دو حکومتیں

صورتحال اتنی عجیب اور ناقابلِ فہم ہے کہ کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔ خان صاحب کی سمجھ میں تو یہ نہیں آ رہا کہ چار دن پہلے تک وہ ”اُن‘‘ سے ایک پیج پر تھے اور پھر وہ پیج ایسے پھٹا کہ لیرو لیر ہو گیا۔ اس دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہیں۔ اس کا مداوا کرتے ہیں اور آئندہ سے دوبارہ ایسی غلطیاں کرنے سے توبہ کرتے ہیں۔ تاہم اپنے خان صاحب الحمد للہ ایسے کمزور عقیدے کے ہرگز نہیں کہ اپنی سابقہ غلطیوں سے گھبرا کر تائب ہو جائیں۔ وہ اس انتظار میں ہیں کہ اگر قوم نے انہیں دوبارہ منتخب کیا اور انہیں اتنی واضح اکثریت دے دی کہ وہ اتحادیوں کے منت ترلوں سے بچ گئے اور اکیلے ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئے تو وہ اپنی حسب ِسابق والی پالیسیوں کو زیادہ زور و شور اور شدو مد کے ساتھ کسی خوف اور گھبراہٹ کے بغیر نافذ کریں گے۔ ایسے میں جب بندہ اپنی حماقتوں اور غلطیوں کو نہ تو مان رہا ہو اور نہ ہی ان کا ادراک کر رہا ہو‘ اسے کس طرح سمجھ آ سکتی ہے کہ اس کی رخصتی میں اس کا اپنا ذاتی حصہ کتنا تھا؟ لہٰذا خان صاحب سوائے خط لہرانے کے اور اپنی رخصتی میں امریکی سازش کے علاوہ اپنی کسی غلطی‘ نااہلی‘ دوست نوازی‘ غلط افراد کا تقرر اور بیڈ گورننس جیسے مسائل کو ماننے پر ہی تیار نہیں۔ ایسے میں ان کی حیرانی قابل ِفہم ہے کہ آخر ان جیسے سمارٹ ہیرو کو کس لئے فارغ کیا گیا؟

دوسری طرف حالیہ حکمران خود بھی بہت حیران و پریشان ہیں کہ یہ ہم نے کیا کیا؟ آخر ہم نے حکومت سنبھالنے کی حماقت کس طرح کرلی؟ ملک کے معاشی مسائل کی گمبھیر صورتحال کو درست کرنے کیلئے کیا کیا جائے؟ ملک کی معاشی پالیسیاں اسلام آباد نے بنانی ہیں یا لندن سے بن کر آنی ہیں؟ ملک کا حقیقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہے یا اسحاق ڈار ہے؟ اور وزیراعظم شہباز شریف نے پالیسیاں بنانی ہیں یا لندن میں مقیم اپنے برادر بزرگ میاں نواز شریف کی پالیسیوں کو پڑھ کر سنانا ہے؟ کابینہ کے آئندہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا کریں گے یا اس کام کیلئے لندن جانا پڑے گا؟ موجودہ صورتحال میں اگر کوئی بندہ میرے حساب سے مزے میں ہے تو وہ آصف علی زرداری ہے۔ سندھ کی حکومت مزے سے چل رہی ہے تاہم ایک بات واضح کر دوں کہ یہ مزے پیپلز پارٹی کے ہیں‘ عوام کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ زرداری کے اپنے مزے ہیں۔ شرجیل میمن پر وزارتوں کی برسات جاری ہے‘ اب تک ان کو دو عدد وزارتیں مل چکی ہیں۔ اس سارے گڑ بڑ گھوٹالے کے درمیان چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر ملیر جیل کے معطل شدہ سپرنٹنڈنٹ کو محکمہ داخلہ سندھ نے بحال کر دیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ موصوف کو چیف جسٹس صاحب نے جیل کے دورے کے دوران شاہ رخ جتوئی کو غیر معمولی مراعات دینے پر معطل کیا تھا۔ سندھ میں زرداری صاحب کا حکم پورے زور و شور سے چل رہا ہے‘ لہٰذا وہ مزے میں ہیں باقی راوی ہر طرف بے چینی‘ گھبراہٹ‘ پریشانی اور ایک محاورے کے مطابق ”برے حال‘ بانکے دیہاڑے‘‘ کی خبر سنا رہا ہے۔
جب پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نے اپنے تئیں بڑی عقلمندی کا سودا کرتے ہوئے نوٹ کھرے کرنے کے ساتھ ساتھ سودا بازوں سے اپنے لیے اگلے الیکشن میں (زیادہ تر منحرفین نے) مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ کا وعدہ لیا اور دل ہی دل میں بڑے خوش ہوئے کہ انہوں نے جیب بھی گرم کرلی ہے اور اگلے الیکشن میں اپنی کامیابی بھی پکی کر لی ہے۔ وہ اپنے اس اقدام اوراپنی چالاکی و ہوشیاری پر اپنے آپ کو رہ رہ کر داد بھی دے رہے تھے اور خود ہی اپنی پیٹھ بھی تھپک رہے تھے کہ انہوں نے آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام والا محاورہ سچ ثابت کر دیا ہے لیکن اب وہ پریشان ہیں کہ یہ کیا ہو گیا؟ زیادہ کا تو مجھے پتا نہیں لیکن ملتان کے دونوں ایم این اے یعنی احمد حسین ڈیہڑ جس نے پی ٹی آئی کی ٹکٹ لینے کیلئے دھرنا دیا تھا اور بقول ایک گھر کے بھیدی کے اس دھرنے پر‘ اس کی پریس کوریج پر اور خان صاحب کو ان کے بارے میں بتانے والے مہربانوں پر ملا جلا کر ڈیہڑ کا ڈیڑھ دوکروڑ روپے کا خرچہ ہوا تھا ‘اب صرف ایک ڈی ایس پی اور دو عدد پولیس اہلکاروں سے بھرے ہوئے ڈالے ملنے پر اوپر سے خوش ا ور اندر سے پریشان ہے کہ اسے مفت میں روزانہ دس بارہ لوگوں کو تین وقت کی روٹی کھلانی پڑ گئی ہے۔ لیکن وہ اس پروٹوکول نما حفاظتی دستے کو واپس کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں کہ کیا پتا کب کوئی ناہنجار اس پر لوٹا کھینچ مارے۔

دوسرا منحرف رکن اسمبلی رانا قاسم نون خیر سے پہلی دفعہ لوٹا تو نہیں بنا بلکہ اس کا اس کام میں کافی وسیع تجربہ تھا لیکن یہ بہرحال پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ موصوف کو عوامی ردعمل کا سامنا بھی ہے اور خوف بھی۔ گزشتہ دنوں وہ اپنے حفاظتی دستے کے ہمراہ عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں رانا گل حسن کے منیجر ظفر کی بیمار پرسی کیلئے اس کے گھر گیا تو واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ جونہی رانا قاسم اس کے گھر پہنچا تو صاحب ِفراش ظفر کے بیٹے رانا قاسم کی شکل دیکھتے ہی اپنی اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے کک ماری اور چلتے بنے۔ یاد رہے کہ رانا قاسم از راہ احتیاط دن ڈھلنے کے بعد اس بیمار پرسی کیلئے ظفر کے گھر آیا تھا تاکہ اندھیرے میں دیگر لوگوں کی اس پر نظر نہ پڑے۔ خیر سے ظفر نے گھر کے اندر پیغام بھجوایا کہ کوئی چائے پانی کا بندوبست کیا جائے توجواب ملا کہ گھر میں کوئی نہیں جو اس کی یہ خواہش پوری کر سکے۔ اب منحرفین اپنی گاڑی کے ساتھ چلتے ہوئے پولیس کے دو عدد ڈالوں پر نظر دوڑاتے ہیں۔ اپنے ساتھ موجود ایک عدد ڈی ایس پی کو دیکھتے ہیں اور اپنے متوقع عوامی ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے سوچتے ہیں کہ پولیس کی نفری کب تک ان کی روٹیاں توڑتی رہے گی۔

ملتان سے ہی دو عدد آزاد جیتنے والے ایم پی اے حضرات نے یہ سکیورٹی لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ایک آزاد رکن صوبائی اسمبلی قاسم خان لنگاہ ہے جو جلال پور پیروالہ سے منتخب ہوا تھا اور پورے ساڑھے تین سال تک حکمران پارٹی سے سارے ترقیاتی فنڈز اور دیگر سہولتیں لیتا رہا؛ تاہم آخر پر وہ ترین گروپ کے ساتھ حمزہ شہباز شریف کے ساتھ چلا گیا۔ قاسم لنگاہ ملتان کے ان چار ارکان صوبائی اسمبلی میں سے ایک تھا جن پر ترقیاتی فنڈز سے کمیشن کھانے کا کوئی الزام نہیں۔ دوسرا آزاد رکن ملتان کے صوبائی حلقہ پی پی 217پر پی ٹی آئی کے توپ لیڈر اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے مستقل خواہشمند شاہ محمود قریشی کو شکست دینے والا نوجوان سلمان نعیم ہے‘ اس نے بھی یہ پروٹوکول نما حفاظتی دستہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

آج صبح ایک دوست کا فون آیا‘ وہ کہنے لگا کسی کو واقعتاً اس بات کا احساس ہے کہ ملک کی معیشت کس حد تک برباد ہو چکی ہے اور ڈیفالٹ کا خطرہ اب کوئی کہانی نہیں بلکہ سر پر پہنچ چکا ہے۔ ملک کی اس معاشی بربادی کا آپ کو نہ اندازہ ہے اور نہ ادراک۔ ہم نے اگر اب بھی سخت اور مشکل فیصلے نہ کئے تو ڈیفالٹ کا خدشہ حقیقت کا روپ دھار لے گا۔ اس کا حل سیاسی بنیادوں پر نہیں‘ اقتصادی بنیادوں پر نکالیں گے تو مسئلہ حل ہوگا۔ سب سے ضروری ہے تمام سبسڈیز ختم کر دی جائیں۔ بھلے پٹرول اڑھائی سو روپے لٹر اور بجلی چالیس روپے یونٹ ہو جائے۔ عوام پر مشکل پڑے تو گزارہ چل سکتا ہے لیکن اگر ملک پر مشکل پڑ گئی تو اس کا کوئی فوری حل ہمارے پاس نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے میں مفتاح اسماعیل کے بجائے اسحاق ڈار کی چل رہی ہے جس کی اپنی معیشت کا دارو مدار پاکستان پر نہیں‘ باہر والی جائیداد اور سرمایہ کاری پر ہے۔ بھلا اسے کیا فکر ہوگی؟ دو دو حکومتیں چل رہی ہوں تو فیصلے کرنے مشکل ہو جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں