خطوط کی آخری کتاب

عطاء الحق قاسمی صاحب لیجنڈ ہیں‘ یہ پوری زندگی پڑھاتے رہے یہ پروفیسر ہیں‘ یہ پوری زندگی کالم لکھتے رہے یہ کالم نگار بھی ہیں‘ یہ پوری زندگی شعر بھی کہتے رہے یہ شاعر بھی ہیں گو ان کے شعر ’’عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے‘‘ کو ان سے زیادہ میاں شہباز شریف نے پڑھا اور مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے اگر میاں صاحب سے یہ شعر واپس لے لیا جائے تو یہ شاید تقریر ہی نہ کر سکیں۔

قاسمی صاحب پوری زندگی ادب پڑھتے اور پڑھاتے بھی رہے یہ ادیب بھی ہیں‘ پاکستان میں جس دور میں لوگ لاہور سے قصور جاتے ہوئے بھی ڈرتے تھے یہ اس دور میں امریکا گئے کاروبار کیا‘ گرین کارڈ پھاڑ کر واپس آئے اور پھر ایک طلسماتی سفر نامہ لکھا‘ یہ سفر نامہ آج بھی سفرناموں کے آئین کا آرٹیکل 6 ہے لہٰذا ہم میں سے کوئی بھی کچا پکا لکھاری ’’شوق آوارگی‘‘ سے بہتر سفرنامہ لکھنے کی جسارت نہیں کر سکتا اور یہ آخر میں دو ملکوں میں پاکستان کے سفیر بھی رہے اور اس شعبے میں بھی جھنڈے گاڑ آئے جب کہ یہ2015 میں لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین بھی رہے اورنصف صدی سے معاصر کے نام سے پاکستان کا بہترین ادبی جریدہ بھی شائع کر رہے ہیں۔

یہ تمام پہلو شان دار ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں انسان اگر زندگی میں کچھ کرنا چاہے تو یہ ایک زندگی میں بھی بے شمار کام یاب زندگیاں گزار سکتا ہے‘ قدرت نے قاسمی صاحب کو ملٹی ٹاسکنگ کی نعمت سے نواز رکھا ہے‘ یہ اپنی ذات میں درجن بھر شخصیات لے کر پھر رہے ہیں اور ان شخصیات میں سے ہر شخصیت مکمل اور کام یاب بھی ہے لیکن ان کی زندگی کا ایک پہلو انتہائی حیران کن ہے اور وہ ہے ’’حس مزاح‘‘ یہ سر سے پاؤں تک مزاح میں گندھے ہوئے انسان ہیں‘ نفسیات یہ بتاتی ہے انسان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خشک‘ سنجیدہ اور مردم بے زار ہوتا جاتا ہے۔

شاید حقائق کی تلخی وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی تازگی اور خوشی دونوں کو پی جاتی ہے لیکن قاسمی صاحب دنیا کے ننانوے اشاریہ ننانوے فیصد لوگوں سے بالکل مختلف ہیں‘ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ پرمزاح اور زیادہ ہلکے پھلکے ہوتے جا رہے ہیں‘ ان کے ملاقاتی پہلے سے زیادہ ان کی کمپنی کو انجوائے کرتے ہیں‘ ان کی تحریروں میں بھی شوخی اور مزاح بڑھتا جا رہا ہے۔

میرا دعویٰ ہے پاکستان میں قاسمی صاحب سے اچھی کوئی کمپنی نہیں‘ آپ ان کے ساتھ بیٹھ کر اپنے سارے غم بھول جاتے ہیں اور یہ ان سب کے ساتھ اس گزرتی ہوئی دم توڑتی ہوئی تہذیب کے سفیر بھی ہیں جسے میری نسل نے بھی صرف بچپن میں دیکھا تھا‘ ہم لوگ اس ملک کے آخری شہری ہیں جنہوں نے تانگوں میں سفر کیا‘ قینچی سائیکل چلائی‘ جن کی سائیکلوں کے کتے فیل ہوئے‘ جنہوں نے لالٹین اور مٹی کے تیل کے لیمپ دیکھے‘ زیرو کے بلب جلائے‘جنہوں نے نلکوں کے نیچے بیٹھ کر کھلے آسمان کے نیچے غسل بھی فرمایا‘ نائیوں کے حمام میں نہانے کی لذت بھی لی۔

چکڑ چھولے بھی کھائے‘ ابے‘ تائے اور چاچے کی پھینٹی بھی کھائی‘ گرم دوپہروں میں چھتوں پر پتنگیں بھی اڑائیں اور ڈوریں بھی لوٹیں‘ آنا لائبریریوں سے کرائے پر ناول لے کر بھی پڑھے‘ لاؤڈ اسپیکروں پر اذانیں بھی دیں‘ گیارہویں شریف کا ختم بھی کرایا‘ دیسی شربت بھی بنائے‘ حکیموں کے مربے بھی کھائے‘ دودھ کی بالائی بھی چرائی‘ کریم رول بھی انجوائے کیے‘ چائے میں پاپے ڈبو کر بھی کھائے‘ لڑکیوں کو رقعے بھی لکھے اور ان کے بھائیوں سے چھترول بھی کرائی‘ ٹکٹ کے بغیر چھپ کر ٹرینوں میں سفر بھی کیا۔

ویگنوں میں ککڑ بھی بنے‘ بسوں کی چھتوں پر بھی لیٹے‘ تھوک سے سلیٹیں بھی صاف کیں‘ تختیوں کے اوپر بیٹھ کرتختیاں بھی سکھائیں‘ بنٹے بھی کھیلے اور ’’کھتی‘‘ میں پیشاب بھی کیا‘ اسکول میں مرغا بن کر ماسٹر کے چھتر بھی کھائے‘ بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی بھی دیکھا‘ چھت پر لٹک کر انٹینا بھی سیدھا کیا‘ ایکس چینج آپریٹر کو نمبر بتا کر فون بھی کیا‘ گھر میں چولہے کے گرد بیٹھ کر کھانا بھی کھایا‘ ماں کو چکی پیستے اور لسی بناتے بھی دیکھا‘ دادا اور دادی کو حکیم کی معجون سے شفاء یاب ہوتے بھی دیکھا‘ چھوٹے بہن بھائیوں کو مولوی صاحب سے دم بھی کرایا‘ کھوتی کی سواری بھی کی‘ کرتے سے ناک بھی صاف کی اور ماں باپ کی مرضی سے شادی بھی کی‘ یہ تہذیب اب ختم ہو چکی ہے۔

ہم اس ملک کی آخری نسل ہیں جس نے ماں باپ کے حکم پر شادی کی تھی اور پہلی نسل ہوں گے جو بچوں کی شادی کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ ہمارے بچوں کے بچے شادی کے بندھن ہی سے آزاد ہو چکے ہوں گے‘ یہ ’’لیونگ ریلیشن شپ‘‘ پر چلے جائیں گے اور عطاء الحق قاسمی صاحب اس تہذیب کے آخری سفیر ہیں‘ یہ ہم جیسے لوگوں کو ہمارا بچپن یاد کراتے رہتے ہیں اور ہم جم کر اس نائلیجیا کو انجوائے کرتے ہیں۔

قاسمی صاحب نے چند دن قبل مجھے اپنی تازہ ترین کتاب ’’مشاہیر کے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی‘‘ بھجوائی‘ میں نے کتاب دیکھی تو یہ مجھے اولڈ فیشن محسوس ہوئی‘ کیوں؟ کیوں کہ دنیا میں خط کا کلچر ہی ختم ہو چکا ہے‘ خط اب صرف حکومت لکھتی ہے‘ لوگ اب صرف واٹس ایپ کرتے ہیں اور وہ بھی آڈیو‘ شادی کے کارڈز تک واٹس ایپ پر موصول ہوتے ہیں اور لوگ شمولیت سے معذرت بھی واٹس ایپ کے ذریعے ہی کرتے ہیں لیکن بیس سال پہلے تک خطوط رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے تھے۔

ہم نے بچپن میں ہر محلے میں ’’لیٹر باکس‘‘ بھی دیکھا تھا اور وردی پوش ڈاکیا بھی‘ وہ سائیکل پر گھنٹی بجاتا ہوا آتا تھا اور محلے کے بچے اس کے پیچھے نعرے لگاتے ہوئے دوڑتے تھے لیکن یہ انسٹی ٹیوٹ بھی اب ختم ہو چکا ہے لہٰذا آج کے زمانے میں اگر کوئی شخص خطوں کی کتاب شائع کردے تو یہ ٹائی شرٹ کے نیچے دھوتی محسوس ہو گی۔

مجھے یہ کتاب بھی شروع میں ایسی ہی محسوس ہوئی لیکن میں اسے جوں جوں پڑھتا گیا تو میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا یہ کتاب صرف کتاب نہیں بلکہ یہ ادب‘ تہذیب‘ ثقافت اور سیاست کا البم ہے‘ یہ اردو زبان میں خطوں کی آخری کتاب بھی ہے‘دنیا میں خط لکھنے‘ خط پہنچانے اور خط پڑھنے والے لوگ ہی ختم ہو چکے ہیں لہٰذا مستقبل قریب میں خط لکھے گا کون‘ خط پڑھے اور سنبھالے گا کون اور انھیں شائع کون کرے گا لہٰذا میرا خیال ہے یہ اردو میں خطوط کی آخری بڑی کتاب ثابت ہو گی۔

’’مشاہیر کے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی‘‘ میں زندگی کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی245ایسی شخصیات کے خطوط ہیں جو اپنے اپنے میدان کے شہ سوارتھے اور ہیں‘ قاسمی صاحب ایک وسیع المشرب انسان ہیں‘ ان کے رابطے شاعروں‘ ادیبوں‘ حکمرانوں‘ سیاست دانوں‘ عالموں‘ سفیروں‘ وزیروں‘ بیوروکریٹس اور فوج کے اعلی عہدے داروں سے تھے۔

عطاء الحق قاسمی تعلق نبھانے کا فن جانتے ہیں‘ یہ مقابل کے دل میں اتر جانے کے سلیقے اور قرینے سے بخوبی واقف ہیں‘یہ سیاسی و نظریاتی اختلاف کو کشادہ دلی سے قبول بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا حلقہ احباب نہایت وسیع ہے لہٰذا لوگ انھیں خط لکھتے رہے اور یہ انھیں اپنے پاس محفوظ کرتے رہے اور یوں یہ کتاب وجود میں آگئی‘ مرزا غالب نے مراسلہ کو مکالمہ بنا دیاتھا‘ ان خطوط کے مطالعہ کے دوران میں نے اس کتاب میں بھی مکالمے کا بھرپور چٹخارہ محسوس کیا۔ کاش میں ان خطوط کا مطالعہ بھی کر پاتا جو قاسمی صاحب نے جواباً تحریر کیے ہوں گے‘ وہ یقینا ان سے بھی بہتر ہوں گے۔

یہ کتاب ڈاکٹر عائشہ عظیم نے مرتب کی‘ خاتون نے جس محنت‘ لگن‘ تندہی اور جان فشانی سے یہ کتاب مرتب کی وہ لائق تحسین ہے‘ آپ اگر لکھنے لکھانے کے عمل سے جڑے ہوئے ہیں اور آپ کو دوسروں کا لکھا ہوا پڑھنا بھی پڑتا ہے تو آپ جانتے ہوں گے ہرشخص خوش خط نہیں ہوتا‘ کبھی کبھی ’’لکھے مو سا‘ پڑھے خود آ‘‘ والا معاملہ بھی پیش آ جاتا ہے‘ ایسی صورت میں املا کی مختلف صورتوں سے واقف ہونا اور من و عن نقل کر دینا آسان نہیں ہوتالہٰذا میں خاتون کی محنت کو داد دیتا ہوں۔

یہ مجموعہ مجھے ایک مکمل تھیسس محسوس ہوا جس پر ڈاکٹر عائشہ عظیم کو ایک اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا جا سکتا ہے‘ یہ مجموعہ یقیناً آنے والے زمانے میں ایک دستاویز اور ریفرنس بک کے طور پر دیکھا جائے گا‘کتاب میں پاکستان کے تقریباً تمام نامور لوگوں کے خطوط موجود ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ بھارت کے سابق وزیراعظم آئی کے گجرال‘ سکھ حریت پسندوں اور ایک ہائی جیکر کا خط بھی موجود ہے۔

مجھے یہ کتاب پڑھ کر محسوس ہوا آپ نے اگر کسی شخصیت کو پوری طرح سمجھنا ہو تو آپ اس کی تقریروں اور تحریروں کے ساتھ ساتھ اس کے خط بھی پڑھیں‘ آپ اس شخصیت کو مکمل طور پر سمجھ جائیں گے لہٰذا میں آخر میں عطاء الحق قاسمی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں انھوں نے مجھے میرے بچپن کی ایک اور لذت لوٹا دی‘ انھوں نے مجھے میرے خطوں کا زمانہ یاد کرا دیا‘ تھینک یو سر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں