’’جو چلا گیا اسے بھول جا‘‘

گزشتہ منگل کی بات ہے ۔’’رپورٹ کارڈ‘‘ کا دوسرا دن تھا۔ ریکارڈنگ عموماً5بجے ہوتی ہے، سو میں 3بجے واک کیلئے نکل جاتا ہوں تاکہ چار سوا چار واپس آکر 5بجے تک تیار ہو سکوں۔3بجکر 8منٹ پر ابرار کا فون ابن صحرا کے فون پر آیا کیونکہ میں سیل فون نہیں رکھتا۔میں نے مختصر سی گفتگو کے بعد شام کا پروگرام پوچھا تو بولا ’’شام کو ہی بتائوں گا‘‘ ۔ مقررہ وقت پر واپسی اور ’’رپورٹ کارڈ‘‘ کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو پہلی بریک ہوتے ہی میں نے اپنے ملازم سے کہا ’’چپٹرم یار ! ابرار صاحب کو کال کرکے آنے نہ آنے کا پوچھو‘‘ ۔ دوسری بریک کے دوران چپٹرم نے بتایا’’ فون کیا تھا۔ملازمہ نے بتایا کہ ابرار صاحب گر گئے تھے ۔باجی، ڈرائیور انہیں ہسپتال لیکر گئے ہیں ‘‘۔ہلکا سا جھٹکا لگا بات ختم پروگرام شروع ہو گیا جس کے ختم ہونے پر اہلخانہ اور آصف عفان سمیت دیگر دوستوں نے مرحلہ وار مجھے بتایا کہ ’’ابرار بھائی جان لیوا ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں گرے تھے ۔نماز جنازہ آج ہی ہو گی‘‘۔

50سال کی دوستی ایک لمحہ میں خاک ہو گئی اور میں پتھرا سا گیا۔نہ کوئی آنسو نہ کوئی لفظ۔ ماڈل ٹائون پہنچے شانت چہرے کا آخری دیدار کیا اور سپرد خاک کرکے واپس آ گئے اور میں سوچتا رہا کہ آج رات یار غار ابرار قبر میں اور میں بستر میں کیسے گزاروں گا؟ سب کچھ ہو چکا تھا لیکن یقین نہیں آ رہا تھا۔

پتھر کی طرح میں نے ترا سوگ منایا

دامن نہ کیا چاک کبھی بال نہ کھولے

ابرار اور میری دوستی ریڑھی پر ہوئی تھی جو میں نے گھر چھوڑنے کے بعد ماڈل ٹائون میں اس جگہ لگائی جہاں آج ’’ون بی ‘‘ کے سامنے ماڈل ٹائون پارک کا مین گیٹ ہے ۔ ریڑھی کے بعد میں نے وہ دکان بھی لے لی جس کے سامنے ریڑھی کیلئے جگہ کرائے پر لی تھی ۔ کاریگر ڈھونڈا اور وہاں تکے کباب بھی شروع کر دیئے تو رش بہت بڑھ گیا۔ ریگولر کسٹمرز میں نکلتے قد کا ہینڈسم سا لڑکا بھی تھا جس کا گریبان کھلا اور گلے میں سونے کی زنجیر ہوتی ۔یہ ابرار تھا جو عبدالقادر روپڑی مرحوم کے بیٹے عارف روپڑی، محتشم ،ریاض چوچا اور انعام الرحیم وغیرہ کے ساتھ آتا۔ان سب سے دوستی ہو گئی لیکن ابرار کے ساتھ تعلق ایسا کہ میری اہلیہ اسے ابا اور بچے نانو کہتے تھے۔ میں اسے ریڑھی کا مسلسل منافع اور وہ مجھے زندگی بھر کی کمائی کہا کرتا ۔ابھی چند ہفتے قبل میاں حبیب نے ایک نجی ٹی وی چینل کیلئے مجھے انٹرویو کیا جس میں بیلی پور کی ’’ہانسی حویلی ‘‘ سے لیکر شہر والے گھر اور نیوکیمپس کی کنٹین اور کلاس روم سے لیکر ریڑھی والی جگہ تک سبھی کچھ شامل تھا ۔ ریڑھی والی جگہ پر بیٹھ کر میاں حبیب نے میرے ساتھ ابرار کا انٹرویو بھی کیا جس میں اس نے بہت سے ’’راز‘‘ افشا کر دیئے ۔

وہ عجیب آدمی تھا جو کتابوں کا عاشق، زخمی لوگوں کا معالج اور اپنے حاسدوں کیلئے بھی لج پال تھا۔ جو لوگ اسے ڈستے رہے، وہ بوقت ضرورت ان کے زخموں پر بھی مرہم پٹی کرتا رہا۔ وہ بھٹو کا عاشق تھا جس نے بھٹو کی پھانسی پر رونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’’جس دن بھٹو کا احسان فراموش قاتل خود قتل ہو گا ،اس دن روئوں گا اور گھر میں جو کچھ ہو گا ضرورت مندوں میں تقسیم کر دوں گا‘‘۔پھر جب ٹی وی پر اس نے غلام اسحاق خان کا یہ اعلان سنا کہ ضیاالحق کا طیارہ فضا میں ’’پھٹ‘‘ گیا تو وہ رات بھر بھٹو کے سوگ میں روتا رہا اور گھر میں جو کچھ تھا، غریبوں میں بانٹ دیا۔ بڑا بیٹا چیکو اب نامور آرکیٹیکٹ ہے ،تب بچہ تھا جب 86 میں بے نظیر بھٹو جلاوطنی کاٹ کر لاہور آئی ۔ایئرپورٹ سے داتا دربار تک واقعی انسانوں کا سمندر تھا جہاں چھوٹے سے بچے کو لیکر جاناپاگل پن کے سوا کچھ نہ تھا لیکن وہ ایسا ہی تھا۔ ننھے چیکو کو کندھے پر بٹھا کر اسے بے نظیر دکھاتا اور چلاتا رہا ’’دیکھو وہ بے نظیر ہے۔ بھٹو کی بیٹی بے نظیر ہے، چیکو دیکھو وہ بے نظیر ہے ‘‘۔وہ واقعی بےنظیر تھا۔آج کی منافقتوں، غلاظتوں اور نجاستوں سے بہت دور، بیحد اجلا آدمی ، پاکیزہ روح۔

ہم دونوں لڑتے بہت تھے ہمارا تکیہ کلام بھی ایک ہی تھا ’’اوچھڈ تینوں کی پتہ ‘‘بینا بھابی اکثر کہتیں …..’’عجیب دوست ہو آپ لوگ، جب دیکھو لڑ رہے ہوتے ہیں ‘‘۔ مجھے کالم نگار بنانے میں بھی اس کا کردار کلیدی تھا۔ میں ان دنوں اک ایسے اخبار کا ایڈیٹر تھا جو اچھا مہنگا کالم نگار افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دن میں نے باتوں باتوں میں اس ’’مسئلہ‘‘ کا ذکر کیا تو ’’ہیپی آورز‘‘ کے دوران چمک کر بولا ’’تمہارے ہاتھوں کو مہندی لگی ہوئی ہے ہونق آدمی ! خود کیوں نہیں لکھتے ؟‘‘

ڈیڑھ دو سال پہلے اچانک مجھ سے پوچھا

’’ تم دعا پر بہت یقین رکھتے ہو کبھی اپنے لئے بھی دعا مانگی ؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں‘‘ تو کہا’’مجھے بھی بتائو اچھی لگی تو اپنے لئے بھی وہی دعا مانگا کروں گا‘‘ میں نے کہایار! میں تو رب سے اپنے لئے صرف ایک ہی دعا مانگتا ہوں۔

A PAINLESS AND PEACFUL EXIT

تڑپ کے بولا ’’واہ سبحان اللہ ….ہمارے بزرگ بھی یہی دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ ! کسی کا محتاج نہ کرنا چلتے پھرتے بلالینا ‘‘

اس کی سنی گئی کہ بہت ہی اجلا اور پاکیزہ شخص تھا

وہ نہ سن سکے گا تری صدا

جو چلا گیا اسے بھول جا

لیکن خود کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں