مار دو جلا دو

مشتاق احمد میاں چنوں کے گاؤں چک 12 کا رہنے والا تھا‘ فٹ بالر تھا‘ فٹ بال کھیلتے کھیلتے جوان ہوا‘ شادی ہوئی‘ میچ کے دوران سر پر فٹ بال لگا اور اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا۔

علاج شروع ہوا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دماغی عارضہ بڑھتا چلا گیا اس دوران اس کے تین بچے بھی پیدا ہو گئے‘ بیوی خاوند کی طویل بیماری اور بے روزگاری کی وجہ سے تنگ آ کر میکے چلی گئی، بچے بھی ساتھ لے گئی۔

اس جذباتی صدمے نے مشتاق احمد کو مزید بیمار کر دیا‘ اس کا بھائی کراچی میں کام کرتا تھا‘ وہ اسے کراچی لے گیا‘ وہاں بھی اس کا علاج جاری رہا لیکن امپروومنٹ کی کوئی امید نظر نہیں آئی‘ مشتاق احمد فروری کے شروع میں کراچی سے گاؤں آ گیا‘ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتا تھا اور مختلف دیہات میں بھیک مانگتا رہتا تھا‘ گھر والے اور عزیز رشتے دار سارا دن اسے تلاش کرتے رہتے تھے‘ وہ انھیں جہاں سے ملتا تھا وہ اسے واپس لے آتے تھے۔

وہ ہفتہ 12فروری کی صبح بھی گھر سے نکلا اور اپنی ہمشیرہ سے ملنے کے لیے دوسرے گاؤں چلا گیا‘ وہ گھومتا پھرتا ہوا 17 موڑ پہنچ گیا‘ سارا دن گلیوں میں بھیک مانگتا رہا اور سہ پہر کے وقت مسجد شاہ مقیم میں گھس گیا‘ اس دن بارش ہوئی تھی‘ ماحول میں خنکی تھی‘ مشتاق احمد مسجد میں کیا کر رہا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا‘ محلے کے دو نوجوان مسجد کے قریب سے گزرے تو انھیں مسجد کے اندر دھواں نظر آیا‘ یہ دوڑ کر اندر داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا ایک مجہول فقیر قسم کا شخص مسجد میں آگ جلا کر بیٹھا ہے۔

ان دونوں نے اسے پکڑا اور مارنا شروع کر دیا‘ لوگ اکٹھے ہونے لگے‘ یہ دونوں اسے مارتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے اس نے قرآن مجید اور مسجد کی بے حرمتی کی‘ لوگ بھی یہ سن کر مارا ماری کے اس کھیل میں شامل ہو گئے‘ شور بڑھتا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا‘ یہ مسجد علاقے کے ایک متمول شخص محمد رمضان نے بنوائی تھی۔

اس کا متولی اور امام بھی یہی تھا‘ یہ اس وقت تھانے میں پنچایت میں بیٹھا تھا‘ کسی نے آ کر اسے اطلاع دی آپ کی مسجد میں آگ لگ گئی ہے‘ وہ فوری طور پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ مسجد کی طرف دوڑ پڑا‘ وہ لوگ وہاں پہنچے تو وہاں منظر ہی کچھ اور تھا‘ لوگ مشتاق احمد کو بری طرح پیٹ رہے تھے‘ پولیس نے اسے چھڑایا اور اس کی جان بچانے کے لیے اسے مسجد میں بند کر دیا لیکن اس دوران دو اڑھائی سو لوگ جمع ہو گئے‘ وہ سب بپھرے ہوئے تھے۔

انھوں نے پولیس پر بھی حملہ کر دیا‘ پولیس پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی‘ ہجوم نے اس کے بعد مسجد میں پناہ گزین مشتاق احمد کو گھسیٹ کر باہر نکالا‘ درخت کے ساتھ باندھا اور اسے اینٹیں اور پتھر مارنا شروع کر دیے‘ آپ خود سوچیے جب دو اڑھائی سو لوگ کسی بندھے ہوئے شخص پر سنگ باری کریں گے تو اس کا کیا حال ہو گا؟

مشتاق احمد چیختا‘ چلاتا اور خدا کے واسطے دیتا رہا لیکن ہجوم اس ذہنی مریض سے توہین مذہب کا بدلہ لیتا رہا یہاں تک کہ وہ چند لمحوں میں ٹوٹی ہوئی ہڈیوں اور کچلے ہوئے مسلز کا مغلوبہ بن کر رہ گیا‘ ہجوم نے مرنے کے بعد اس کی لاش اٹھائی اور درخت کے ساتھ لٹکا دی‘لاش گھنٹوں درخت کے ساتھ لٹکی رہی‘ اس دوران کوئی شخص اس کی’’گستاخ‘‘ انگلیاں بھی کاٹ کر لے گیا۔

یہ واقعہ اتوار 13فروری کو وائرل ہوا اور ڈرے سہمے معاشرے میں مزید ہراس پھیل گیا‘ حکومت ایکٹو ہوئی‘ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا اور پولیس نے دوڑنا بھاگنا شروع کر دیا‘ 102 ملزم گرفتار ہو گئے جن میں سے 21 کو مرکزی ملزم قرار دے دیا گیا‘ پولیس اب یقیناً تفتیش بھی کرے گی‘ فرانزک ٹیسٹ بھی ہوں گے۔

آڈیو اور ویڈیوز کے معائنے بھی ہوں گے اور ملزموں کے اعترافی بیان بھی لیے جائیں گے اور پھر سانحہ سیالکوٹ کی طرح یہ واقعہ بھی عدالتوں کی کارروائیوں کا حصہ بن کر ہمارے اجتماعی حافظے سے محو ہو جائے گا۔

اس دوران اگر پولیس کی تفتیش اور شواہد تگڑے ہوئے تو شاید دو چار ملزموں کو پھانسی اور آٹھ دس کو عمر قید بھی ہو جائے لیکن مجھے یقین ہے ریاست‘ حکومت اور معاشرہ ان واقعات کا تجزیہ کرے گا اور نہ یہ عوامی انصاف کے اس بڑھتے ہوئے ٹرینڈ کے خلاف کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائے گا اور یہ اس ملک کا اصل المیہ ہے بلکہ رکیے یہ المیوں کی ماں ہے۔

ہم نے آج تک ملک میں تجزیے اور ٹھوس حل کا کوئی میکنزم نہیں بنایا چناں چہ گلی اور نالی سے لے کر جمہوریت تک یہ ملک ایک دلدل بن چکا ہے اور ہم اس دلدل میں دھنستے اور پھنستے چلے جا رہے ہیں‘ آپ ریاست کو چھوڑ دیجیے اس پر ملازمت پیشہ لوگوں کا غلبہ ہے اور ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد ہے اچھی پوسٹنگ اور ریٹائرمنٹ سے پہلے ایکسٹینشن اور بس۔ آپ حکومت کو بھی چھوڑ دیجیے یہ آج تک اپنی زبان پر قابو نہیں پا سکی‘ یہ ملک کو کیا سنبھالے گی اور آپ معاشرے کو بھی چھوڑ دیجیے۔

اس ملک کے عام لوگ آلو پیاز‘ چینی‘ آٹے اور دال کی دوڑ ہی سے باہر نہیں آپا رہے یہ معاشرتی بنیادیں خاک مضبوط کریں گے‘ میرا سوال اس ملک کے دانشوروں اورمذہبی اسکالرز سے ہے‘ یہ لوگ کہاں ہیں؟ یہ آج تک عوام کو اصل اسلام کیوں نہیں بتا سکے؟

ہمارا گلہ ان سے ہے‘ یہ جواب دیں یہ آج تک مذہب اور توہین مذہب کا کوئی ٹھوس فارمولہ کیوں نہیں بنا سکے اور یہ ریاست کو اس دائرے میں کیوں نہیں لا سکے؟ دنیا پاگل پن‘ ڈپریشن اور جذبات میں قتل کو بھی قتل نہیں سمجھتی جب کہ ہم ذہنی مریض کو مسجد سے گھسیٹ کر پتھر مار مار کر مار دیتے ہیں اور خود کو اﷲ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ کے امتی بھی کہتے ہیں۔

کیا ہجوم میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جو لوگوں کو ٹھنڈا کر سکتا‘ جو ملزم کی دماغی حالت کا اندازہ کر سکتا؟ نہیں تھا اور اگر تھا بھی تو اس نے خاموش رہ کر اپنی جان بچانے کا فیصلہ کیا ہوگا‘ کیوں؟ کیوں کہ جس ملک میں مسلک مذہب سے بڑا ہو چکا ہو اور جس میں آپ اپنے نام کی وجہ سے کافر اور مسلمان سمجھے جاتے ہوں اور جس میں آپ کو کوئی بھی شخص مسلک اور فرقے کی بنیاد پر قتل کر سکتا ہو یا آپ جھنگ یا ہزارہ کی وجہ سے جانے اور پہچانے جاتے ہوں اور آپ کوبس روک کر آپ کا شناختی کارڈ چیک کر کے گولی ماری جا سکتی ہو یا آپ کے قتل کے لیے آپ کو قادیانی یا بہائی کہہ دینا کافی ہو یا پھر آپ کو دیکھ کر کوئی بھی اجنبی شخص اونچی آواز میں یہ کہہ دے ’’وہ دیکھو وہ … کا گستاخ جا رہا ہے‘‘ اور لوگ سوچے سمجھے بغیر آپ پر پل پڑیں اور آپ کی لاش بعدازاں درخت سے لٹکی نظر آئے اس ماحول اور اس فضا میں کون ہو گا جو آگے بڑھے گا اور مشتاق احمد کی لاش درخت سے اتارنے کا رسک لے گا‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے۔

ہمیں ماننا ہوگاہم معاشرہ نہیں ہیں‘ ہم درندوں کا غول ہیں‘ ہم سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور ہمیں اس کے لیے اب کسی مضبوط جواز کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بس کسی جگہ سے دھواں نکلنے اور ’’قرآن جلا دیا‘ قرآن جلا دیا‘‘ کی آواز آنا کافی ہوتی ہے اور ہم سامنے کھڑے شخص کو اینٹوں‘ پتھروں اور ڈنڈوں سے قیمہ بنا دیتے ہیں۔

ہمیں ماننا ہوگا ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں منبر رسولؐ سے ایک دوسرے کو کافر بھی ثابت کیا جاتا ہے اور نفرت بھی پھیلائی جاتی ہے اور کوئی ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ کیا ملک ایسے ہوتے ہیں؟ کیا ریاستیں اس طرح چلتی ہیں اور کیا انسانی معاشرے اس قسم کے ہوتے ہیں؟ آپ یقین کریں لوگ اب اس قدر خوف زدہ ہو گئے ہیں کہ یہ دوسروں کے سامنے نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت سے گھبراتے ہیں‘ یہ پہلے دوسروں کے نام اور عقیدے پوچھتے ہیں اور پھر سلام کا جواب دیتے ہیں۔

مسجدوں کے اندر بھی نمازی ایک دوسرے سے ڈرتے رہتے ہیں‘ ملک میں آج بھی علامہ اقبال اور قائداعظم کے مسلک کے بارے میں سوال اٹھائے اور گرائے جاتے ہیں‘ قائداعظم کی مرحومہ بیگم اور صاحب زادی کے مذہب کے بارے میں بھی سوال کیا اور جواب تلاش کیا جاتا ہے‘پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جائے تو ہم اسے ’’یہودیوں کی سازش‘‘ قرار دے دیتے ہیں لہٰذا آپ پھر خود فیصلہ کیجیے‘ ملک میں جب یہ حالات ہوں گے۔

لوگوں نے جب صحابہ کرامؓ تک آپس میں تقسیم کر لیے ہوں گے‘ ایک فرقہ ایک صحابیؓ کا دن منا رہا ہے اور دوسرا مسلک دوسرے صحابہؓ کا وارث بن بیٹھا ہے تو پھر لوگوں کو مسجدوں سے گھسیٹ کر قتل نہیں کیا جائے گا تو کیا کیا جائے گا؟ ہم یہ سمجھنے اور ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں مذہب بندے اور خدا کے درمیان پرائیویٹ ریلیشن شپ ہوتا ہے اور دنیا کے کسی شخص کو اس ریلیشن شپ میں کودنے کا اختیار نہیں ہوتا‘ ہمیں اﷲ تعالیٰ کی ٹھیکے داری کس نے الاٹ کی ہے؟ لہٰذا خدا کے لیے خدا کے نام پر لوگوں کو مارنا بند کر دیں۔

مذہب تو کیاحیوانیت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی‘ آپ یقین کریں یہ کھیل اگر یہاں نہ رکا تووہ وقت دور نہیں جب لوگ مسجدوں کے قریب سے بھی گزرتے ہوئے ڈریں گے اور ہم میں سے کوئی بھی شخص شیو بڑھا کر کسی کو بھی قتل کر دے گا‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں؟ اگر ریاست نہیں جاگتی تو معاشرہ ہی جاگ جائے اور اگر اس کی نیند نہیں ٹوٹ رہی تو علماء کرام ہی اٹھ کھڑے ہوں۔

کیا ان میں بھی حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی جرات نہیں‘ کیا یہ بھی لوگوں کے پتھروں سے خوف زدہ ہیں؟ہمیں یہ سمجھنا ہوگا اﷲ کے نام پر بننے والا ملک اب اﷲ کے نام پر ہی ٹوٹ رہا ہے اور امن کے داعی مذہب کے نام پر اس ملک میں وحشت پھیلائی جا رہی ہے اور ہم نے اگر اسے نہ روکا تو اس وحشت کے اگلے شکار ہم ہوں گے‘ کوئی بھی شخص اخبار کا کاغذ جلا کر ہمارے خلاف پورا شہر اکٹھا کر لے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں