شمسی سیل کا گرد و غبار برقِ سکونی سے دور کرنے میں کامیابی

بوسٹن: ریگستانوں اور میدانوں میں لگے شمسی سیل کے بڑے پینلوں پر گرد کی غیرمعمولی مقدار کو صاف کرنا بسا اوقات صحرا میں جھاڑو لگانے کی طرح مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اب برقِ سکونی (اسٹیٹک الیکٹرسٹی) سے گرد جمع ہونے کو روکا جاسکتا ہے جس سے سالانہ 45 ارب لیٹر پانی کی بچت ممکن ہوگی۔

دنیا کے بڑے شمسی فارم ریگستان اور بنجر خطوں میں ہی بنائے جاتے ہیں ۔ یہاں روزانہ کے حساب سے ٹنوں شمسی سیلوں پر جمع ہوکر ان کی بجلی بنانے کی کارکردگی خراب کرتی رہتی ہے۔ اگر ایک ماہ تک شمسی سیل سے مٹی صاف نہ کی جائے تو کارکردگی 40 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔

اس کے لئے سولرپینل پر صاف پانی کی بڑی مقدار انڈیلی جاتی ہے اور پوری دنیا میں سالانہ اربوں لیٹر پانی صرف اس کام پر ضائع کیا جاتا ہے جو بصورتِ دیگرلاکھوں افراد کے کام آسکتا ہے۔ اب میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر کریپا ویراناسی نے اس کا ایک عملی حل فراہم کیا ہے۔ گردوغبار سے بجلی نہیں گزرسکتی لیکن ہوا میں نمی سے مٹی اور دھول سولر پینل پر گرکر جمع ہوتی رہتی ہے۔ ڈاکٹر کریپا کے مطابق اگر زنک آکسائیڈ اور المونیئم کی صرف پانچ نینومیٹر کی شفاف پرت شمسی سیل پر چڑھائی جائے اور اس میں برق گزاری جائے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد اگر ذرا بلندی پر ایک دھاتی پلیٹ لگا کر اس میں 12 کلوواٹ بجلی گزاری جائے تو تو دونوں پرتیں برقیروں (الیکٹروڈ) بن جاتی ہیں اور اس طرح شمسی پینل اور خود مٹی کے ذرات پر مثبت چارج آجاتا ہے۔ اس یوں ریت کے ذرات ایک دوسرے کو دھکیلنے لگتے ہیں اور مٹی بکھرنے لگتی ہے۔

اب جیسے ہی ہوا میں نمی 30 فیصد تک پہنچی تو ریت کے ذرات ایک دوسرے سے ایسے دور ہوئے کہ سولر پینل کی 95 فیصد صلاحیت دوبارہ بحال ہوگئی ۔ اچھی بات یہ ہے کہ گرم اور خشک ترین ریگستان میں بھی ہوا کی نمی اوسط 30 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس طرح پانی ضائع کئے بغیر برقِ سکونی سے شمسی سیلوں کو صاف و شفاف رکھا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں