ایک سوال!

سوال کل بھی ایک ، سوال آج بھی ایک ، پیسے کمائے کیسے، پیسے لندن بھجوائے کیسے،مطلب فلیٹس خریدے کیسے ،مطلب فلیٹس کی منی ٹریل دیدیں ، 7سال ہوگئے، ہر کہانی سنادی گئی، ایک سوال کا جواب دیانہ دیا جارہا۔حیران ہوں، ایون فیلڈ فلیٹس موجود، شریف خاندان ان میں رہ رہا، منی ٹریل بھی نہ دی ،عدالتیں مطمئن ، شریفوں کا رویہ ،چوری ، سینہ زوری، سب کچھ کیا ، سب کچھ سے مُکرے ،ہر جھوٹ بولا، ہر چتر چالاکی کی، باعزت کے باعزت ،ویسے یہ عجب جھوٹ کی غضب کہانی ، مسلم لیگ بتاتی رہی، ہاؤس آف شریفس نے ایون فیلڈ فلیٹس 1993سے 1995کے دوران خریدے، بینکوں سے قرضہ لیکر ، یہ علیحدہ بات مسلم لیگ کے پاس بینکوں سے قرضہ لینے کا کوئی کاغذی ثبوت نہیں ، حسن نواز بی بی سی کے پروگرام ’ہارڈٹاک‘ میں بتائیں ،میں توان فلیٹس میں کرائے دار ، ان فلیٹس کا مالک کون مجھے نہیں معلوم ،مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم میر ا کرایہ کون دے رہا ، یہ علیحدہ بات حسن نواز کے پاس ایون فیلڈ فلیٹس میں بحیثیت کرائے دار رہنے کا بھی کوئی کاغذی ثبوت نہیں ، ایک دن مریم نواز بولیں، لندن جائیدادوں کا کیا قصہ لیکر بیٹھ گئے ہو ، بیرون ملک کیامیری تو اندورن ملک بھی کوئی جائیداد نہیں ، یہ علیحدہ بات کچھ عرصہ بعد مریم نواز نے اپنے انتخابی گوشواروں میں خود لکھا، میری صرف اندرون ملک پونے ارب کی جائیدادیں ، سلمان شہباز نے ایک انٹرویو میں کہا، کون سی لندن جائیدادیں ،ہماری لندن میں کوئی جائیداد نہیں ، یہ علیحدہ بات کچھ عرصہ بعدنہ صرف سلمان شہباز کے تایا نواز شریف کو برطانوی اخبار ڈیلی میل نے لندن میں 23جائیدادوں والا ’پینٹ ہاؤس بحری قذاق ‘ قرار دے ڈالا بلکہ سلمان شہباز کے وا لد محترم شہباز شریف کی بھی لندن میں جائیدادیں نکل آئیں، پانامہ لیکس ہونے لگیں تو حسین نواز بول پڑے، فرمایا، ایون فیلڈ فلیٹس ہمارے ،میں ان کا مالک، 2005ءمیں سعودی عرب میں اپنی فیکٹری بیچ کر یہ فلیٹس خریدے، یہ علیحدہ بات سعودی عرب میں فیکٹری بیچنے سے لندن میں فلیٹس خریدنے تک حسین نواز کے پاس بھی کوئی بینک ریکارڈ نہ نکلا، یہی نہیں،حسین نواز نے یہ بھی مانا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں میری دو آف شورکمپنیاں مطلب دو خفیہ کمپنیاں ، جن کے نام نیلسن اور نیسکول، یہ کمپنیاں ایک ٹرسٹ کے انڈر ، یہ ٹرسٹ مریم نواز چلار ہیں ، ہیں جی ،ہاں جی، حسین نوا زکہہ رہے ،مریم نواز ایون فیلڈ فلیٹس کی بینفشل اونر، جبکہ مریم نواز فرما رہیں ، بیرون ملک کیا میری تو اندرون ملک بھی کوئی جائیداد نہیں،آگے آئیے، پانامہ لیکس کے بعد 16مئی 2016ءکو قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر وزیراعظم نواز شریف نے منی ٹریل کی ایک کہانی سنا کر کہا’’ جناب اسپیکر یہ ہیں وہ ذرائع جن سے ہم نے ایون فیلڈ فلیٹس خریدے‘‘ یہ علیحدہ بات قومی اسمبلی میں یہ کہہ کر نواز شریف نے سپریم کورٹ میں اپنے ’جناب اسپیکر یہ ہیں وہ ذرائع ‘ سے یہ کہہ کر مُکر گئے کہ ’ وہ میرا سیاسی بیان تھا‘ مطلب بقول نواز شریف سیاست کا دوسرا نام جھوٹ،چترچالاکی ۔

اب کہانی کچھ یوں ، مسلم لیگ کہے ، ایون فیلڈ فلیٹس 1993ءسے 1995ءکے دوران بینک سے قرضہ لیکر خریدے گئے جبکہ حسین نواز کہیں فلیٹس 2005ءمیں فیکٹری بیچ کر خریدے، حسن نواز،مریم نوا ز، سلمان شہباز کہیں ، ہماری تو لندن میں کوئی جائیداد ہی نہیں جبکہ نواز شریف ،حسین نواز مانیں کہ لندن فلیٹس ہمارے، مزے کی بات، کسی کے پاس کوئی بینک ٹرانزیکشن ریکارڈ ،کوئی رسیدنہ نکلے جو یہ ثابت کرے کہ ہاؤس آف شریفس ایون فیلڈ فلیٹس کے کرائے دار یا ایون فیلڈ فلیٹس کے مالک، تبھی تو سپریم کورٹ نے کہا’’ پیسہ لندن اونٹوں پر بھجوایا یا فیصل آباد کے تاجروں کی طرح مال کچی رسیدوں پر بیچا، خریدا‘‘سپریم کورٹ ،احتساب عدالت، جے آئی ٹی سب ثبوت مانگ مانگ کر تھک گئے مگر کوئی ثبوت نہیں ، سپریم کورٹ نے تو تھک ہار کر آخر میں یہ بھی کہا’’یہ چھوڑ دیں فلیٹس آپ نے خریدے اور کوئی ثبوت نہیں ،یہ بھی چھوڑ دیں آپ ان فلیٹس میں بحیثیت کرائے دار اور کوئی ثبوت نہیں ،یہی ثبوت دیدیں کہ یہ فلیٹس قطریوں کے ‘‘پھر بھی کوئی جواب نہ آیا، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اسی ایون فیلڈ فلیٹس کیس میں قومی اسمبلی میں ’جناب اسپیکر یہ ہیں وہ ذرائع ‘والی تقریرکے علاوہ نواز شریف نے الف لیلیٰ کہانیوں بھری 3ٹی وی تقریریں بھی کیں ،سپریم کورٹ میں جعلسازی بھی ہوئی، جھوٹا قطری خط بھی پیش کیا گیا ،جھوٹی ٹرسٹ ڈیڈ ،جعلی کیلبری فونٹ جیسی کہانیاں بھی گھڑی گئیں اور اسی ایون فیلڈ کیس کے اہم کردار حسن نواز، حسین نواز جو ملزم بھی گواہ بھی ، عین موقع پر ہم پاکستانی نہیں غیر ملکی ہیں کہہ کر پتلی گلی سے ایسے نکلے کہ ابھی تک واپس نہ لوٹے ۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں ،وہ برطانیہ جہاں یہ ایون فیلڈ فلیٹس ، جو شریفوں کا دوسرا گھر، جہاں انکی جائیدادیں ، اولادیں ،جہاں کا یہ کھائیں ،جہاں یہ علاج کروائیں اور جسکی مثالیں دے دے کر یہ نہ تھکیں، اسی برطانیہ کا unexplained wealth order قانون کہے، اگر کسی عوامی عہدیدار یااسکے قریبی رشتے دار کی کوئی چھپی جائیداد نکل آئے تو دو چیزیں حکومت یا حکومتی ادارے نے ثابت کرنی ، خفیہ جائیداد ہے اور اسکا مالک فلاں ہے،اسکے بعداس فلاں نے ثابت کرنا کہ اسکی حلال جائیداد یا حرام جائیداد، یہاں الٹی گنگا بہہ رہی، بے شرمی سے ہوئی نیب ترامیم کے بعد اب ملزم نے نہیں نیب نے ثابت کرنا کہ ملزم کی جائیداد حلال یا حرام، یہاں یہ بھی بتادوں ، اسی کیس میں جب کہا جائے کہ ثابت کریں کہ نواز شریف نے کرپشن کی تو 5اپریل2016کو نواز شریف ہی اسکا یوں جواب دیں ’’کرپٹ افراد اپنے نام پر کمپنیاں بنائیں نہ اثاثے رکھیں ‘‘اسی کیس میں نواز شریف کے کئی روپ دیکھنے کو ملے ،صرف دو روپ ملاحظہ ہوں ، ایک نواز شریف فرمارہے ’’مجھ پر کیا، میرے بچوں پر بھی الزام لگا تو میں گھر چلا جاؤں گا‘‘، دوسرے نواز شریف فرمارہے ’’میرے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ تو تمہیں کیا‘‘ ویسے نواز شریف کیا ویژنری سیاستدان پانچ چھ سال پہلے کہا’’میرے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ تو تمہیں کیا اور اپنے نظام انصاف کو پانچ چھ سال لگے اس نکتے پر پہنچتے پہنچتے کہ اگر نوازشریف کے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ تو ہمیں کیا ،مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ ایون فیلڈ کیس بھی حدیبیہ کی طرح بندہو نے والا،مجھے اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ مریم نواز کے بعد ایک ایک کر کے تمام شریف باعزت بری ہونے والے ، مجھے اس سے غرض کہ سوال کل بھی ایک ، سوال آج بھی ایک ، پیسے کمائے کیسے، پیسے بھجوائے کیسے ،مطلب فلیٹس خریدے کیسے ،مطلب فلیٹس کی منی ٹریل دیدیں، 7سال ہوگئے ،ہر کہانی سنا دی گئی، ایک سوال کا جواب دیا نہ دیا جارہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں