مرنے اور مارنے سے پہلے

وجیہہ سواتی کی عمر 46 سال تھی اور اس کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا‘ ایم بی اے تھی‘امریکا کے سب سے بڑے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر بشیر المہدی کے ساتھ شادی ہوئی اور امریکا چلی گئی‘ 1999 میں بڑا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا‘ سرجیکل آلات کی کمپنی بنائی اور کاروبار شروع کر دیا۔

امریکا‘ پاکستان اور دوبئی تینوں جگہوں پر آنے اور جانے لگی‘بے تحاشا پراپرٹی بھی خرید لی‘ 2014ء میں دوبئی میں بزنس وزٹ پر تھی‘ اچانک رضوان حبیب سے ملاقات ہوئی اور یہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی‘ ڈاکٹر بشیر المہدی اس دوران ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو گیا۔

وجیہہ نے بیوگی کے بعد رضوان حبیب سے شادی کر لی‘ خاتون خوب صورت بھی تھی‘ امیر بھی تھی‘ جائیداد کی مالک بھی تھی اور کروڑوں روپے کا کاروبار بھی کرتی تھی جب کہ رضوان حبیب نکما تھا‘پراپرٹی کا کام کرتا تھا اوربیوی سے پیسہ منگوا کر کھاتاتھا‘ وجیہہ کے تین بیٹے تھے‘ یہ امریکا میں ماں کے ساتھ رہتے تھے‘ 2020 میں پراپرٹی کی وجہ سے دونوں کے درمیان اختلافات ہوئے اور معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچ گیا۔

2021ء کے شروع میں پاکستان آئی‘ جھگڑا ہوا اور یہ واپس امریکا چلی گئی‘ اس نے امریکا جا کر خاوند کا نمبر بلاک کر دیا‘ ڈی ایچ اے راولپنڈی میں اس کا گیارہ کروڑ روپے کا گھر تھا‘ وجیہہ نے وہ مکان اپنے نام ٹرانسفر کرانے کی قانونی کوششیں شروع کر دیں‘ رضوان حبیب مکان بھی نہیں دینا چاہتا تھا اوراس سے رقم بھی اینٹھنا چاہتا تھا ‘ بہرحال قصہ مختصر رضوان حبیب نے اپنی بہنوں کے ذریعے وجیہہ سے رابطہ کیا اورمکان ٹرانسفرکا چکر دے کر اسے پاکستان بلا لیا‘یہ 16 اکتوبر 2021کو اسلام آباد آ گئی۔

رضوان نے اسے ائیر پورٹ سے لیااور لے کر گھرآ گیا‘دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور رضوان نے اسے چھری مار کر اور گلا دباکر قتل کر دیا‘ لاش پیک کی‘ ڈکی میں ڈالی‘ جنڈ پہنچا‘ اپنے والد کو ہنگو سے بلایا‘ لاش اس کے حوالے کی اور گھر واپس آ گیا‘ والد لاش کو خاندانی ملازم سلطان کے گائوںلے گیا‘ دونوں نے سلطان کی بہن کے گھر میں گڑھا کھودا‘ لاش دفن کی اورگائوں واپس چلے گئے۔

وجیہہ کا بڑا بیٹاعبداللہ والدہ سے رابطے کی کوشش کرتا رہا لیکن اسے والدہ کا فون مسلسل بند ملتا رہا‘ اس نے رضوان کی بہنوں سے رابطہ کیا‘ ان کا جواب تھا ’’تمہاری والدہ ہمارے پاس نہیں آئی‘‘ وجیہہ سواتی نے 22 اکتوبر کو امریکا واپس پہنچنا تھا‘ یہ نہ پہنچی تو عبداللہ نے اپنے وکیل کے ذریعے تھانے میں گم شدگی کی رپورٹ درج کرا دی‘ پولیس نے رضوان کو بلا کر ہلکی سی تفتیش کی اور فائل لپیٹ کر بیٹھ گئی۔

عبداللہ نے عدالت سے رجوع کر لیا‘ جج نے پولیس کو طلب کر لیا‘ پولیس کے پاس تفتیش نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں تھی ‘ جج نے 30 دسمبر تک مجرم کو گرفتار کرکے تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے دیا‘ اس دوران امریکی سفارت خانہ بھی متحرک ہو گیا‘ سفارتی اہلکار سی پی او راولپنڈی ساجد کیانی سے ملے ‘یہ انتہائی سمجھ دار اور تجربہ کار پولیس افسر ہیں‘ انھوں نے خود تفتیش شروع کر دی‘ رضوان حبیب کو گرفتار کر لیا گیا‘ یہ تین دن پولیس کی حراست میں رہا‘اس کے پاس پولیس کے ہر سوال کا جواب تھا‘ ا س چیز نے اسے مشکوک بنا دیا۔

پولیس اس کے والد کو پکڑ کر لے آئی تو اس نے تیسرے دن اپنا جرم قبول کر لیا‘ رضوان نے بتایا‘ میرے والد نے مجھے کہا تھا پاکستان میں 50 ہزار روپے میں کسی کو بھی قتل کرایا جا سکتا ہے‘ تم یہ رقم ادا کرو اور اس سے جان چھڑا لو یوں میں نے وجیہہ کو قتل کر دیا‘ رضوان کی نشان دہی پر لاش برآمد ہوئی‘ آلہ قتل بھی مل گیا اور رضوان کا والد اورملازم بھی گرفتار ہو گئے‘ رضوان نے انکشاف کیا ’’میں قتل کے بعد پولینڈ میں سیاسی پناہ لینا چاہتا تھا‘ میں نے پاسپورٹ بھی بنوا لیا تھا اور پولینڈ جانے کا بندوبست بھی کر لیا تھا لیکن فرار ہونے سے پہلے ہی پکڑاگیا‘‘۔

وجیہہ سواتی کا کیس آج کل میڈیا میں تواتر کے ساتھ ڈسکس ہو رہا ہے‘ پولیس روزانہ کی بنیاد پر تفتیش کر رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر چیزیں بھی سامنے آ رہی ہیں‘ اب تک کی تفتیش سے تین چیزیں سامنے آئی ہیں‘ شادی محبت کی تھی لیکن محبت کا شعلہ سرد پڑ گیا اور میاں بیوی میں ناچاقی تھی‘ خاتون خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی مگر خاوند ہر صورت اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا‘ دوسرا‘ خاوند بیوی کی زمین جائیداد اور رقم ہتھیانا چاہتا تھا۔

یہ ڈی ایچ اے کا گھر بھی اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا تھا اور تیسری وجہ والد نے اسے اکسایا اور یہ نفرت کی رو میں بہتا چلا گیا‘ ملازم سلطان بھی لالچ میں آ گیا اور اس نے لاش کو ٹھکانے لگانے کی ذمے داری اٹھا لی اور یوں خاتون جان سے چلی گئی‘ ہم اگر سردست ان وجوہات کو اصل مان لیں تو سوال پیدا ہوتا ہے خاتون‘ خاوند اور والد نے اس سارے کھیل سے کیا حاصل کیا؟ خاتون اپنی پراپرٹی بچاتے بچاتے جان سے چلی گئی۔

خاوند پراپرٹی کے لالچ میں قتل کے الزام میں گرفتار ہوگیا اوروالدبھی بڑھاپے میں لالچ میں شریک جرم بن گیا‘ یہ دونوں اب سزائے موت اور عمر قید بھگتیں گے اور یہ جس مکان کے لالچ میں اندھے ہو گئے تھے وہ مقدمے بازی کی نذر ہو جائے گا یا پھر اس پر کوئی اور قابض ہو جائے گا چناں چہ پھر کس نے کیا پایا؟ ذلت‘ خواری‘ سزائے موت اور عمر قید! کس کو کیا ملا؟

یہ لوگ اگر اس کے برعکس ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ جاتے‘ اپنے تنازعے‘ اپنے ایشوز ایک دوسرے کے ساتھ ڈسکس کرتے‘ رضوان حبیب کا والد بزرگ کا کردار ادا کرتا‘ ملازم سلطان قتل کے معاملے میں معاونت سے انکار کر دیتا تو یہ تمام لوگ بچ جاتے‘ خاوند پراپرٹی کی سیٹل منٹ کر کے بیوی کو طلاق دے دیتا۔

بیوی اگر خاوند کومکان دے دیتی تو ٹھیک ورنہ یہ اپنا سامان اٹھاتا اور زندگی کا سفر نئے سرے سے اسٹارٹ کر لیتااور بیوی کو اللہ تعالیٰ نے بے تحاشا نوازا تھا‘ یہ اگر مکا ن کی قربانی دے دیتی تو تمام لوگ ذلت اور خواری سے بھی بچ جاتے اور بے مقصد موت سے بھی لیکن انسان کے بارے میں کہتے ہیں یہ جب کسی لالچ اور نفرت کے بھنور میں پھنستا ہے تو پھر یہ پھنستا ہی چلا جاتا ہے‘ یہ دائیں بائیں نہیں دیکھتا اور یوں یہ آخر میں ڈوب کر مر جاتا ہے۔

میں بار بار یورپ اور امریکا کی مثالیں دیتا ہوں‘ میرے دوست مجھے یورپ سے مغلوبی کے طعنے بھی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے یورپین زندگی کے اصل حقائق سے واقف ہو چکے ہیں لہٰذا یہ ایسے ایشوز پر ایک دوسرے سے لڑتے نہیں ہیں‘ یہ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کر لیتے ہیں‘ بل گیٹس اور ان کی اہلیہ میلینڈا گیٹس کے درمیان 27سال کی طویل رفاقت کے بعد مئی 2021میں طلاق ہو گئی‘ یہ تاریخ کی سب سے مہنگی طلاق تھی۔

بل گیٹس کو قانون کے مطابق میلینڈا کو 76بلین ڈالر کے اثاثے دینا پڑگئے‘پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر24بلین ڈالرز ہیں‘ بل گیٹس نے ہم سے تین گنا زیادہ رقم طلاق میں دے دی‘ بل گیٹس بھی اگر چاہتا تو یہ رقم بچا سکتا تھا‘ یہ جاسوس ہائر کر کے بیوی پر الزامات لگا دیتا یا عدالت میں وکلاء کا لشکر کھڑا کر دیتا لیکن اس نے اس کے بجائے طلاق اور رقم دی اور دونوں نے اپنی اپنی چار پائی الگ کر لی‘ یہ اب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور بچوں کو بھی وقت دیتے ہیں بس یہ دونوں میاں بیوی نہیں ہیں۔

اب سوال یہ ہے ان دونوں کو اس ’’بے غیرتی‘‘ کا کیا فائدہ ہوا؟ بے انتہا فائدہ ہوا‘ بل گیٹس مزے سے اپنے کام پر توجہ دے رہا ہے اور میلینڈا پورے فوکس کے ساتھ فائونڈیشن کے کام کر رہی ہے جب کہ یہ اگر دوسرے راستے کا انتخاب کرتے تو یہ عدالتوں کی وجہ سے اس وقت تک پاگل بھی ہو چکے ہوتے اور ان کا کام بھی تباہ ہو چکا ہوتا اور یہ بھی عین ممکن تھا یہ دونوں یا کوئی ایک کیس کے آخر تک خودکشی بھی کر جاتا لہٰذا پھر بہتر کیا ہوا؟

میرا آپ کو مشورہ ہے آپ گھریلو تنازعوں کی صورت میں ایک دوسرے کو طلاق دیں‘ رقم اور جائیداد تقسیم کریں ‘ بچوں سے میل ملاقات کا فارمولا طے کریں اور زندگی کے سفر میں آگے کی طرف دوڑ پڑیں‘نفرت اور لالچ میں لڑنے‘ مرنے اور تباہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟میں اکثر لوگوں سے عرض کرتا ہوں آپ جب بھی خودکشی کے بارے میں سوچیں یا کسی کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کا فارمولا بنائیں تو عملی قدم اٹھانے سے پہلے کسی کمرے میں اکیلے بیٹھیں اور یہ فیصلہ کریں زندگی اچھی ہے یا زمین جائیداد؟

آپ کا فیصلہ یقینا زندگی کے حق میں ہوگا لہٰذا آپ خود کو زیرو پر لے جائیں‘ آپ سے دوسرا فریق جو بھی مانگتا ہے آپ اسے دے دیں اور زندگی نئے سرے سے اسٹارٹ کر لیں‘ ہو سکتا ہے یہ وہ ٹانگ ہو جس سے کبڑے کا کب ٹھیک ہو سکتا ہو‘ آپ نے اگر مرنا ہی ہے تو زندگی کے کنوئیں میں ڈوب کر مریں۔

پھندا لینے کی کیا ضرورت ہے اور اگر دوسرے کو مارنا ہی ہے تو اس سے الگ ہو کر اسے ایک شان دار اور کام یاب زندگی سے ماریں‘ اسے چھری سے مارنے کی کیا ضرورت ہے اور آپ اگر رضوان حبیب کے والد ہیں تو آپ والد کا کردار ادا کریں کرائے کے قاتل کیوں بن رہے ہیں؟ یہ یاد رکھیں دنیا کی ہر چیز دنیا ہی میں رہ جاتی ہے لہٰذا کسی چیز کے لیے خود کو نقصان پہنچائیں اور نہ کسی کا نقصان کریں‘ زندگی ہے تو سب کچھ ہے‘ زندگی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں