اترتی ہے تو اتر جائے

امیر جماعت اسلامی سراج الحق اتنے بھلے اور شاندار انسان ہیں کہ ان سے اختلاف کرنا بھی مناسب نہیںلگتا اس لئے اپنے علم میں اضافہ کے لئے ان سے ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ کیا مسلمانوں اور اہل مغرب کی ’’جمہوریت‘‘ ایک ہی شے کے دو مختلف روپ ہیں؟

وجہ یہ ہے کہ میں نے زندگی میں بار ہا پڑھا کہ ’’کسی منصب کے لئے خود کو پیش کرنے اور پروموٹ کرنے والا اس منصب کے لئے سب سے نااہل شخص ہوتا ہے‘‘ اور ظاہر ہے اشارہ سیاسی منصب کی طرف ہے کیونکہ ڈاکٹرز، سولجرز، انجینئرز،بیورکریٹس، ٹیکنو کریٹس وغیرہ تو باقاعدہ تعلیم و تربیت یافتہ پروفیشنلز ہوتے ہیں تو کیا وہ لوگ جو دھن، دھونس، دھاندلی، ذات برادری، جھوٹ، خواب فروشی، پروپیگنڈا وغیرہ کا بے رحمانہ استعمال کرکے ’’استحقاقیے‘‘ اور ’’پروٹوکولیے‘‘ بنتے ہیں، کیا واقعی ان منصبوں کے اہل ہوتے ہیں؟ اگر نہیں ہوتے تو آپ کو اس کی فکر کیوں ہے کہ یہ منحوس جمہور دشمن جمہوریت پٹڑی سے اترتی ہے یا نہیں؟اور اگر یہ واقعی اہل ہیں تو پھر آپ ان کے حریف کیوں ہیں؟ منصورہ بیٹھ کر باجماعت اللہ اللہ کریں اور ان سب کو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں مصروف رہنے دیں۔

انسانی زندگی میں …. زندگی سے بھی بیش قیمت چیز انسان کی ’’رائے‘‘ ہوتی ہے اور ’’رائے‘‘ صرف ’’صاحب الرائے‘‘ کی ہی ہوسکتی ہے۔ غلاموں اور رعایا کی ’’رائے‘‘ کیسی؟ معاشی، معاشرتی، طبقاتی، برادری ازم، جہالت وغیرہ کے بھاری طوقوں اور زنجیروں میں جکڑے SUBMEN یا MANIMALSکی رائے اور وہ بھی نازک ترین، حساس ترین معاملہ میں کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔ بیٹی کو جنم دینے والی بیوی اور بیٹی کو سفاکی سے ہلاک کر دینے والے کی رائے کا کیا مطلب ہے؟ رکشہ نما شے چلاتے ہوئے صرف آدھ لٹر پٹرول بچانے کے لئے اپنی اور ڈھیر سواریوں کی جانیں خطرے میں ڈال کر ون وے کا دھڑن تختہ کرنے والے کی رائے کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔ مدتوں سے لکھ رہا ہوں کہ جن کے پیروں تلے زمین، سر کے اوپر چھت نہیں، پیٹ میں روٹی، تن پر ڈھنگ کا کپڑا، دماغ میں چٹکی بھر روشنی نہیں…. ا ن کی کوئی ذاتی رائے ہو ہی نہیں سکتی اسی لئے کہتا ہوں کہ سیاسی اجتماعات میں قیمے والے نان یا بریانی کی پلیٹیں ناچ رہی ہوتی ہیں۔ اگر ہم لوگ جھوٹے اور جعلی نہیں تو پھر پہلے انہیں لبریٹ کرو، ان کی زنجیریں اتارو، تعلیم دو، خود کفیل بنائو، انسانی ماحول فراہم کرو لیکن یہ بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ عادلانہ اقتصادی نظام، ویلفیئر سٹیٹ کسی گینگسٹر کے وارے میں نہیں۔ جس دن ’’جمہور‘‘ زندہ ہوگئے، وہ اس جمہوریت کی موت کا دن ہوگا جو اس کے اصل ٹھیکے داروں کے وارے میں نہیں۔ ایک ایسی جمہوریت جس میں ’’اصل جمہور‘‘ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں …. اگر پٹڑی سے اتر بھی جائے تو شکرانے کے نفل ادا کریں۔ میرا بس چلے تو میں وہ پٹڑی ہی اکھاڑ کر کسی فرنس میں جھونک دوں جس پر اقلیتی جمہوریت کی گاڑی چل رہی ہے…. اگر چل رہی ہے۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ مغربی جمہوریت ہی ہمارے مسائل کا علاج ہے تو پھر اس کی موجد ماں کی پرفارمنس پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہوگا۔ اس برطانوی جمہوریت کا آغاز پہلی عیسوی قبل مسیح میں رومن ایمپائر کی ’’جمہوری روایات‘‘ سے ہوا جو انہوں نے یونانیوںسے لی تھیں۔ پھر ٹرننگ پوائنٹ 1215ء میں MAGNA CARTA پہ آیا جو اس جمہوریت کی طرف پہلا باقاعدہ ’’بے بی سٹیپ‘‘ تھا۔ بادشاہت اور پارلیمنٹ اکٹھے کام کرتے، الیکشن باقاعدگی سے ہوتے لیکن ووٹ کا حق صرف اور صرف لینڈ اونرز کو تھا۔ پھر کہیں 18ویں، 19 ویں صدی میں دو بڑی پارٹیاں یعنی لبرل ڈیمو کریٹس اور کنزروویٹوز معرض وجود میں آئیں۔ ’’ہائوس آف لارڈز‘‘والے منتخب نہیں ہوتے تھے لیکن ’’ہائوس آف کومنز‘‘ کے بنائے ہوئے قوانین کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔

20ویں صدی کے پہلے دو عشروں تک برطانیہ میں کبھی ’’پوری جمہوریت‘‘ نہیں رہی۔ عورتوں سے لے کر عام آدمی تک کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ یہ حق مخصوص لوگوں تک محدود تھا۔ 1918 میں 21 سال سے زیادہ عمر کے مردوں اور 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو یہ حق ملا جس کے پیچھے طویل سفر اور صبر کی داستان ہے۔ پھر 1928 میں 21 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کویہ حق نصیب ہوا۔ 18 سال کے مرد اور عورت کو ووٹ کا حق تو ابھی کل یعنی 1969 کی بات ہے۔

یہ اک طویل مرحلہ وار سفر تھا جبکہ ہم نے غزنویوں سے لے کر سلاطین دہلی، پھر مغلوں اور پھر فرنگیوں کی صدیوں پر مغلوب و محیط ’’رعایا‘‘ کو ’’پیدا‘‘ ہوتے ہی ووٹ کا حق دے دیا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے بغیر کسی تعلیم و تربیت کے کسی بچے کے ہاتھ میں کسی بے حد لیتھل قسم کا ہتھیار دے دیا جائے یعنی خود بھی برباد، دوسرے بھی تباہ۔

انسانی معاشرہ بھی انسان کی طرح مہد سے لحد تک مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ باورچی سے لے کر ڈرائیور تک بھی ایک پراسیس سے گزرتے ہیں اور اگر شارٹ کٹ مارا جائے تو شارٹ سر کٹنگ ہو جاتی ہے، جو اس وقت بھی عروج پر ہے۔ جاہل باورچیوں نے ’’دیگ‘‘ کا ستیاناس کردیا اور ڈرائیونگ کی الف بے اور ٹریفک سائنز سے ناآشنا ڈرائیورز گاڑیوں اور سواریوں سمیت موت کے کنویں میں اپنی اپنی مہارتوں کے مظاہروں میں مصروف ہیں۔

بہتر ہے کسی گہری کھائی میں غرق ہونے سے پہلے گاڑی پٹڑی سے ہی اتر جائے۔ اس لئے پلیز! اس شیم (SHAM) ڈیموکریسی کے پٹڑی سے اترنے پر فکر مند اور پریشان نہ ہوں…. باقی برادر محترم سراج الحق اور ’’جمہور مار‘‘ سیاست کی مرضی!

میری طرف سے تو یہ جمہوریت پٹڑی سے اترتی ہے تو اتر جائے۔ میرا بس چلے تو پٹڑی ہی آگ میں جھونک دوں!

اپنا تبصرہ بھیجیں