ہم لرن کیسے کریں؟

میرے ایک کولیگ ہیں‘ پڑھے لکھے‘ جہاں دیدہ اور گفتگو کے ماہر ہیں‘ ہزار خوبیوں کے مالک ہیں بس ایک سائیڈ سے پاکستانی ہیں اوریہ سائیڈ ہے قطعی رائے‘ یہ دنیا کے ہر ایشو پر حتمی رائے دیتے ہیں اور پھر اس پر صدق دل سے ڈٹ جاتے ہیں‘ یہ چند دن قبل فرمانے لگے پیٹرا میں پانی ختم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے لوگ وہاں سے نقل مکانی کر گئے۔

میں ان کی گفتگو سنتا رہا‘ وہ خاموش ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ پیٹرا گئے ہیں؟‘‘ فوراً بولے ’’نہیں گیا لیکن میں نے وڈیو دیکھی تھی جس میں یہ تمام باتیں بتائی گئی تھیں‘‘ میں نے ہنس کر عرض کیا ’’جناب میں چار مرتبہ پیٹرا جا چکا ہوں۔

پیٹرا کے قریب عین موسیٰ کے نام سے سوا تین ہزار سال پرانا چشمہ آج بھی بہہ رہا ہے اور شہر کے درمیان سے چھوٹا سا دریا بھی گزرتا ہے لہٰذا شاید وہاں پانی کا ایشو نہ ہو‘ یہ عین ممکن ہے کوئی وبا پھوٹ پڑی ہو یا پورا شہر کسی فوج کی نفرت کا نشانہ بن گیا ہو‘ مورخین ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے‘‘ میری عرض پر میرے کولیگ نے برا سا منہ بنایا اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔

میرے کولیگ اگر اکیلے ہوتے یا میں نے یہ رویہ پہلی باردیکھا ہوتا تو شاید میں برا محسوس کرتا لیکن ہم 22 کروڑ لوگ کیوں کہ ایسے ہی ہیں لہٰذا مجھے اب برا نہیں لگتا‘ ہم من حیث القوم ’’اوور موٹی ویٹڈ‘‘ لوگ ہیں‘ ہم اپنے تربوز کو دنیا کا سب سے میٹھا تربوز‘ اپنے حج کو مقبول حج‘ اپنی کرکٹ ٹیم کو دنیا کی سب سے بڑی ٹیم‘ اپنے ایٹم بم کو دنیا کا سب سے بڑا بم‘ اپنے بچے کو دنیا کا ذہین ترین بچہ‘ اپنی عقل کو ’’عقل کل‘‘ اپنی بہادری کو دنیا کی سب سے بڑی بہادری اور اپنے علم کو دنیا کا ’’کل علم‘‘ سمجھتے ہیں چناں چہ ہمیں اعتراض کرنے والا ہر شخص برا لگتا ہے۔

مجھے فیصل آباد کے ایک صاحب ملے‘ ان کا دعویٰ تھا ’’میں نے فیصل آباد میں ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال بنا دیا‘‘ میں نے ہنس کر عرض کیا ’’ لیکن سر ایشیا میں چین‘ انڈیا‘ جاپان‘ سنگا پور اور ترکی بھی شامل ہیں‘‘ وہ میری حجت پر ناراض ہو گئے‘ میں روز کسی نہ کسی ہائوسنگ سوسائٹی کا اشتہار بھی دیکھتا ہوں جس میں ایشیا کی سب سے بڑی ہائوسنگ سوسائٹی کا دعویٰ درج ہوتا ہے‘ دنیا کے سب سے بڑے حکیم اور روحانی بابے تو ہیں ہی صرف ہمارے پاس اور آپ کو ہر گلی‘ ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی ایسا سائنس دان بھی مل جاتا ہے جو کینسر‘ ہیپاٹائٹس سی اور ایڈز کا علاج دریافت فرما چکا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا میزائل اور سب سے بڑا ڈیم بھی ہمارے پاس ہی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی ویلفیئر اسٹیٹ بھی نبی رسالتؐ کے بعد ہم بنا رہے ہیں‘یہ کیا ہے؟ یہ دراصل اوور موٹی ویشن اور انتہائی جہالت ہے‘آپ اوور موٹی ویشن دیکھیں‘ ہم شروع دن سے بچوں کو سکھانے کے بجائے انھیں سوکھی تھپکی دینا شروع کر دیتے ہیں‘ ہم اسے ببر شیر اور چاند کا خطاب دیتے ہیں اور بچہ چاند اور شیر دیکھے بغیر خود کو یہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور یہ بھی جوان ہونے کے بعد اپنے کدو کو دنیا کا سب سے بڑا کدو‘ مینار پاکستان کو دنیا کا سب سے اونچا مینار اور اپنی عقل کو کل کائنات کی عقل ثابت کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔

قوم پہلے سے اوور موٹی ویشن کی شکار تھی اور رہی سہی کسر موٹی ویشنل اسپیکرز نے پوری کر دی‘ انھوں نے بھی ’’پتر تو کر سکتا ہے‘‘ ’’تم بھی کر سکتے ہو‘‘ اور ’’یہ عین ممکن ہے‘‘ کی تھپکی دے دے کر لوگوں کومزید ابنارمل بنا دیا‘ آپ یقین کریں قوم کو مزید ’’موٹی ویشن‘‘ نہیں چاہیے‘ اسے صرف علم چاہیے اور علم کے لیے لرننگ کی صلاحیت ضروری ہے تاکہ ہمارے ہوا میں لٹکے ہوئے پائوں زمین پر آجائیں ورنہ ہم اوپر لٹکے لٹکے ہی سوکھ جائیں گے۔

میں نے پچھلے کالمز (Keep Learning اور ’’ہم اپنے بچوں کے قاتل ہیں‘‘) لرننگ کی ضرورت پر تحریر کیے تھے‘ لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا ہم یا ہمارے بچے لرن کیسے کر سکتے ہیں؟یہ سوال اہم ہے‘ لرننگ کا فارمولا بہت آسان ہے‘ آپ سب سے پہلے 2022کو اپنے خاندان کے لیے ’’لرننگ ائیر‘‘ ڈکلیئر کر دیں اور اس کے بعد ہفتے کا ایک دن لرننگ کے لیے وقف کر دیں اور پہلے ہفتے اپنے خاندان کو بجلی کے دفتر لے کر جائیں اور ان سے درخواست کریں ہم آپ سے صرف بجلی کا سسٹم سمجھنا چاہتے ہیں۔

ڈیمز میں بجلی کیسے بنتی ہے‘ تھرمل پلانٹس‘ کول پلانٹس‘ سولر پلانٹس‘ ایل این جی پلانٹس اور ونڈ ملز بجلی کیسے بناتی ہیں‘ نیشنل گرڈ اور مین ٹرانسمیشن لائین کیا ہوتی ہے‘ اے سی اور ڈی سی (کرنٹس) کیا ہیں؟ ٹرانسفارمر کیا کرتے ہیں‘ بجلی کی لائنیں کیسے بچھائی جاتی ہیں‘ میٹر ریڈنگ کیسے کی جاتی ہے‘ بل کیسے بنتے ہیں اور گھروں میں تاریں اور بجلی کے آلات کون سے استعمال کرنے چاہییں؟

آپ اگلے ہفتے بچوں کو پولیس اسٹیشن لے جائیں اور پولیس آفیسر سے پولیس کا اسٹرکچر پوچھیں‘ کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک پولیس کا کیا کام ہوتا ہے‘ ایف آئی آر کیا ہے‘ تفتیش کیا ہوتی ہے‘ چالان‘ ریمانڈ اور فرانزک ٹیسٹ کیا ہوتے ہیں‘ موقع واردات یا کرائم سین کیا ہے‘ ضمنی کس کو کہتے ہیں‘ روزنامچہ کیا ہوتا ہے‘ عوام کے حقوق کیا ہیں اور پولیس قانونی طور پر کیا کیا کرسکتی ہے؟

آپ اس کے بعد اگلے ہفتے بچوں کو اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر لے جائیں اور بچوں کو تحصیل اور ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مال کے بارے میں بریفنگ دلائیں‘ پٹواری‘ قانون گو‘ گرداور‘ تحصیل دار اور اے سی کے بارے میں معلومات لیں‘ زمین کی پیمائش کیسے ہوتی ہے‘ دیہی اور شہری زمین میں کیا فرق ہوتا ہے‘ فرد اور قلندرا کیا ہوتا ہے‘ زمین ٹرانسفر کیسے ہوتی ہے‘ مرلہ‘ کنال اور ایکڑ کیا ہوتا ہے‘ ٹرانسفر فیس کہاں اور کیسے جمع ہوتی ہے اور تحصیل‘ ضلعی اور ڈویژن آفیسرز کے کیا کام ہوتے ہیں؟

اگلے ہفتے اپنے بچوں کو عدالت لے جائیں اور انھیں سکھائیں اہلمد کیا ہوتا ہے‘ ہرکارا کس کو کہتے ہیں‘ مجسٹریٹ (درجہ اول‘ دوم اور سوم)‘ سول جج‘ سینئر سول جج‘ ایڈیشنل سیشن جج اور سیشن جج کیا ہوتا ہے اور ان کے اختیارات کیا ہوتے ہیں‘ رجسٹرار کس کو کہتے ہیں‘ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا کیا کام ہے‘ ضمانت کیسے ہوتی ہے اور ضمانت کے بعد ملزم کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں‘ ججوں کی پروموشن کیسے ہوتی ہے‘ وکیل کیا کیا کر سکتے ہیں‘ بار ایسوسی ایشنز کیا ہیں اور ان کے کام کیا ہیں‘ سرکاری وکیل‘ ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل کیا ہوتے ہیں اور قانون اور آئین میں کیا فرق ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کا اس میں کیا عمل دخل ہوتا ہے؟

آپ اس کے بعد ہر ہفتے بچوں کو محکمہ صحت‘ محکمہ تعلیم‘گیس کے محکمے‘ ہائی وے ڈیپارٹمنٹ‘ میونسپل کمیٹی یا کارپوریشن ‘ ریلوے‘ فائر بریگیڈ ‘ ڈبل ون ڈبل ٹو‘ محکمہ نہر اور سینٹری ورکس (صفائی) کی بریفنگ بھی کر ائیں‘ یہ تمام وزٹس ہو جائیں تو آپ پھر اپنے خاندان کو صوبائی سیکریٹریٹ اور فیڈرل سیکریٹریٹ کا دورہ بھی کرائیں اور صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی دکھائیں‘ آپ انھیں چیف منسٹر ہائوس اور آفس بھی دکھائیں اور ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس بھی لے کر جائیں‘ آپ کے خاندان کا نالج بیس ہزار گنا بڑا ہو جائے گا۔

مجھے یقین ہے آپ اب تین سوال پوچھیں گے‘ ان وزٹس کا فائدہ کیا ہو گا‘ کیا یہ تمام محکمے ہمیں ٹائم اور بریفنگ دے دیں گے اور ہمیں ایوان صدر‘ وزیراعظم ہائوس اور پارلیمنٹ میں کون گھسنے دے گا؟ یہ تینوں سوال جائزہیں‘ پہلے سوال کا جواب ہے پاکستان کے ننانوے فیصدلوگ سرکاری محکموں کے کام سے واقف نہیں ہیں لہٰذا آپ اور آپ کی فیملی ان وزٹس کے بعد محکموں کے بارے میں بھی جان جائے گی اور یہ معلومات حاصل کرنے اور چیزوں کی ’’ویری فکیشن‘‘ کا طریقہ بھی سیکھ جائے گی۔

دوسرا جواب دنیا کا ہر محکمہ عوام کو بتانے اور بریفنگز کا پابند ہے‘ ہم نے کبھی ان سے پوچھا ہی نہیں‘ آپ ان سے ایک بار رابطہ تو کر کے دیکھیں‘ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے یہ مدتوں سے آپ کا انتظار کر رہے تھے‘ آپ بلاوجہ شرماتے رہے اور ایوان صدر ہو‘ وزیراعظم ہائوس ہو یا پارلیمنٹ ہائوس ہو عوام کسی بھی وقت انھیں وزٹ کر سکتے ہیں‘ آپ ان اداروں کے پبلک ریلیشنز آفس سے رابطہ کریں‘یہ آپ کو ان شاء اللہ ضرور ویل کم کریں گے۔

میرا تعلیمی اداروں اور صحافت کے طالب علموں کو بھی مشورہ ہے آپ بھی ان محکموں کی وزٹ کریں اور اپنے طالب علموں کو بھی کرائیں تاکہ ان کے پاس کم از کم بیسک نالج تو ہواور سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے کارکنوں‘ ایم پی ایز اور ایم این ایز کو سرکاری محکموں اور سفارت خانوں کی وزٹ اور بریفنگ کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ ان کا نالج بھی سالڈ ہو سکے اور یہ حکومت میں آ کر حماقتیں نہ کریں اور آخری درخواست آپ جب بھی کسی ریستوران‘ ہوٹل‘ کافی شاپ ‘ بس ٹرمینل یا پٹرول پمپ پر جائیں توآپ ان کے سسٹم کوضرور وزٹ کر لیا کریں‘ اس سے بھی آپ کی لرننگ ہو گی اور یہ علم حاصل کرنے کا آسان اور تیز ترین فارمولا ہے۔

آپ اس فارمولے کے ذریعے لرن بھی کر سکیں گے اور آپ کو لرننگ کی عادت بھی پڑ جائے گی اور آپ کو اگر یہ عادت پڑ گئی تو آپ پھر کم از کم اپنے کدو اور اسپتال کو دنیا کا سب سے بڑا کدو یا اسپتال نہیں کہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں