چینیوں نے یہ کام کرنا تھا انہوں نے نہیں کیا۔ اسے کہا کہ کسی ذمہ دار بندے کا فون نمبر دے دو۔ اس نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کا نمبر دے دیا۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر کو فون کیا تو اس نے جواباً بتایا کہ وہ اس وقت میٹنگ میں ہے۔ مجھے دوبارہ فون کرنے کے لئے کہا۔ جب اسے کہا کہ میں آپ کو بحیثیت پروجیکٹ ڈائریکٹر آپ کی ذمہ داریوں کے بارے میں فون کررہا ہوں، آپ اسے اپنی ڈیوٹی کا حصہ سمجھیں اور میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد مجھے فون کریں۔ اس نے جان چھڑانے کیلئے وعدہ تو کر لیا مگر ایک سال گزر چکا‘ اس کا ابھی جوابی فون نہیں آیا۔ ممکن ہے میٹنگ ابھی تک چل رہی ہو۔
خیر گزشتہ سال کا زیادہ ذکر کیا کرنا۔ ملتان فیصل آباد ایم فور موٹروے کو مرحلہ وار چالو ہوئے اب چارسال ہونے کو ہیں۔ ملتان کے شیر شاہ انٹرچینج سے لے کر فیصل آباد سے بیس پچیس کلومیٹر آگے ساہیوانوالہ سروس ایریا ساڑھے تین سو کلومیٹر کے بعد آنے والا پہلا نسبتاً صاف اور معقول سروس ایریا ہے لیکن یہاں بھی یہ عالم ہے کہ کافی کا کپ ساڑھے تین سو روپے میں ہے۔ چلیں یہ قیمت تو کسی طور گوارا کی جا سکتی ہے کہ دیگر کئی جگہوں پر بھی کافی کا یہی ریٹ ہے لیکن جب کپ کو پکڑا تو ہاتھ جل گئے۔ عام گتے کے کپ میں گرم کافی کے باعث اسے پکڑنا مشکل تھا۔ کافی شاپ والے سے کہا کہ وہ مجھے کپ سلیو (Cup Sleeve) دے دے۔ میری بات سن کر کائونٹر پر کھڑا لڑکا حیرانی سے پوچھنے لگا کہ وہ کیا ہوتی ہے؟ میں نے کہا: برخوردار!آپ کافی کے کپ کی قیمت میں جن لوگوں کی نقل کرتے ہو‘ ان سے تھوڑا سا سلیقہ بھی سیکھ لو۔ بجائے شرمندہ ہونے کے وہ دانت نکالنے لگ گیا۔
ملتان سے نکلیں تو سائیڈوں والا جالی دار جنگلہ کہیں سے ٹوٹا ہوا تھا، کہیں سے کٹا ہوا اور کہیں سے باقاعدہ غائب تھا۔ ارد گرد کے رہائشی موٹروے پر مٹر گشت کررہے ہوتے ہیں۔ مخدوم پور پہوڑاں انٹرچینج کے ساتھ واقع منی سروس ایریا کے دکانداروں نے پیچھے سے جالی کاٹ کر باقاعدہ آنے جانے کیلئے راستہ بنا رکھا تھا اور موٹر سائیکل پر سامان کی سپلائی ہو رہی تھی۔ اسی راستے سے کتے بھی مع اہل و عیال موٹروے پر آجا رہے تھے۔ شوکت نے پکوڑوں سے اپنی ازلی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے سوروپے کے مٹھی بھر پکوڑے خریدے اور پہلا پکوڑا منہ میں ڈالتے ہی برا سا منہ بنایا۔ گاڑی کی بریک لگائی اور شیشہ کھول کر لفافہ گاڑی کا شیشہ صاف کرنے والے لڑکے کو پکڑاتے ہوئے کہاکہ وہ یہ پکوڑے واپس دکاندار کے کائونٹر پر رکھ دے۔ میں نے کہا: اگر تمہارا خیال ہے کہ پکوڑوں والا تمہارے اس احتجاج سے متاثر ہوکر کوالٹی بہتر کردے گا تو یہ تمہاری خام خیالی ہے۔ شوکت ہنس کر کہنے لگا: امید تو مجھے بھی یہی ہے: تاہم کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔
کچھ دن قبل یہ لازم قرار دیا گیا کہ موٹروے پر سفر کرنے والے اپنی گاڑیوں کیلئے ای ٹیگ حاصل کریں وگرنہ انہیں موٹروے پر سفرکی اجازت نہیں ہوگی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ لاہور سے درکھانہ تک ای ٹیک چلتا ہے۔ درکھانہ سے ایک بار پھر پرچی لینی پڑتی ہے اور ملتان موٹروے سے اترتے وقت وہی پرانے طریقہ کار کے مطابق ٹال ٹیکس کی نقد ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ اسلام آباد سے واپسی پر میاں یٰسین سے سرسوں کے ساگ کی وصولی کیلئے ٹوبہ ٹیک سنگھ انٹرچینج سے نیچے اترے تو واپسی پر ای ٹیگ کی سہولت نہ تھی۔ وہاں سے دوبارہ پرچی لی اور ملتان اترتے وقت پرانے طریقہ کار کے مطابق پیسے دے کر موٹروے سے باہر نکلے۔ ای ٹیگ لگوانے کے بعد عالم یہ ہے کہ کچھ سفرای ٹیگ پرکیا اور بقیہ نقد ادائیگی والے طریقے سے طے کیا۔ اب معاملہ وہی آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہوچکا ہے۔ ای ٹیگ لینا پڑتا ہے اور پرچی سے بھی جان نہیں چھوٹ رہی۔
دنیا بھر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے ذریعے مختلف کمپنیاں ایک روٹ پر بسیں اور ٹرینیں چلاتی ہیں اور ان کے مسافر ایک دوسرے کی سروس باہمی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ٹکٹ کی سکیننگ کے ذریعے وہ اپنے اپنے حصے یا سیکٹر کی رقم باہم تقسیم کرلیتے ہیں۔ ادھر عالم یہ ہے کہ اسلام آباد سے ملتان آنا ہوتو پہلے اسلام آباد ٹال پلازہ پر قطار میں لگتے ہیں‘ پھر لاہور اسلام آباد موٹروے ایم ٹو سے پنڈی بھٹیاں سے اترکر ایم فور پر مڑیں تووہاں ٹال پلازہ پر پنڈی بھٹیاں تک کے ٹال ٹیکس کی ادائیگی کی جاتی ہے‘ بقیہ سفر کیلئے اپنی گاڑی کا ای ٹیگ دوبارہ سکین کروایا جاتا ہے اور پھر موٹروے سے اترتے وقت دوبارہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ برسوں گزر گئے مگر اسلام آباد سے ملتان یا لاہور سے ملتان آتے ہوئے دو مرحلوں میں ٹال ٹیکس کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ دنیا میں باقی قومیں خلا میں دوربینیں بھیج رہی ہیں اور ہم ابھی تک ٹال ٹیکس کی وصولی کے نظام کو مسافر دوست نہیں بنا سکے۔
مجھے یقین ہے کہ بعض قارئین کو اس بات پر تائو بھی آتا ہوگا کہ عجب ڈھیٹ آدمی ہے مسلسل ان باتوں پر لکھتا رہتا ہے جن پر حکمران آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ خیال ہی نہیں آتاکہ جب اس کی بات نہیں سنی جا رہی تو کم ازکم یہ لکھنا ہی بند کردے؛ تاہم میرا خیال ہے کہ اگر حق دینے والا اپنے کام میں کوتاہی کررہا ہوتو حق مانگنے والے کو اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہئے۔ اگر ہمارا حق غصب کرنے والوں کواس مسلسل لکھے پر شرم نہیں آتی تو ہمیں اپنا حق طلب کرتے ہوئے بار بار لکھتے ہوئے کیوں شرم آئے؟ اگر ہمارے ہر سفر پرہم سے ٹال ٹیکس وصول کرنے والوں کو ہماری مشکلات پر شرمندگی نہیں ہوتی تو آخر ہر سفر پرٹال ٹیکس دینے والے کو اپنا حق مانگتے ہوئے کس لئے شرم آئے؟ اپنا حق مانگنا تو ہمارا حق ہے، اور یہ حق جب تک مل نہ جائے نہ صرف یہ کہ مسلسل طلب کیا جائے بلکہ دھڑلے سے طلب کیا جائے۔ (ختم)

اپنا تبصرہ بھیجیں