This is a sad story (2)

پیریزبرگ کو آپ ایک چھوٹا شہر یا بڑا قصبہ، جو مرضی سمجھ لیں۔ یہ تقریباً دوسو سال پرانا شہر ہے اور اس کی آبادی تیس ہزار نفوس سے کم ہے۔ یہ گریٹر ٹولیڈو کا حصہ ہے جس کی آبادی تین لاکھ سے کم ہے۔ ٹولیڈو کی آبادی ملتان شہر کا محض 15 فیصد ہے۔ بیس لاکھ سے زائد آبادی والے شہر ملتان میں اجڑی پجڑی دو پبلک لائبریریاں ہیں۔ ایک پبلک لائبریری باغ لانگے خان اور دوسری پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ۔ بیس لاکھ آبادی اور دو تھکی ہوئی لائبریریاں جہاں ہر وقت ایک عجب اجاڑپن کا احساس ہوتا ہے۔ ادھر تین لاکھ سے کم آبادی والے شہر میں اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو پندرہ لائبریریوں کے بارے میں تو کنفرم ہوں‘ ممکن ہے ایک دو لائبریریاں اس کے علاوہ بھی ہوں۔ ہم گیٹلن برگ بازار میں گھوم رہے کہ ایک کھلونوں والی دکان دیکھ کر دونوں مچل گئے کہ انہوں نے کوئی کھلونا خریدنا ہے۔ اندر انگنت مختلف کھلونے پڑے تھے۔ سیفان نے مختلف اشکال کی لکڑیوں کے ٹکڑوں کو ایک چوکور خانے میں درست طریقے سے ترتیب دے کر مکمل کرنے والا پزل خریدا جبکہ ضوریز نے ربڑ کے بنے ہوئے جانوروں کے سر جو بچے اپنے ہاتھ پر چڑھا کر ان کے منہ کو ہلاتے ہیں اور آپس میں لڑاتے بھی ہیں۔ ضوریز نے ایک ببر شیر کا اور دوسرا ڈائناسار کا سر خریدا۔ وہاں کئی مختلف ڈائناسارز کے سر پڑے ہوئے تھے مگر اس نے ٹی ریکس کا سر پسند کیا۔ یہ اس کا پسندیدہ ڈائناسار تھا۔
پیریزبرگ سے گیٹلن برگ کا سفر آٹھ نو گھنٹے پر مشتمل تھا جو راستے میں کھانا کھانے، کافی لینے اور پٹرول پمپس پر رکتے رکاتے دس گھنٹے میں ختم ہوا۔ اس دوران پہلے تو بچے اپنی اپنی سیٹ میں پھنسے کتاب پڑھتے رہے۔ دو گھنٹے بعد کتاب پڑھتے ہوئے تھک گئے تو اپنے ٹیبلٹس کے ساتھ کھیلنے لگ گئے۔ جب مزید بور ہوئے تو پھر ہم نے آپس میں وہی پرانی گیم کھیلنی شروع کردی جو کبھی دوران سفر میں، میری اہلیہ اور بچے آپس میں کھیلا کرتے تھے۔ اس گیم میں شہروں اور ملکوں کے نام بتائے جاتے ہیں اور جس شہر یا ملک کے نام کا آخری حرف آئے اسی حرف سے شروع ہونے والے شہر یا ملک کا نام اگلا شخص بتاتا ہے۔ ایمانداری کی بات ہے میرے جیسے آوارہ گرد آدمی کو‘ جسے اپنے جغرافیے پر بڑا ناز تھا‘ بچوں نے دانتوں پسینہ دلوا دیا۔ دونوں نے ایسا مقابلہ کیا کہ حیرانی ہوئی اور دل بھی خوشی سے باغ باغ ہو گیا کہ یہ دو بچے، جن میں سے ایک ابھی سات سال کا نہیں ہوا اور دوسرا ساڑھے پانچ سے بھی چھوٹا ہے‘ ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ان کے پاس گھر میں دو سو ٹکڑوں کو ملا کر دنیا کا نقشہ بنانے والا جگ سا پزل پڑا ہوا ہے اور دونوں بھائی مل کر یہ پزل ٹھیک ٹھیک بنا لیتے ہیں۔
سیفان نے بتایا کہ اس کے سکول کی لائبریری میں ملکوں اور شہروں کے ناموں پر مشتمل ایک کتاب ہے جو وہ گھر لاکر پڑھ چکا ہے۔ مجھے اس کی سکول کی لائبریری کے ذکر سے یاد آیا کہ ایک بار جرمنی نے پاکستان کو پرائمری سکولوں کی لائبریریوں کیلئے کئی کروڑ ڈالر کا فنڈ دیا تھا اور اس فنڈ کے ساتھ یار لوگوں نے یہ کیا کہ ایسی ایسی کتابیں خرید کر پرائمری سکولوں کی لائبریریوں کو دیں جو علمی استعداد کے حوالے سے ڈگری کلاس کے طلبہ سے بھی اوپر کی تھیں اور کتب فروشوں کے پاس عرصے سے فالتو اور بیکار پڑی تھیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تب اٹھارہ ہزار پرائمری سکولوں کی لائبریریوں کو یہ کتب سپلائی کرنا تھیں۔ اس حساب سے ہر کتاب کی اٹھارہ ہزار تک کاپیاں درکار تھیں۔ سپلائرز، پبلشرز اور کتب فروشوں نے متعلقہ محکمے کے افسران سے مل کر کروڑوں روپے کی بیکار اور فالتو کتابیں پرائمری سکولوں کو پیل دیں۔ اس کے علاوہ بعض زورآور مصنفین اور پبلشرز نے اپنی من پسند کتابیں منظور کروائیں اور پھر یہ کتابیں دھڑا دھڑ چھاپ کر لائبریریوں کو سپلائی کر دیں۔ پرانی کتابوں کو چھاپتے ہوئے ان پر نئی قیمت پرنٹ کی گئی جو پہلے والی کتاب کی اصل قیمت سے دُگنی تھی۔ پرانی کتابیں نئی قیمت پر بیچ کر دُگنے پیسے کمائے گئے۔ جرمنی سے کتابوں کی خریداری کی مد میں آنے والی کروڑوں روپے کی امداد کو ایسے لوٹا گیا کہ شاید ہلاکو خان کے سپاہیوں نے بغداد شہر کی لائبریریوں کو بھی اس بیدردی سے نہیں لوٹا ہوگا۔
تھوڑی دیر بعد سیفان مجھ سے پوچھنے لگا: بڑے بابا! آپ کو پتا ہے کہ سرخ رنگ کیسے بنتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں مجھے تو نہیں پتا۔ وہ بتانے لگا کہ سرخ رنگ پہلے Cochineal Beetles کو پیس کر بنایا جاتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کوچینیل بیٹلز کیا ہوتے ہیں؟ وہ بتانے لگا کہ یہ دراصل سرخ رنگ کا Insect ہے۔ پھر مجھے بتانے لگا کہ ہے تو بری بات‘ لیکن پیلا رنگ گائے کے پیشاب سے بنتا تھا جسے آم کے درخت کے پتے کھلائے جاتے تھے۔ اور سفید رنگ جانوروں کی ہڈیوں کو جلا کر بنائی جانے والی راکھ سے بنتا تھا۔ سبز رنگ ایک زہر سے بنتا تھا جس کا نام آرسینک ہے۔ پرپل (جامنی) رنگ ایک سمندری گھونگے سے رسنے والے مادے (Mucus) سے بنایا جاتا تھا۔ پھر وہ مجھ سے پوچھنے لگا: بڑے بابا! پاکستان میں رنگ کس چیز سے بنتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے نہیں پتا کہ پاکستان میں رنگ کس چیز سے بنتے ہیں۔ میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ پاکستان میں رنگ سازی کا مجھے علم نہیں، ہاں البتہ وہاں رنگ بازوں کی کمی نہیں‘ مگر پھر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ بھلا بچے کو یہ باتیں کہاں پلے پڑنا تھیں۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ اب پاکستان میں رنگ بنتے بھی ہیں یا نہیں۔ ہاں سنا ہے پہلے کبھی بنتے تھے۔ وہ پوچھنے لگا: اب کیوں نہیں بنتے؟ میں نے اسے بتایا کہ یہ بہت پرانی بات ہے‘ غالباً میری پیدائش سے بھی پہلے کی جب پاکستان میں میانوالی کے پاس دادخیل کے ساتھ ایک انڈسٹریل کمپلیکس آباد کیا گیا تھا۔
مجھے گمان ہے کہ یہ کمپلیکس سکندر مرزا کے زمانے میں بنایا گیا تھا۔ تبھی اس صنعتی علاقے کا نام سکندر آباد رکھا گیا اور یہاں پانچ صنعتی یونٹس لگائے گئے۔ میپل لیف سیمنٹ فیکٹری، وائٹ سیمنٹ فیکٹری، پاک امریکن فرٹیلائزر فیکٹری، پاکستان اینٹی بائیوٹکس اور پاکستان ڈائیز فیکٹری۔ پہلی تینوں فیکٹریاں چونکہ منافع بخش تھیں لہٰذا وہ تو پرائیویٹ سیکٹر میں بک چکی ہیں اور آخری دو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ نہ کر سکیں لہٰذا دونوں بند ہو چکی ہیں۔ پاکستان اینٹی بائیوٹکس فیکٹری میں تب پنسلین بنتی تھی‘ جو تب دنیا کی سب سے ترقی یافتہ اینٹی بائیوٹک تھی۔ پھر نئی نئی اینٹی بائیوٹکس آ گئیں۔ ان کی دوسری، تیسری اور چوتھی جنریشن معرض وجود میں آگئی۔ یہ سرکاری فیکٹری جو کبھی دنیا کی رفتار کے ساتھ چل رہی تھی کہیں پیچھے رہ گئی اور بند ہوگئی۔ آخری فیکٹری جو رنگ بناتی تھی وہ بھی نہایت خاموشی سے بند ہوگئی۔ مجھے یہ دونوں نام بھی یادداشت کے زور پر ہی یاد رہ گئے ہیں وگرنہ اب ان دونوں فیکٹریوں کے بارے میں تو گوگل پر بھی کچھ نہیں ملتا۔ اللہ جانے اب پاکستان میں کہیں رنگ بنتا ہے یا امپورٹ ہوتا ہے؛ تاہم مجھے نہیں پتا۔ سیفان تھوڑی دیر خاموش رہا‘ پھر کہنے لگا: بڑے بابا! This is a sad story‘ میں نے کہا: ہاں بچے! واقعی، دس از سیڈ سٹوری لیکن کیا کریں؟ ہمارے ہاں ایسی سیڈ سٹوریوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ ایسے قصوں کا ایک بہت بڑا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ (ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں