مچھلیاں خود کو آئینے میں ’دیکھ کر‘ صاف کرتی ہیں

اوساکا: جاپانی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ بعض مچھلیاں آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر نہ صرف خود کو پہچان سکتی ہیں بلکہ اگر انہیں عکس میں اپنے جسم پر کوئی دھبہ نظر آجائے تو وہ اسے صاف بھی کرتی ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے اور ارتقاء یافتہ جانوروں کی طرح ننھی منی مچھلیاں بھی اپنے وجود کا شعور (self awareness) رکھتی ہیں۔ اسی لیے وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر خود کو ’پہچان‘ سکتی ہیں۔

اگر انہیں اپنے عکس میں کوئی اضافی اور غیرمعمولی نشان نظر آجائے تو وہ سمجھتی ہیں کہ کوئی کیڑا ان کے جسم سے چپک گیا ہے جسے چھڑا کر اپنا جسم صاف کرنے کےلیے وہ مختلف ترکیبیں بھی اختیار کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دریافت تین سال پہلے، ماہرین کی اسی ٹیم نے کی تھی لیکن تب دوسرے سائنسدانوں نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے تھے اور اس دریافت کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اوساکا سٹی یونیورسٹی میں ڈاکٹر ماناسوری کوہدا کی قیادت میں جاپانی، جرمن اور سوئس ماہرین کی ایک ٹیم نے یہ تحقیق ایک بار پھر انجام دی۔

پہلے کی طرح اس بار بھی تجربات میں Labroides dimidiatus مچھلیاں استعمال کی گئیں جنہیں ’مصفیٰ مچھلیاں‘ (کلینر فش) کہا جاتا ہے۔

یہ شوخ نیلگوں، سیاہ، زرد اور سفید رنگت والی چھوٹی مچھلیاں ہیں جو سمندر میں مختلف جانوروں کی صفائی کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہ اپنے جسم سے چپکی ہوئی کسی چیز مثلاً چھوٹے کیڑے وغیرہ کو چھڑانے کےلیے کنکروں پتھروں سے خود کو رگڑتی ہیں اور اس طرح خود کو ’صاف‘ کرلیتی ہیں۔

پچھلے تجربات میں ان مچھلیوں کو ایکویریئم کے آئینے میں خود کو پہچاننے کی تربیت دی گئی جس کے بعد ان کے جسموں پر ایسے مقامات پر دھبے لگائے گئے جنہیں وہ صرف آئینے میں ہی دیکھ سکتی تھیں۔

ان تجربات کے دوران مصفیٰ مچھلیوں نے آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر وہ دھبے صاف کیے اور صفائی کے بعد اپنا جائزہ لے کر اطمینان بھی کیا۔

جب یہ تحقیق ’’پی ایل او ایس بائیالوجی‘‘ میں شائع ہوئی تو اس پر کئی ماہرین نے سوالات اٹھا دیئے اور کہا کہ محدود اور مبہم تجربات کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ ان چھوٹی چھوٹی مچھلیوں میں اپنے وجود کا شعور موجود ہے۔

ان اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر ماناسوری اور ان کے ساتھیوں نے یہی تجربہ پچھلے سال ایک بار پھر دوہرایا۔

البتہ اس مرتبہ نہ صرف مچھلیوں کی تعداد بڑھا کر 18 کردی گئی بلکہ ان میں خود آگاہی (self awareness) کی تصدیق کےلیے 8 الگ الگ تجربات بھی ترتیب دیئے گئے۔

ان تجربات کے دوران مچھلیوں کے جسموں پر ہرے، نیلے اور گہرے کتھئی نشانات لگائے گئے جو مچھلیوں پر چپک جانے والے چھوٹے کیڑوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔

18 میں سے 17 مچھلیوں نے ان تجربات کے دوران ہرے اور نیلے رنگ کو نظر انداز کیا جبکہ وہ کتھئی نشان کو اپنے جسم سے چپکا ہوا کوئی کیڑا سمجھ بیٹھیں؛ اور اسے چھڑانے کی کوششیں کرنے لگیں، کیونکہ مچھلیوں پر چپکنے والے کیڑے عموماً کتھئی رنگ کے ہوتے ہیں۔

مختلف پہلوؤں سے تجربات کے بعد ماہرین ایک بار پھر اسی نتیجے پر پہنچے کہ جسامت میں بہت چھوٹی ہونے کے باوجود، مصفیٰ مچھلیاں اپنے وجود سے آگاہ ہوتی ہیں۔

نئے تجربات اور ان سے حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات ان سائنسدانوں نے ’’پی ایل او ایس بائیالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع کروا دی ہیں لیکن اس مرتبہ وہ زیادہ محتاط ہیں۔

اپنے ریسرچ پیپر میں انہوں نے مصفیٰ مچھلیوں میں ’’خود شناسی‘‘ (self-recognition) کی صلاحیت سے متعلق مزید شہادتوں کے بارے میں ضرور بتایا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حتمی نتائج کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں