نئے آرمی چیف کے لیے

وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اعلان کر دیا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر چند روز میں کر دیا جائے گا۔آئندہ ہفتے کے دوران قوم کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کی بری فوج کی قیادت کا شرف کس کو حاصل ہو گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے سولہویں سالارِ اعلیٰ تھے‘ اُن سے پہلے15 افراد یہ فرض نبھا چکے ہیں۔اولین دو کمانڈر انچیف انگریز تھے‘ جنوری1951ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے پاکستانی کمانڈرانچیف کا تقرر کیا اور جنرل محمد ایوب خان کے کندھوں پر چار ستارے جگمگانے لگے۔ اول روز ہی سے اس تقرر کے لیے سنیارٹی کے اصول کو تسلیم نہیں کیا گیا۔16سربراہان میں سے صرف پانچ ایسے تھے جنہیں ”سینئر موسٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جنرل ٹکا خان‘ جنرل اسلم بیگ‘ جنرل جہانگیر کرامت‘ جنرل آصف نواز جنجوعہ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سوا کوئی بھی سپہ سالار سینئر ترین نہیں تھا۔ جنرل ایوب خان سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھے‘میجر جنرل افتخار خان‘ میجر جنرل اشفاق مجید‘میجر جنرل اکبر خان اور میجر جنرل این اے ایم رضا کے بعد اُن کا نمبر آتا تھا۔جنرل افتخار خان کے نام قرعہ فال نکلا لیکن وہ ایک فضائی حادثے کی نذر ہو گئے۔اُس کے بعد نگاہِ انتخاب جنرل ایوب خان پر ٹھہری۔ جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لاء نافذ کیا‘ اپنے آپ کو فیلڈ مارشل بنوایا۔انہوں نے دو فوجی سربراہان کا تقرر کیا لیکن دونوں بار سنیارٹی کو نظر انداز کیا۔ جنرل موسیٰ خان اُن کے پہلے جانشین تھے‘انہیں دو مرتبہ ایکسٹینشن دی گئی اور وہ آٹھ سال تک اپنے منصب پر فائز رہے۔ وہ ایوب خان کے پسندیدہ ترین جرنیل تھے‘ سپاہی کے طور پر بھرتی ہوئے اور اعلیٰ ترین منصب پر پہنچے‘ اگر وہ موجود رہتے تو فیلڈ مارشل ایوب خان کے ساتھ وہ نہ ہوتا جو یحییٰ خان نے کیا۔اُن میں آنکھ بند کر کے حکم ماننے کی صلاحیت موجود تھی‘اپنے صدر کے ساتھ بے وفائی کا ارتکاب اُن کو گوارا نہ ہوتا لیکن انہیں مزید ایک ٹرم کے لیے برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔ایوب خان کی پسندیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں گورنر مغربی پاکستان مقرر کر دیا گیا۔نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے جانشین تو وہ بن گئے لیکن اُن کا خلا پُر نہ کر سکے۔اُس وقت کا صوبہ مغربی پاکستان آج کا پورا پاکستان ہے۔ جنرل موسیٰ کے دور میں ایوب خان کے زوال کا آغاز ہو گیا‘ سیاست اور انتظامیہ پر اُن کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔جنرل یحییٰ خان نے جنرل موسیٰ کی جگہ فوج کی قیادت سنبھالی تو وہ بھی سینئر موسٹ نہیں تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر اور لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا کے بعد اُن کا نمبر آتا تھا لیکن ایوب خان نے ان کا انتخاب کیا۔وہ رندِ بلانوش تھے‘ ایک خیال یہ ہے کہ اُن کی یہی ”خوبی‘‘ ایوب خان کو بھا گئی۔شاید انہوں نے سوچا ہو کہ انہیں کاروبارِ مملکت کی طرف توجہ دینے کا شوق پیدا نہیں ہو گا‘ان کی دنیا ساغر و مینا میں ڈوبی رہے گی لیکن جب ایوب خان پر بپتا پڑی اور انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو وہ نگاہیں پھیر چکے تھے۔ انہیں چند شورش زدہ شہروں میں مارشل لاء لگانے کی ہدایت دی گئی تو انہوں نے جھومتے ہوئے فرمایا‘ مارشل لاء اور ادھورا‘ نہیں پورا لگے گا۔ اُس کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان کی ہمت جواب دے گئی۔انہوں نے اپنا ہی بنایا ہوا آئین تاراج کرتے ہوئے اقتدار (سپیکر قومی اسمبلی کے بجائے) سپہ سالار کے سپرد کیا اور اپنی حسرتوں پر آنسو بہاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔
جنرل یحییٰ کے دور میں جو کچھ ہوا‘ وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ جسد ِ قومی پر جو زخم لگا‘ اس سے ابھی تک خون رس رہا ہے۔مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی گئی‘ بھارت کو فوجی مداخلت کا موقع ملااور بنگلہ دیش نقشے پر نمودار ہو گیا۔ 1971ء کی تلخ یادیں آج تک زہر گھول رہی ہیں۔بنگلہ دیش اور پاکستان کی دوریاں کم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ اگر 1962ء کا دستور منسوخ نہ ہوتا‘ نئی دستور ساز اسمبلی کے قیام کا تجربہ نہ کیا جاتا‘ نیا دستور بنانے کا شوق نہ پالا جاتا تو انتخابات کے نتیجے میں جیتنے والی جماعت کو بآسانی اقتدار منتقل ہو جاتا۔فساد اسی سے پھیلا کہ نیا دستور بنانے کا شوق پالا گیا۔ بعداز خرابی ٔ بسیار ذوالفقار علی بھٹو ”نئے پاکستان‘‘ کے پہلے صدر اور بعدازاں وزیراعظم بنے۔ نئے ملک کا نیا دستور بنا لیکن اپوزیشن سے محاذ آرائی نے پھر نظم و نسق تہہ و بالا کر ڈالا اور نوبت ایک بار پھر مارشل لاء تک جا پہنچی۔
ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے جنرل ضیا الحق کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا جو سنیارٹی لسٹ میں ساتویں نمبر پر تھے۔ وہ زاہد و عابد تھے۔شاید ذوالفقار علی بھٹو نے سوچا ہو کہ وہ ذکر و فکر میں مصروف رہیں گے‘ دنیا داری سے کوئی علاقہ نہیںہو گا لیکن جب انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک شروع ہوئی‘ تو معاملات ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔جنرل ضیا الحق نے اپنے باس کی فرمائش پر چند شہروں میں مارشل لاء تو لگا دیا لیکن فوجی افسر لوگوں کو گولی کا نشانہ بنانے سے انکاری ہو گئے۔اس ”بغاوت‘‘ کو فرو کرنا فوجی قیادت کے بس میں نہیں تھا‘اس لیے پورا مارشل لاء لگا دیا گیا۔ اس کے بعد جو ہوا‘ وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت تین آرمی چیف مقرر کیے‘ جنرل پرویز مشرف‘ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ۔تینوں سے اُن کے تعلقات ہموار نہیں رہے‘اول الذکر نے تو اُن کا تختہ الٹ دیا۔اُس وقت انہیں قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔اُن کے خلاف طیارہ سازش کیس بنایا گیا‘انہیں سزائے موت تو نہ دلوائی جا سکی لیکن عمر قید کا تحفہ اُن کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔بعدازاں جلاوطنی کا مزہ چکھنا پڑا اور بعداز خرابی ٔبسیار نواز شریف واپس آئے۔طویل غیر حاضری کے باوجود لوگوں نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا اور وہ 2013ء کے انتخابات میں تیسری بار وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ جنرل راحیل شریف کا تقرر انہوں نے کیا تو وہ بھی سینئر ترین نہیں تھے‘ کھچائو اور تنائو کے باوجود اُن کا دور بخیرو خوبی گزر گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تقرر ہوا تو وہ بھی سینئر موسٹ نہیں تھے۔ اُس کے بعد جو کچھ ہوا‘ وہ تاریخ کا حصہ ہے۔جنرل باجوہ اور نواز شریف کے معاملات بھی ہموار نہ رہے۔عمران خان برسر اقتدار آئے‘ تو اُن کے دور میں جنرل باجوہ کو تین سال کے لیے توسیع دی گئی‘ اس توسیعی عرصے میں جو کچھ ہوا‘ اُس کے اثرات اور نتائج ابھی تک سمیٹنے میں نہیں آ رہے۔فوج پاکستان کا مضبوط ترین ادارہ ہے‘اُس کے اتحاد اور وقار کی حفاظت بہرقیمت ہونی چاہیے۔ جنرل باجوہ کے جانشین کے تقرر کو جس طرح ہماری سیاست نے موضوع بحث بنایا ہے‘اُس پر حسرت کا اظہار کیا جا سکتا ہے‘نہ اطمینان کا۔اب سنیارٹی کے اصول پر بھی زور دیا جانے لگا ہے‘عمران خان تک یہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سنیارٹی کی بنیاد پر مقرر ہوتا ہے‘اُسی طرح آرمی چیف کا تقرر بھی ہونا چاہیے۔طرح طرح کے طعنوں اور پھبتیوں کے بعد معاملات ٹھہرتے نظر آ رہے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف علیل ہیں لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدرِ پاکستان سے ملاقات کر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی ہے۔جنابِ صدر کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ وہ وزیراعظم کے مشورے کے پابند رہیں گے۔عمران خان بھی تقرری کے معاملے پر غیر محتاط تبصروں سے گریز کر رہے ہیں‘حکومت بھی ادارہ جاتی مشاورت کو اہمیت دینے کا عندیہ دے رہی ہے۔سیاست کی بے لگامیوں اور بد زبانیوں کو کچھ ٹھہرائو سا آ رہا ہے۔اللہ کرے‘ یہ قائم رہے‘نئے آرمی چیف کا خیر مقدم بیک آواز سب کو کرنا چاہیے۔پوری قوم اپنے فوجی سربراہ کے لیے دعاگو ہو گی تو وہ اپنے منصب کے تقاضے بطریق احسن ادا کر سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں