ایرانی ’جیل ریسٹورینٹ‘ کے سوشل میڈیا پر چرچے

تہران: ویسے تو اس ہوٹل کا نام ’سیل 16‘ ہے لیکن سوشل میڈیا پر یہ ’جیل ریسٹورینٹ‘ کے نام سے مقبول ہے۔

اس کے روحِ رواں 31 سالہ بنیامین نکہت اور ارمان علی زادہ ہیں جو کاروبار میں بدترین نقصان اٹھانے کے بعد دو سال جیل میں بھی گزار چکے ہیں۔

’’جیل میں سب لوگ ہی عادی مجرم نہیں ہوتے،‘‘ بنیامین نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’وہاں بہت سے لوگ صرف اس لیے قید تھے کیونکہ ان کے پاس جرمانوں کی رقم ادا کرنے کےلیے پیسہ نہیں تھے۔‘‘

خود بنیامین کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا: کاروبار میں شدید نقصان اٹھانے اور قلاش ہوجانے کے بعد جب ان میں قرض خواہوں سے لی گئی رقم واپس کرنے کی سکت نہ رہی تو ایرانی قانون کے مطابق انہیں نادہندگی کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔

مقدمہ چلانے کے بعد جب ان پر نادہندگی کا ’جرم‘ ثابت ہوگیا تو انہیں دو سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔

قید میں بنیامین کی ملاقات ایسے کئی افراد سے ہوئی جن کی کہانی بالکل ان ہی جیسی تھی۔ ارمان علی زادہ بھی ایسے ہی ایک قیدی تھے۔

جیل کے حالات دیکھ کر ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ آزادی ملتے ہی وہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کریں گے کہ جس سے اُن قیدیوں کی مدد ہوسکے جو صرف جرمانے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے جیل میں قید ہیں۔

2016 میں انہوں نے مشرقی تہران میں ’سیل 16‘ کے نام سے ایک نئے ریسٹورینٹ کا آغاز کیا جس کا ماحول بالکل جیل کی طرح رکھا گیا ہے۔

اسی کے ساتھ ان دونوں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے ریسٹورینٹ کے بارے میں پوسٹس لگانا شروع کردیں اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا شروع کردیا۔

جلد ہی ان کی کوششیں رنگ لے آئیں اور لوگوں کی بڑی تعداد ’سیل 16‘ آنے لگی جبکہ سوشل میڈیا پر یہ ’جیل ریسٹورینٹ‘ کے نام سے مشہور ہوگیا۔

اپنے ذائقے دار فاسٹ فوڈ کے ساتھ، یہ ریسٹورینٹ اپنے گاہکوں کو یاد دلاتا ہے کہ بہت سے لوگ کسی معمولی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے ہیں؛ جنہیں باعزت طور پر مالی مدد کی ضرورت بھی ہے۔

پچھلے پانچ سال میں بنیامین اور علی زادہ نہ صرف درجنوں قیدیوں کی مالی مدد کرچکے ہیں بلکہ پچھلے سال انہوں نے ایران کے شہر اصفہان میں بھی اپنے ریسٹورینٹ کی نئی شاخ کا افتتاح کردیا ہے۔

محکمہ جیل کے مطابق، اس وقت ایرانی جیلوں میں 11 ہزار سے زیادہ ایسے لوگ قید ہیں جن کے چیک باؤنس ہوئے تھے یا پھر وہ قرضہ واپس نہیں کر پائے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں