پولیس میڈیکل کور

’’فوج ملک کا مضبوط ترین ادارہ ہے‘ یہ اسپتال بھی بنا سکتا ہے‘ اسکول‘ یونیورسٹیاں اور ہاؤسنگ اسکیمیں بھی‘ پولیس کے پاس تو یونیفارم اور اسٹیشنری کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے‘ ہم مانگ تانگ کر گاڑیوں میں پٹرول ڈلواتے ہیں۔

ہماری رائفلیں اور آنسو گیس کے شیل تک ایکسپائرڈ ہوتے ہیں لہٰذا ہم ملک میں اچھے اور معیاری اسپتال کیسے بنائیں گے اور ہم نے اگر بنا بھی لیے تو ہم ڈاکٹرز اور نرسیں کہاں سے لائیں گے؟‘‘ مجھے وہ آواز سے ناراض لگ رہے تھے‘ وہ پولیس افسر تھے اور انھیں میرا پولیس اسپتال کا آئیڈیا پسند نہیں آیا تھا‘ ان کا کہنا تھا ’’پولیس غریب اور مظلوم ہے۔

اسے عوام سے بھی مار پڑتی ہے اور حکومت سے بھی‘ ہمیں اگر ملک کے دفاعی اداروں کے بجٹ کا دس فیصد بھی دے دیا جائے تو ہم ملک کو اندر سے محفوظ اور پرامن بنا دیں گے لیکن ہمیں گالیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا‘‘ میں نے ہنس کر عرض کیا ’’ملک صاحب آپ کی بات درست ہو گی لیکن آپ کے سوال کے اندر ہی جواب موجود ہے۔

یہ درست ہے فوج نے اسپتال بھی بنائے‘ تعلیمی ادارے بھی‘ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی اور اس نے فیکٹریاں بھی لگائیں اور تیل اور گیس کی تلاش کی کمپنیاں بھی بنائیں‘ ہم کہہ سکتے ہیں یہ طاقتور ادارہ ہے‘ اس کے پاس کھربوں روپے کا بجٹ بھی ہے اور یہ سب اس بجٹ اور اس طاقت کا نتیجہ ہے لیکن ہم اگر باقاعدہ ریسرچ کے بعد ڈیٹا جمع کر کے تجزیہ کریں تو بات بالکل مختلف نکلے گی‘ فوج میں انگریز کے دور سے میڈیکل‘ ایجوکیشن اور انجینئرنگ تین کورز موجود ہیں۔

فوج ملک سے چن چن کر ٹاپ کے انجینئرز‘ ٹیچرز اور ڈاکٹرزکو ان کورز میں شامل کر لیتی ہے اور یہ کمال کر دیتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے فوج کو اعلیٰ درجے کے لوگ کہاں سے مل جاتے ہیں؟فوج دراصل ان لوگوں کو کمیشنڈ آفیسر کی حیثیت سے ادارے میں شامل کرا دیتی ہے لہٰذا ملک کے زیادہ تر ماہر استاد‘ ڈاکٹرز اور انجینئرز سول کے بجائے فوج میں شامل ہونا پسند کرتے ہیں۔

کیوں؟ کیوں کہ فوج انھیں ڈائریکٹ کیپٹن کا رینک دے دیتی ہے اور ان کی پروموشن بھی جلدی ہو جاتی ہے اور انھیں سہولتیں بھی زیادہ ملتی ہیں لہٰذا یہ سول گورنمنٹ کی بجائے آرمڈ سروسز کو فوقیت دیتے ہیں‘ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارآرمی میڈیکل کورکی خاتون ڈاکٹر نگار جوہر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک بھی پہنچ گئی ہیں‘سر یہ ادارے اور یہ ماڈل بھی پاکستانی ہیں‘ آپ ان ماڈلز کو کاپی کیوں نہیں کرتے؟ آپ کو کس نے روکا ہے‘‘ وہ ہنسے اور ہماری بات چیت ختم ہو گئی۔

پاک فوج بھی پاکستانی ادارہ ہے‘اس میں بھی ہمارے بیٹے بھائی کام کرتے ہیں اور اگر یہ ادارہ پاکستانی ہو کر کوئی سسٹم بنا اور چلا رہا ہے تو ملک کے باقی ادارے بھی سسٹم بنا اور چلا سکتے ہیں‘ ہم نے بس کھلے دل کے ساتھ فوجی سسٹم کا مطالعہ کرنا ہے اور پھر اسے اڈاپٹ کر لینا ہے‘ ہم بھی ٹریک پر آ جائیں گے مثلاً آپ پولیس اسپتال کے ایشو ہی کو لے لیجیے‘ پولیس اگر ادارے کے اندر اسپیشل برانچ‘ سی ٹی ڈی‘ ڈالفن فورس اور ٹریفک پولیس جیسے سیمی انسٹی ٹیوٹ بنا سکتی ہے تو یہ پولیس میڈیکل کور اور پولیس انجینئرنگ کور کیوں نہیں بناتی؟ آپ میڈیکل کور اور انجینئرنگ کور بنائیں اور ڈاکٹرز اور انجینئرز کو ڈائریکٹ اے ایس پی کا رینک دے کر بھرتی کر لیں۔

میڈیکل کالجز کے پرنسپلز اور پروفیسرز تک لائین میں کھڑے ہو کر پولیس میں بھرتی ہو جائیں گے‘ ملک کی انجینئرنگ کریم بھی پولیس میں آ جائے گی‘آپ اپنے زمینی حقائق کو ذہن میں رکھیں‘ پاکستان کے 22 کروڑ لوگ تھانے داربننا چاہتے ہیں‘ فوج طاقتور ادارہ ہے لیکن فوجی افسر بھی پولیس میں آنے کے لیے زور لگاتے رہتے ہیں۔

آدھے سے زائد کیپٹن اور میجر ایس پی اور ایس ایس پی بننا چاہتے ہیں اگر یہ پولیس میں آنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹرز اور انجینئرز کیوں نہیں آئیں گے؟یقین کریں لائن لگ جائے گی‘ پولیس کے پاس جگہ کا بھی کوئی ایشو نہیں‘ ہر شہر‘ ہر تحصیل اور ہر ضلع میں پولیس کے پاس ایکڑوں کے حساب سے زمینیں موجود ہیں‘ آپ وہاں اسپتال شروع کر دیں‘ فنڈ حکومت سے لیں‘ حکومت نہ دے تو آپ اپنے ریزرو فنڈ سے رقم نکال کر اسپتال بنائیں اور منافع کا ایک حصہ پولیس کے پینشنرز اورملازمین کو دیتے رہیں اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو آپ کمپنی بنائیں۔

اس کا اسٹاک لانچ کریں‘ عوام سے رقم اکٹھی کریں اور اسپتال بنا لیں‘ پولیس کے اسپتالوں میں پولیس کے افسروں اور جوانوں کا علاج فری کریں اور عوام کو چارج کریں‘ اسپتال بھی چل پڑیں گے‘ عوام کو بھی فائدہ ہو گا اور پولیس فورس کا علاج بھی ہوتا رہے گا‘ پولیس اسی طرح ہر صوبے میں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی بھی بنا سکتی ہے۔

اس سے انھیں نیا ٹیلنٹ بھی ملے گا اور ریونیو بھی‘ پولیس کی انجینئرنگ کور آگے چل کر سڑکیں بھی بنا سکتی ہے اور ان کی مینٹیننس کے ٹھیکے بھی لے سکتی ہے‘ یہ بے شک گیس اور تیل کی ڈرلنگ نہ کرے لیکن یہ گیس کی سروسز کے شعبے میں تو آ سکتی ہے مگر پولیس کا المیہ یہ ہے یہ یونیفارم اور جوتے تک مارکیٹ سے خریدتی ہے‘یہ اگر چاہتی تو یہ کم از کم دو تین شو فیکٹریاں‘ تین چار کاٹن ملز اور رائفلیں بنانے کے دو تین کارخانے لگا سکتی تھی۔

اس میں کیا حرج تھا؟ ملک میں پانچ ساڑھے پانچ لاکھ پولیس فورس ہے اور یہ لوگ اکیلے نہیں ہیں‘ یہ پانچ ساڑھے پانچ لاکھ خاندان ہیں‘ اگر ایک خاندان میں پانچ افراد ہوں تو یہ 25لاکھ لوگ بنتے ہیں اور یہ تعداد کم نہیں ہوتی‘ یورپ میں13ملکوں کی آبادی اس سے کم ہے اور یہ سب لوگ خریدار ہیں‘ پولیس اپنے خاندانوں کے لیے کم از کم فروٹ اینڈ ویجی ٹیبلز منڈیاں ہی بنا لیتی۔

آپ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے کپڑوں اور جوتوں کی فیکٹریاں ہی لگا لیتے‘ آپ پولیس ملازمین کے بچوں کے لیے اسکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں ہی بنا لیتے اور آپ اسپتال اور انجینئرنگ کمپنیاں ہی بنا لیتے تو آج پولیس فورس کا مورال‘ ریونیو اور امیج کہاں ہوتا؟ اسلام آباد میں پولیس فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ہاؤسنگ اسکیم بنی تھی‘ اس کے پاس پرائم لوکیشن تھی لیکن فاؤنڈیشن کرپشن کی نذر ہو گئی‘ دائیں بائیں موجود ہاؤسنگ سوسائٹیاں دس گنا ہو گئیں‘لوگ پولیس فاؤنڈیشن کے پلاٹ بیچ بیچ کر کھرب پتی ہو گئے لیکن فاؤنڈیشن کا بیڑہ غرق ہو گیا‘ آج بھی پولیس فاؤنڈیشن کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور گٹڑ ابل رہے ہیں‘ آپ اسے ڈی ایچ اے بنا سکتے تھے‘ آپ کو کس نے روکا تھا؟

ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ حسد اور منفی سوچ ہے‘ ہم خود آگے بڑھنا نہیں چاہتے اور دوسروں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے لہٰذا پورا ملک جام ہو کر رہ گیا ہے‘ پاکستان میں مارکیٹ ہی مارکیٹ اور روزگار کے ذرائع ہی ذرائع ہیں‘ ہم نے تو ابھی تک صاف ستھری سبزیوں‘ گوشت اور دودھ کا بھی بندوبست نہیں کیا‘ آپ ملک کی کسی سبزی منڈی میں چلے جائیں آپ کو ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس جانے والے ٹماٹر اور پیاز بھی نالے کے کنارے پڑے ملیں گے جب کہ فروٹ کیچڑ کے اندر دھنسا ہوگا۔

آپ انھیں دیکھیں اور پھر خود سے سوال کریں کیا یہ بزنس اپارچیونٹی نہیں؟ پولیس اگر صرف یہ مارکیٹ ہی اٹھا لے‘ یہ پورے ملک میں فروٹ اور ویجی ٹیبلز کی مارکیٹیں بنا دے تو یہ ایک مہینے میں بلین ڈالر کمپنی کھڑی کر سکتی ہے‘ ہم دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہیں‘ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا دودھ کا دنیا کا سب سے بڑا پلانٹ پاکستان میں ہے لیکن آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کیا اس ملک میں صدر اور وزیراعظم کو بھی خالص دودھ ملتا ہے؟ جواب اگر ناں ہے تو پھر بتائیے کیا یہ مارکیٹ نہیں ؟ پولیس کا ویلفیئر ٹرسٹ دودھ کی مارکیٹ میں کیوں نہیں آتا؟ یہ دودھ کے فارمز بنائے۔۔

دودھ کا برینڈ لانچ کرے اور سپلائی شروع کردے‘پولیس حکومت کی امداد سے آزاد ہو جائے گی اور ملک کے ہر شہر میں بسوں اور ویگنوں کے اڈے ہیں‘ پولیس سارا دن وہاں سے ٹریفک ہٹاتی رہتی ہے لیکن اس کے باوجود گاڑیاں پھنسی رہتی ہیں‘ پولیس کمپنیاں بنا کر یہ اڈے کیوں نہیں لے لیتی؟ اس سے ٹریفک کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور مسافروں کو بھی سہولت ہوگی۔

مجھے یقین ہے پولیس کی قیادت اب یہ سوال کرے گی ہم اس کے لیے ملازم کہاں سے لائیں گے؟ جناب آپ اپنے زخمی اور ریٹائرڈ ملازمین کو ان اداروں میں کھپائیں‘ آپ ملازمین کے بچوں کو ان کمپنیوں میں بھرتی کریں اور آپ عوام سے براہ راست بھرتیاں کریں‘ انھیں اے ایس آئی‘ انسپکٹر‘ اے ایس پی اور ایس پی کے رینکس دیں‘ ملک کے تمام ماہر اور پڑھے لکھے لوگ پولیس کے دفتروں میں ہوں گے‘ اس سے ملک میں ملازمتوں کے نئے ذرائع بھی پیدا ہوں گے۔

پولیس کا ریونیو بھی بڑھے گا اورپولیس کا امیج بھی اچھا ہو جائے گا لیکن یہ بہرحال کرنے کی باتیں ہیں اور آپ اگر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے تو پھر آپ کے ملازمین اسی طرح امداد بھری نظروں سے دوسروں کی طرف دیکھتے رہیں گے‘ پولیس اہلکاروں کی بیوائیں عرضیاں اٹھا اٹھا کر افسروں کے دفتروں کے سامنے بیٹھی رہیں گی اور افسر شرمندگی سے ان سے آنکھیں نہیں ملا سکیں گے۔

پاکستانی پولیس واقعی مظلوم ہے‘ یہ بیک وقت غربت‘ نفرت اور حکومتی عدم توجہ کا شکار ہے لیکن سوال یہ ہے اسے اس گرداب سے کون نکالے گا؟ پولیس کو صرف اور صرف پولیس ہی ٹھیک کر سکتی ہے لہٰذا پولیس قیادت کو سامنے آنا ہوگا‘ یہ وزراء اعلیٰ کو خوش کرنے کی بجائے اپنی فورس پر توجہ دے‘ وزراء اعلیٰ اور پوری قوم خود بخود خوش ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں