جدید جنگی ٹیکنالوجی سے ایک آپریٹر 130 ڈرونز کنٹرول کرسکتا ہے

کیمبرج، میساچیوسٹس: جدید جنگی ہتھیار بنانے والی امریکی کمپنی ’ریتھیون‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایسی ٹیکنالوجی وضع کرلی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے صرف ایک آپریٹر 130 ڈرونز کنٹرول کرسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی امریکی ایجنسی ’ڈارپا‘ کے ’آفسیٹ پروگرام‘ کےلیے تیار کی گئی ہے تاکہ مستقبل کے میدانِ جنگ میں کم فوجیوں کی مدد سے زیادہ تعداد میں خودکار طیارے کنٹرول کیے جاسکیں اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔

واضح رہے کہ آج کل مختلف نمائشوں میں سیکڑوں ڈرونز کی ایک ساتھ اور ہم آہنگ پرواز کے ذریعے دیکھنے والوں کی تفریح کا سامان مہیا کیا جاتا ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی عوام کی تفریح سے کہیں بڑھ کر ہے۔

عسکری ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ آنے والے برسوں میں لڑاکا طیاروں کے علاوہ خودکار جہاز اور ڈرونز بھی افواج کا باقاعدہ حصہ ہوں گے جنہیں دور بیٹھے ہوئے آپریٹرز کنٹرول کیا کریں گے۔

یعنی مستقبل کی جنگیں صرف فوجیوں کے نہیں بلکہ ڈرونز اور خودکار جہازوں کے درمیان بھی لڑی جائیں گی۔

ریتھیون کی ٹیکنالوجی بھی ایسی ہی امریکی کوششوں کا تسلسل ہے جس کے تحت ایک آپریٹر نے 130 ڈرونز کو بیک وقت کنٹرول کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

بڑی تعداد میں ڈرونز کو ایک ساتھ کنٹرول کرنے کےلیے مصنوعی ذہانت کے تحت ’’سوارم انٹیلی جنس‘‘ نامی شعبے سے استفادہ کیا گیا ہے۔

ریتھیون کے مطابق، اس ٹیکنالوجی میں سادہ سینسرز کے علاوہ کم طاقت والے مائیکرو پروسیسرز بھی استعمال کیے گئے ہیں جو اسے کم خرچ کے علاوہ آسان بھی بناتے ہیں۔

اگرچہ حالیہ تجربات میں ریتھیون نے ہوا میں اُڑنے والے 130 ڈرونز کو ایک ساتھ کنٹرول کرنے کا مظاہرہ کیا ہے تاہم مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی زمین پر چلنے والی خودکار گاڑیوں اور سمندر میں تیرتی ہوئی خودکار کشتیوں اور آبدوزوں کی بڑی تعداد کو ایک ساتھ کنٹرول کرنے کے قابل بنا لی جائے گی۔

اس ٹیکنالوجی کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ ایک عام فوجی بھی تھوڑی سی تربیت کے بعد اس میں مہارت حاصل کرسکتا ہے۔

کیا آنے والے برسوں میں ایک آپریٹر ایک ہزار ڈرونز کنٹرول کرسکے گا؟ اس سوال کے جواب میں ریتھیون کا کہنا ہے کہ اس پہلو پر بھی کام جاری ہے اور کچھ تحقیق کے بعد یہ بھی ممکن بنا لیا جائے گا۔

فوجیوں کو میدانِ جنگ کے منظر سے بہتر طور پر آگاہ رکھنے کےلیے ورچوئل رئیلیٹی (وی آر) چشمے بھی تیار کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے اہداف پر بخوبی نظر رکھ سکیں اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں