’’ہم سب ہی سب کچھ بھول گئے‘‘

شعر سے شروع کرتے ہیں:

میں جس کویاد کرتا ہوں بہت ہی یاد کرتا ہوں

میں جس کوبھول جاتا ہوں بہت ہی بھول جاتا ہوں

عوام کی یاد داشت تو کمزور ہوتی ہی ہے لیکن اس زناٹے دار ماحول میں تو نام نہاد خواص کی یادداشت کوبھی ’’زنگ‘‘ دیمک یا کینسر نگل چکا۔ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘…’’چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر‘‘ ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ اور ’’دیکھو دیکھو کون آیا، شیرآیا شیر آیا‘‘۔حالانکہ شیر کبھی جدے کبھی لندن گیا) وغیرہ کے علاوہ ہم میں سے کتنے فیصد لوگوں کو یاد ہے کہ پاکستان کی بنیادوں میں کن کن لوگوں کا خون پسینہ شامل ہے۔

’’نام تک یاد نہیں ہیں صاحب‘‘

ہم میں سے کتنے لوگ مولانا احمد سعید دہلوی کے کام کیا، نام سے بھی واقف ہیں؟ آپ 1922ء کے اواخر میں میانوالی جیل میں قیدیوں کالباس پہنے مونج بٹنے کی مشقت کر رہے تھے۔ یہ مولانا احمد سعید دہلوی سچ مچ کے عالم دین تھے اور ہندوستان بھر کی جمعیت علماء کے سیکرٹری بھی تھے۔ جان لیوا مشقت کے دوران بھی بشاش بشرہ، چھدری سی داڑھی، چھوٹی سی توند، بلند قامت، آنکھوں میں شفقت اور شوخی کا امتزاج۔ جب جیل میں ’’کلاس‘‘ تبدیل ہوئی تو اصل لباس پہنا یعنی سر پر دہلی والی کڑھی ہوئی ٹوپی، شیروانی اور آڑا پاجامہ، سالک اور عبدالعزیز انصاری، مولانا احمد سعید سے عربی زبان، صرف و نحو، ادب اور منطق کا سبق لیا کرتے تھے۔ ایک آدھ گھنٹہ پڑھنے کے بعد آموختہ دہراتے اور ترجمہ کرکے مولانا کو دکھاتے۔ مولانا جیل کے ساتھیوں کو لطیفے بھی سناتے۔ انہوں نے سچا لطیفہ سناتے ہوئے بتایا۔

’’جب میں نیا نیا میانوالی جیل میں آیا تو ایک پرانے اور طویل المیعاد قیدی نے مجھے نماز اور تلاوت میں مصروف دیکھ کر سمجھ لیا کہ میں مولوی ہوں۔ ایک دن اس سے رہا نہ گیا تو اس نے مجھ سے پوچھا ’’مولبی جی‘‘ . . . . تم نے کیا جرم کیا کہ بندھ گئے؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’بھئی ہم تو تحریک خلافت میں سزایاب ہو کر آئے ہیں‘‘۔ قیدی کچھ نہ سمجھا۔ پھر میں نے ترک موالات، عدم تعاون، نامل ورتن اور خدا جانے کس کس لفظ اور اصطلاح کی مدد سے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن نتیجہ صفر۔ تنگ آ کر میں نے پوچھا … ’’گاندھی کو جانتے ہو؟‘‘ کہنے لگا ’’ہاں . . . . ہمارے گائوں میں ایک گاندھی ہے جو شادی بیاہ کے موقع پر عطر لگایا کرتا ہے (یعنی گندھی)۔ آخر میں نے عاجز آ کر کہا …’’ خلیفۃ المسلمین کو جانتے ہو؟‘‘ قیدی نے کچھ دیر سوچ کر پوچھا ’’وہ اک بارہ ہے کہ دوبارہ؟‘‘ (قارئین کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس زمانہ میں قیدیوں کی دو قسمیں ہوتی تھیں۔ ’’اک بارہ‘‘ CASUAL سادہ قیدی جو پہلی بار جیل میں آیا ہو جبکہ ’’دوبارہ‘‘ وہ HABITUAL قیدی جو ایک سے زیادہ بار جیل بھگت چکا ہو)۔ مولانا احمد سعید دہلوی نے ایک بار ساتھیوں کو شیخ الازہر کے حوالہ سے بتایا کہ ایک بار داڑھی پرگفتگو ہوئی تو شیخ نے فرمایا ’’ہندوستان میں لوگ اس قسم کے غیر اہم مسائل پر تضیعِ اوقات کیا کرتے ہیں حالانکہ اوضاع ظاہری کا معاملہ امور شرعیہ میں شامل نہیں۔ اگر کوئی مسلمان بہ نیت اتباع رسولؐ داڑھی رکھتا ہے تو اسے ثواب ہوگا لیکن اگرمنڈاتا ہے تو اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ میں خود داڑھی رکھتا ہوں اور ثواب کا متوقع ہوں۔ میرے رفقا نہیں رکھتے اور میں نہ انہیں گمراہ سمجھتا ہوں نہ مستوجب عذاب خیال کرتا ہوں‘‘۔

قارئین! آپ نے مولانا احمد سعید دہلوی کی تو ایک ہلکی سی جھلک دیکھ لی تو اب کیوں نہ شمس العلماء مولوی ممتاز علی کی بھی ایک جھلک دیکھ لیں۔ حضرت صرف عربی، فارسی، اردو پر ہی نہیں انگریزی زبان پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ مسائل نسواں پر مولوی صاحب کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ وہ بیوائوں کے نکاح ثانی اور پردے کے متعلق رضا مندی کو شرط قرار دیا کرتے تھے کہ بیوہ رضا مند ہو تو اس کا نکاح ثانی کیا جائے ورنہ نہیں اور اگر کوئی عورت پردہ نہ اٹھانا چاہے تو اسے اختیار ہے اور اگر ترک کرنا چاہے تب بھی اسے روکنا درست نہیں۔ وہ ’’آزادی نسواں‘‘ کی بجائے ’’حریت نسواں‘‘ کی اصطلاح کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ . . . ’’ آزادی کا لفظ غلط فہمی پیدا کرتا ہے جبکہ ’’حریت‘‘ ایک دینی اصطلاح ہے جس کا مقصود ہے بعض بنیادی حقوق جو دین نے عورت کو دیئے ہیں‘‘۔

مولوی صاحب نے حمایت نسواں میں ابتداً لوگوں کی گالیاں سنیں، لعنت ملامت اٹھائی لیکن پوری زندگی اس مظلوم طبقے کی حمایت میں بسر کردی جسے اسلام نے پورے حقوق عطا کئے تھے لیکن مسلمانان ہند نے اسے ’’پائوں کی جوتی‘‘ بنا رکھا تھا۔ مولوی صاحب نہایت روشن دماغ ماہر تعلیم بھی تھے چنانچہ سا لہا سال تک مسلم یونیورسٹی کورٹ اور پنجاب یونیورسٹی سینٹ کے ممبر بھی رہے۔

میں سوچ رہا ہوں کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے موجدوں میں سے کتنے فیصد ہوں گے یا ہوں گی جو شمس العلماء مولوی سید ممتاز علی اور ان کی کونٹری بیوشن سے واقف ہوں گی۔ نام کے لئے یوں تو صرف ’’تہذیب نسواں‘‘ ہی کافی ہے لیکن پھر وہی بات کہ

’’ہم سب ہی سب کچھ بھول چکے‘‘

ہمیں صرف مارچ، دھرنے، جلسے، جلوس ہی یاد رہ گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں