ریاست کے ساتھ سیاست

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطمینان کے مطابق معذرت کا اظہار کر دیا ہے۔ 22 ستمبر بروز جمعرات انہوں نے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا کہ ان پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کر دی گئی۔ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے خیالات (یا احساسات) کو بیانِ حلفی کی شکل میں لکھ کر اور اس پر نوٹری پبلک کی باقاعدہ مہر لگوا کر پیش کریں۔29 ستمبر کو اُنہیں ایک بار پھر عدالت میں حاضر ہونا ہو گا۔اس دن حتمی طور پر فیصلہ کیا جائے گا کہ فردِ جرم کی تجہیز و تکفین کس طرح ہو۔ جو کچھ 22 ستمبر کو ہوا ہے،اس نے ”فاضل ملزم‘‘ کو اطمینان دلا دیا ہے کہ اگر وہ اپنی روش پر قائم رہے تو عدالت بھی معاملے کو خوش اسلوبی سے نبٹا دے گی یعنی خان وہ کچھ کرتے رہیں گے جو آج تک کرتے رہے ہیں۔
عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو خان کے وکیل حامد خان نے جو بجائے خود ایک بڑے خان ہیں اور وکلا کے ایک بڑے اور بے باک حلقے کے قائد ہیں،عرض کیا کہ ان کے موکل عدالت کے سامنے چند معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔گزشتہ سماعت کے اختتام پر بھی عمران خان نے ایسی کوشش کی تھی لیکن عدالت نے اُنہیں اپنے وکیل کے ذریعے بات کرنے کی ہدایت کی تھی کہ بعض اوقات پرجوش ملزم کوئی ایسی بات کہہ گزرتے ہیں جس کے بعد ان کا دفاع دشوار ہو جاتا ہے(اس طرح کے مقدمات میں) عدالت کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو کچھ کہا جائے وکیل کی وساطت سے کہا جائے یعنی قانون کی چھلنی سے چھن کر عدالت تک پہنچے،سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ کے خلاف برسوں پہلے جسٹس افضل ظلّہ کی عدالت میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر ہوا تھا تو اس دوران بیگ صاحب بھی بار بار اپنا موقف آپ بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے جبکہ عدالت انہیں وکیل کے ذریعے مخاطب ہونے کی ہدایت کرتی تھی، مرزا صاحب کا بھی یہی خیال ہو گا جو ہمارے جرنیلی سیاست دان کا ہے کہ وہ اپنی بات اپنے انداز میں کریں گے تو مخالفانہ دلائل ہوا میں اڑ جائیں گے،عدالت نے مرزا صاحب کو بھی ان سے بچانے کی کوشش کی تھی،عمران خان صاحب کا تحفظ بھی اسی انداز سے کیا گیا کہ مبادا وہ ایک مقدمہ ختم کراتے کراتے کوئی اور مقدمہ اپنے خلاف دائر کرا بیٹھیں،انہیں اپنی وکالت آپ کرنے کا موقع فراہم نہ ہو سکا لیکن اب جو کارروائی شروع ہوئی تو راوی کے پلوں سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ عمران خان،صحافت کے ایک بڑے خان یعنی کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہہ چکے تھے کہ اگر انہیں موقع مل جاتا تو وہی کچھ کہہ گزرتے جو عدالت چاہتی تھی اور یوں معاملہ آگے نہ بڑھتا۔ عمران خان کے لہجے میں غیر معمولی ٹھہرائو بھی نظر آ رہا تھا اور اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ عدالت کے سامنے وہی کچھ کرنے کی خواہش پال رہے ہیں جو ایک عاقل اور بالغ کو کرنا اور کہنا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ عمران خان نے تحریک بحالی ٔ عدالت میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا اور جنرل پرویز مشرف کے مقابلے میں جسٹس افتخار چودھری کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے لیکن یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ بحالی کے بعد چیف جسٹس موصوف سے خان کی بن نہیں سکی تھی کہ منہ زوری کی نیام میں دو تلواروں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دونوں کے درمیان شدید کھچائو دیکھنے میں آیا اور خان کو توہین عدالت کے ایک عدد نوٹس سے بھی پالا پڑ گیا تھا۔پاکستانی سیاست دانوں کے لیے یہ نوٹس ایک انتہائی ڈرائونا خواب یوں ہے کہ اس کے نتیجے میں اگر ایک روپیہ جرمانے کی سزا مل جائے یا تا برخاستِ عدالت قید بھی مرحمت فرما دی جائے تو انتخابی سیاست کے دروازے (سزا یافتہ پر) پانچ سال کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کو سرزنش کر کے چھوڑ دیا گیا لیکن جو کدورت فریقین کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی،وہ کم ہونے میں نہیں آئی۔چیف جسٹس چودھری نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک طول و طویل نام کے ساتھ اپنی سیاسی جماعت ایجاد کی تو وہ عمران خان کو حریف ِ اول سمجھ کر ان کے در پے ہو گئے۔ اخلاق کی دہائی دیتے ہوئے بیک وقت کئی عدالتوں میں پہنچ گئے‘ لیکن عوام اور قانون دونوں کی عدالتوں میں ان کی شنوائی نہیں ہوئی اور جس طرح پرویز مشرف کو صدارت سے رخصت ہونا پڑا تھا، چودھری صاحب بھی اسی طرح ایوانِ سیاست سے رخصت ہو گئے۔ اب نہ وہ کہیں سنائی دیتے ہیں،نہ دکھائی دیتے ہیںجبکہ عمران خان کا طوطی اب تک بول رہا ہے اور اس کا مصمم ارادہ ہے کہ بولتا چلا جائے، یہاں تک کہ دوسروں کے طوطے اچھی طرح اڑا ڈالے۔
عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ کو اول اول تو سیاسی حریفوں کی طرح ہی ڈیل کر رہے تھے لیکن جب تاریخ خود کو دہراتی نظر آئی تو آنکھیں کھل گئیں،ادراک ہوا کہ عدالت کو عدالت سمجھیں کہ یہاں ان کے ساتھ وہ ہو سکتا ہے جو وہ دوسروں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔انہوں نے ان الفاظ میں معذرت پیش کر دی جو عدالت کے لیے اطمینان بخش تھے،اس پر ان کے حامیوں اور مداحوں کے بڑے حلقے نے سکون کا سانس لیا ہے کہ ان کی انتخابی سیاست محفوظ و مامون ہے۔ طلال چودھری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی لاکھ دہائی دیتے رہیں کہ عمران خان کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جائے جو ان کے ساتھ ہو چکا ہے۔ ان کی معافی کو رد کرتے ہوئے سپریم کوٹ نے سزائیں سنائی تھیں اور وہ پانچ، پانچ سال کے لیے انتخابی سیاست کے لیے نااہل قرار پائے تھے۔طلال چودھری اور دانیال عزیز بے چارے گزشتہ انتخاب میں حصہ نہیں لے پائے جبکہ نہال ہاشمی کو سینیٹ کا ایوان چھوڑنا پڑا۔ان تینوں سے جو بھی ہمدردی کی جائے،ان کی دہائی پر دہائی نہیں دی جا سکتی کہ ہر مقدمے کے حالات و واقعات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایک الزام میں دھرے گئے تمام ملزمان کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا،الگ الگ سماعت کے بعد الگ الگ حکم جاری ہوتا اور الگ الگ سزا تجویز ہوتی ہے۔ان تینوں حضرات نے جو کچھ کہا وہ تاریخ کا حصہ ہے،خان صاحب کے منہ سے جو کچھ نکلا وہ بھی محفوظ ہو چکا ہے،ہر ایک کا پس منظر اور الفاظ اپنے تھے، اس لیے ان کے ساتھ ایک سا سلوک انصاف کا لازمی تقاضا نہیں ہے۔
عمران خان نے جو ”یو ٹرن‘‘ لیا، اُس کی داد ہر وہ شخص دے گا جو انہیں ہنستا کھیلتا اور رستا بستادیکھنا چاہتا ہے، ان پر لازم ہے کہ اپنی سیاسی حکمت عملی پر بھی از سر نو غور کریں،تصادم کے راستے سے بہرصورت گریز کریں اور جو بھی مطالبہ کرنا اور اسے منوانے کے لیے جو بھی حربہ ختیار کرنا ہے آئین اور قانون کے دائرے میں کریں۔افواجِ پاکستان کے معاملات کو عوامی مباحثے کا موضوع نہ بنائیں،سیلاب کے بعد کی صورتِ حال سے آنکھیں بند نہ کریں،حکومت اور ریاست کے درمیان فرق کو مدنظر رکھیں اور اپنی پارٹی کے چُھٹ بھیّوں کو بھی ہدایت جاری کریں کہ وہ حکومت سے الجھنے کے شوق میں ریاست کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ریاست کے ساتھ سیاست کا انجام بھیانک ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں