پاکستان سے دو فون کالز

میں کاغذ قلم اٹھاکر ابھی کالم لکھنے ہی لگا تھاکہ پاکستان سے آصف مجید کا فون آ گیا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران آصف مجید سے صرف دوبار گفتگو ہوئی۔ کجا یہ کہ ہم پاکستان میں تقریباً روزانہ گھنٹوں ساتھ گزارتے تھے اور کجا یہ کہ مہینے میں صرف دوبار گفتگو ہو۔ خیر خیریت پوچھنے اور ادھر امریکہ میں میرے بچوں کا حال چال پوچھنے کے بعد بات میرے سرفراز شاہد مرحوم پر لکھے ہوئے کالم کے حوالے سے ان کی یادوں تک چلی گئی؛ تاہم پھر وہی ہوا جو ہم پاکستانی دس پندرہ منٹ کی گفتگو کے بعد کرتے ہیں۔ بات پاکستانی سیاست پر آ گئی۔ آج کل صرف ایک ہی گرماگرم موضوع ہے اور وہ میاں نوازشریف کی پاکستان واپسی کی اڑتی ہوئی خبر ہے جو ہرجگہ زیر بحث ہے۔ آصف مجید مجھ سے پوچھنے لگا‘ میرا کیا خیال ہے‘ نوازشریف واپس آئیں گے یا نہیں آئیں گے اوراگر آئے تو پاکستانی سیاست پرکیا اثرات مرتب ہوں گے؟ میں نے آصف مجید کا سوال سکون سے سنا اور جواباً اس سے سوال کیا کہ کیا میاں صاحب کے پاکستان آنے یا نہ آنے سے اس کے یا میرے معاملات زندگی پر کوئی فرق پڑے گا؟ جواباً وہ کہنے لگا: اس سوال سے کیا مراد ہے؟ کیا ہم پاکستان کے حالات سے لاتعلق ہو جائیں؟ میں نے کہا: خدانخواستہ میں لاتعلق رہنے کیلئے تو نہیں کہہ رہا‘ صرف اتنا پوچھ رہا ہوں کہ کیا میاں صاحب کی آمد سے میری یا آپ کی زندگی کے معاملات پرکوئی فرق پڑے گا؟ دوسری بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں آپ یا میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟ آصف خاموش ہوگیا۔
میں نے اسے ایک پنجابی کہاوت سنائی کہ کسی نے گھوڑے سے کہاکہ آج رات اسے چور کھول کرلے جائیں گے۔ گھوڑے نے بڑے اطمینان سے کہا کہ وہ یہاں بھی ریڑھا کھینچتا ہے اور”پٹھے‘‘(چارہ) کھاتا ہے اور چور بھی اس سے ریڑھا ہی کھنیچوائیں گے اور ”پٹھے‘‘ تو ڈالیں گے ہی۔ مطلب یہ کہ گھوڑا خواہ اپنے مالک کے تھان پر ہو یا چوروں کے تھان پراس کی زندگی کے بنیادی معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے۔ یہی حال ہمارا ہے۔ میں نے اور تم نے اپنی زندگی کا ریڑھا اب بھی اسی طرح کھینچنا ہے جیسا میاں صاحب کی یہاں موجودگی میں کھینچا تھا۔ اب انکے لندن چلے جانے کے بعد اور ان کی واپسی، وہ بھی اگر ہوئی تو‘ پر بھی یہ ریڑھا اسی طرح کھینچا جائے گا؛ تاہم ہم میں اور گھوڑے میں فرق یہ ہے کہ اسے ”پٹھے‘‘ مالک یا چوروں میں سے کسی ایک نے ڈالنے ہیں جبکہ ہم نے اپنے کھانے کیلئے پٹھوں کا بندوبست بھی خود ہی کرنا ہے۔
پھر میں نے آصف مجید کو ہنس کر کہاکہ آپ میاں نوازشریف کی محبت میں گوڈے گوڈے ڈوبے ہونے کے باوجود اس بات کا اقرار نہیں کرتے؛ تاہم آپ کے دل میں دبی ہوئی خواہشات سے بھلا ہم لوگ کس طرح لاعلم ہو سکتے ہیں؟ بے شک آپ اس کا اقرار نہیں کرتے مگر آپ کی ساری گفتگو میں جو بات آپ سے چھپائے نہیں چھپ رہی وہ یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں‘ نوازشریف واپس پاکستان آئیں گے تو شاید وہ زمین و آسمان کو الٹا کر رکھ دیں گے یا پاکستان کی سیاست کا رخ موڑ کر رکھ دیں گے تو آپ کے لیے دو بری خبریں ہیں۔ پہلی‘ وہ آ ہی نہیں رہے۔ دوسری‘ اگر وہ آ بھی گئے تو ملکی سیاست میں کسی قسم کی وقتی ہلچل اور جی ٹی روڈ پر جلسہ جلوس اور ایک عدد بے نتیجہ قسم کے نام نہاد لانگ مارچ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔ ابھی معاملات وہیں کھڑے ہیں جہاں ان کی روانگی سے پہلے تھے اور ملک کے معاملات کو کنٹرول کرنے والی طاقتوں اور ان کے درمیان طاقت کا باہمی توازن پہلے جیسا ہے اور جب اس توازن میں کوئی فرق نہیں آیا تو بھلا حالات میں کیا فرق آ سکتا ہے؟ ان کا مقابلہ صرف عمران خان سے نہیں کہ آپ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کو بنیاد بنا کر میاں نوازشریف کی پاکستان آمد کے بعد کے حالات کے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہو جائیں۔ میں نے آصف مجید سے پوچھا کہ کیا اس کے خیال میں مقتدر حلقوں کے ساتھ میاں نوازشریف کے معاملات طے ہوگئے ہیں؟ جواباً وہ کہنے لگا: بظاہر ایسا کوئی امکان نہیں۔ پھر میں نے پوچھا: کیا فریقین کے مابین طاقت کے باہمی توازن میں کوئی قابل ذکر تبدیلی آئی ہے؟ یہ جواب بھی انکار میں تھا۔ پھر میں نے پوچھا کہ اگر تعلقات میں بگاڑ بھی حسب سابق والا ہے اور طاقت کا توازن بھی تقریباً ویسا ہی ہے تو پھر میاں صاحب آکر کیا توپ چلا لیں گے؟ ہمارے دوست پرویز رشید کی دلی خواہشات محض ان کے چاہنے سے تو پوری ہونے سے رہیں۔ یہ کہہ کر میں نے آصف کو کہا کہ میرے لئے تو خوشی اور اطمینان کا باعث یہ بات ہے کہ اس بار کم از کم میاں نوازشریف برطانیہ میں اپنے خرچے پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اب بھلے اگلے دس سال بھی لندن کی ہوائوں کے مزے لیتے رہیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آصف مجید نے میری بات کو شرپسندی کے زمرے میں ڈالا اور جواب دینے کے بجائے فون بند کردیا۔
ابھی آصف کا فون بند ہی کیا تھاکہ شوکت گجر کا فون آگیا۔ یہ محض اتفاق کے علاوہ، اور کیا ہو سکتا ہے کہ شوکت نے بھی حال چال پوچھنے کے بعد وہی سوال دوہرا دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آصف مجید نے یہی سوال کیا تھا۔ شوکت گجر نے چسکے لینے کی غرض سے پوچھا کہ پھر تم نے کیا جواب دیا۔ میں نے کہا: میں نے تو میاں نوازشریف کے لندن قیام پر خوشی کا اظہار کیا کہ شکر ہے اس مرتبہ وہ وہاں اپنے خرچے پر قیام پذیر ہیں وگرنہ اتنے لمبے عرصے کے لئے سرکار کو خرچہ کرنا پڑتا تو ملک قبل از وقت ہی دیوالیہ ہو جاتا۔
شوکت گجر ایسے موقعوں پر بھولا سا بن کر تفصیل پوچھنے لگ جاتا ہے۔ مقصد صرف مزے لینا ہوتا ہے۔ پوچھنے لگا: یہ اپنے خرچے پر ٹھہرنے کا کیا قصہ ہے؟ میں نے کہا: جب میاں صاحب وزیراعظم تھے اور اپنے علاج کیلئے لندن آئے تھے تو پہلے پہل توان کے طبلچیوں نے مشہور کیا کہ میاں صاحب اپنے ذاتی خرچے پرگئے، بعد میں تفصیلات آئیں اور پتہ چلا کہ سارا خرچہ سرکار کا تھا تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ شوکت ”مچلا‘‘ بن کر پوچھنے لگا: کتنا خرچہ آیا تھا؟ میں نے کہا: ایک منٹ ٹھہرو فون کے نوٹس سے پڑھ کر بتاتا ہوں کہ مورخہ بائیس مئی 2016ء سے 9 جولائی 2016ء تک کتنا خرچہ ہوا تھا۔
وفدکے ارکان کو ڈیلی الائونس کی مد میں 30 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ادائیگی کی گئی۔ طیارے کے آنے جانے اور دو ہفتے ہیتھرو پر کھڑے رہنے پر آٹھ لاکھ ڈالر کرایہ بنا۔ جب طیارہ دوبارہ آیا تو پھر مزید 56 ہزار ڈالر ادا کئے گئے۔ گاڑیوں کے کرائے کی مد میں انتیس ہزار ڈالر لگے۔ عارضی دفتر کیلئے خریدے گئے کمپیوٹرز وغیرہ پر چھ ہزار کے قریب رقم لگی۔ موبائل فونز کا خرچہ تین ہزار ڈالر تھا۔ دل کے مریض کے پرہیزی کھانوں کا خرچہ اٹھائیس ہزار ڈالر سے زائد تھا۔ ہاسپٹل کے کمروں کا بل ایک لاکھ ستر ہزار ڈالر سے زیادہ تھا‘ حتیٰ کہ اخبار بھی سرکاری خرچ پر منگوائے جس پر ایک سو پینسٹھ ڈالر لگ گئے۔ علاج اور جہاز کا خرچہ ملا کر گیارہ لاکھ ڈالر سے زیادہ بل بنا۔ یہ صرف ڈیڑھ مہینے کے علاج کا خرچہ تھا۔ اگر اب کی بار سرکاری علاج کی سہولت ہوتی تو نومبر 2019ء سے آج تک دو سال دو ماہ کے علاج اور دیگر اخراجات کی مد میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ ڈالر لگ چکے ہوتے۔ اب ماشاء اللہ وہ ذاتی خرچے پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ بھلے دس سال وہاں رہیں کم از کم مجھے تو کوئی فکر نہیں۔ شوکت کہنے لگا: میرے پیسے پورے ہوگئے ہیں‘ میں فون بند کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر ہنستے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں