پھر وہی موٹروے

آج کل جدھر جائیں بس ایک ہی بات سننے کو مل رہی ہے کہ کوئی نہ کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے۔ اب بندہ پوچھے کہ پہلے کبھی کسی پکنے والی کھچڑی میں سے عوام کو کچھ ملا ہے جو اس بار پکنے والی کھچڑی سے کچھ ملنے کی امید کی جائے؟ دوماہ پہلے شوکت علی نے مجھ سے ایڈوانس بکنگ کروا لی تھی کہ میں نے فروری میں اس کے ساتھ تین چار دن کے لئے جانا ہے۔ میں نے ہامی بھر تو لی لیکن ساتھ ہی یہ شرط لگا دی کہ سترہ سے بیس فروری تک اس کے ساتھ نہیں جا سکوں گا۔ میرا خیال تھا کہ گزشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال بھی چولستان جیپ ریلی فروری کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔ اس لئے فروری کے تیسرے ہفتے کی معافی لے لی مگرہوا یہ کہ اس باریہ جیپ ریلی فروری کے دوسرے ہفتے میں آن پڑی۔ پہلے تو میرا دل کیا کہ حسب معمول شوکت سے کئے گئے وعدے سے مکر جائوں‘ پھر خیال آیا کہ اگر اس بار بھی میں نے اسے غچہ دے دیا تو پھر سمجھیں میرا اعتبار بالکل ہی رخصت ہو جائے گا۔ میں اس کے ساتھ ایک دو بار پہلے بھی ایسا کر چکا ہوں۔ گو کہ وہ اس سلسلے میں مجھ پر چھ سات بار ساتھ جانے کا وعدہ کرکے مکر جانے کا الزام لگاتا ہے مگر مجھے بہرحال صرف ایک دو بار کا یاد ہے اور ان کی بھی میرے پاس معقول وجوہ تھیں‘ بہرحال وہ ان انتہائی معقول وجوہ کو بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اس لئے طوعاً وکرہاً میں نے جیپ ریلی چھوڑ کر اس کے ساتھ جانے کی ہامی بھرلی۔
ایمانداری کی بات ہے کہ مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح شوکت کے روبرو سرخرو ہو جائوں اور دوسرا یہ کہ بہرحال گھر سے نکل کر کسی کھلی فضا میں سانس لینا تو نصیب ہوگا۔ صحرا نہ سہی، پہاڑ ہی سہی۔ ریت نہ سہی، درخت ہی سہی۔ سردی تو ہوگی۔ اس بار تو سردی پوری طرح پڑی ہی نہیں تھی کہ رخصت ہونے پر آ گئی ہے۔ صورتحال یہی دکھائی دے رہی ہے کہ سردی بس دمِ آخر پر ہے اور موسم فروری کے وسط سے پہلے ہی بدلنا شروع ہو گیا ہے۔ موسم میں یہ بے وقت تبدیلی گندم کی فصل کے لئے تو بہتر نہیں مگر یہ وہ معاملات ہیں جو سو فیصد قدرت کے ہاتھ میں ہیں اور وہی اس سے کسی طور خیر کا پہلو نکال دے تو اور بات وگرنہ فروری کے وسط میں سردی کا رخصت ہونا اور دن گرم ہو جانا گندم کی فصل کے لئے نقصان دہ ہے۔ بہرحال اللہ سے دعا ہے کہ وہ غیب سے کوئی مدد فرمائے وگرنہ پہلے ڈی اے پی، پھر یوریا اور اب موسم کی قبل از وقت تبدیلی کے باعث جو امکانی صورتحال نظر آ رہی ہے وہ زیادہ خوشگوار نہیں اور اس سے گندم کی آمدہ فصل پر منفی اثرات کے باعث فی ایکڑ پیداوار میں کمی جیسی صورتحال دکھائی دے رہی ہے‘ مگر پھر وہی اللہ کی طرف سے غیبی امداد کی امید ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والی بارشوں نے گندم کی فصل پر مثبت اثرات ڈال دیئے تھے۔ اس کریم کے گھر سے رحمت کی توقع کے علاوہ بھلا اور کس سے امید وابستہ کی جا سکتی ہے؟
ڈاکٹر عنایت مجھ سے مایوس ہو کر ڈاکٹر طارق کے ساتھ قلعہ دراوڑ روانہ ہو گیا اور اگلے روز میں شوکت کے ساتھ پہاڑوں کی طرف چل پڑا۔ ایک زمانہ تھا کہ قلعہ دراوڑ جانے کے لئے ملتان سے بہاولپور اور پھر وہاں سے کبھی احمد پور شرقیہ شہر سے تھوڑا پہلے ڈیرہ نواب صاحب والی سڑک پر اتر کر کھیتوں کھلیانوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے کنڈے والی پل سے قلعہ دراوڑ کا راستہ لیتے، کبھی خانقاہ شریف سے میدانوں، پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچتے ا ور کبھی نور پور نورنگا سے اندر مڑ جاتے اور ایک دو جگہوں پر بھٹکنے کے بعد بالآخر دراوڑ پہنچ جاتے۔ ہر بار ارادہ کرتے کہ اگلی بار دوسرے راستے سے جائیں گے اور اگلی بار دوسرے راستے سے جانے کے بعد تیسرے راستے کا فیصلہ کرتے۔ نتیجہ یہ نکلتا کہ تقریباً ہر سال نئے راستے سے جاتے تھے۔ اب گزشتہ دو سالوں سے یہ مشکل حل ہوگئی ہے۔ اب ملتان سے سکھر والی موٹروے پر چڑھیں اور پھر جھانگڑہ انٹرچینج سے نیچے اتر کر ہتھیجی سے ہوتے ہوئے احمد پور شرقیہ کے راستے قلعہ دراوڑ پہنچ جائیں۔ موٹروے نے راستہ کافی آسان کر دیا ہے۔
سفر کسی اور طرف کا جاری تھا اور دل ادھر دراوڑ میں اٹکا ہوا تھا جہاں ساری پرانی کمپنی رات کو آگ کے الائو کے گرد بیٹھی گپیں لگا رہی تھی۔ برسوں سے انتہائی خلوص اور محبت کے ساتھ مہمانداری کرنے والے خاکوانی برادران یعنی اطہر خاکوانی، انس خاکوانی اور اویس خاکوانی نے اس بار بھی حسب سابق اپنے دوستوں اور ان کے ساتھ آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ڈاکٹر عنایت نے بتایا کہ اس بار ریلی میں حصہ لینے والی گاڑیوں کی تعداد پہلے کی نسبت بہت زیادہ تھی اور اسی حساب سے ڈرائیورز اور ریلی سے لطف اندوز ہونے والوں کی تعداد میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ سالانہ ریلی ایک فیسٹیول کی صورت اس علاقے کا ٹریڈ مارک بن چکی ہے اور اب تو دوسرے ممالک سے بھی لوگ خصوصی طور پر آنے لگ گئے ہیں؛ تاہم تاحال ایک چیز کی کمی ہے۔ یہ کہ یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافے کی نسبت ان سہولیات میں اضافہ نہیں ہو رہا جو عام آدمی کو درکار ہیں۔ گو کہ یہاں لگنے والے کیمپوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ریلی میں حصہ لینے والے بڑے بڑے نامی گرامی لوگ نہ صرف اپنا اپنا کیمپ لگاتے ہیں بلکہ ان کے کیمپ وسیع ہوتے جا رہے ہیں‘ لیکن یہاں اب کیمپوں کے حوالے سے آپس میں مقابلے بازی بھی شروع ہو گئی ہے اور ان کی دیکھا دیکھی بعض بڑے سرمایہ داروں کے درمیان یہاں لگنے والے کیمپ بھی اب ایک طرح سے سٹیٹس سمبل بنتے جا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں یہاں کیمپوں سے زیادہ تعمیر شدہ سٹرکچر والی رہائش گاہوں کی بہتات ہو جائے گی اور وہ ٹینٹوں میں صحرا کی رات گزارنے کا لطف ناپید نہ بھی ہوا تو کم ضرور ہو جائے گا۔ شوکت کے ساتھ پہاڑوں کا سفر بھی جاری رہا اور صحرا میں تاروں بھرے آسمان تلے آگ تاپتے ہوئے دوستوں سے بھی مسلسل رابطہ رہا۔ سفر میں لطف اور ملال ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
موٹروے پر سفر کے دوران اچانک مجھے یاد آیا کہ ان سڑکوں کے سیاسی مائی باپ ہونے کی پگڑی اپنے وزیر مواصلات مراد سعید کے سر پر بندھی ہوئی ہے اور انہیں حال ہی میں سب سے بہترین وزیر ہونے کی باقاعدہ سند بھی عطا کی گئی ہے۔ میں نے موٹروے پر چڑھتے ہی شوکت سے اس سند کے بارے میں بات کی تو وہ کہنے لگا کہ اب کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کم از کم پاکستان پوسٹ یعنی سرکاری ڈاکخانوں کے زیر انتظام خطوط کا ترسیلی نظام بہت بہتر ہوا ہے اور پرائیویٹ کوریئرز سے کہیں کم پیسوں میں اب تقریباً اتنی ہی برق رفتاری اور ذمہ داری سے پاکستان پوسٹ ڈاک کا ترسیلی نظام کامیابی سے چلا رہا ہے اور ماضی میں بری طرح انحطاط کا شکار یہ محکمہ پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوگیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مجھے بذات خود اس بات کا ذاتی تجربہ نہیں تھا؛ تاہم شوکت کی بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ میں نے شوکت سے کہا کہ مجھے آپ کی بات ماننے میں رتی برابر تامل نہیں لیکن کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ ان موٹرویز پر بہتری لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ (جاری)

اپنا تبصرہ بھیجیں