کسی اور ہی دنیا کا باسی

ماڈل ٹاؤن لاہور میں میرا ایک انتہائی ذہین و فطین دوست میرا ہمسایہ تھا، چنانچہ ہم اکثر ایک دوسرے کی طرف آتے جاتے تھے، گپ شپ لگاتے، گھومتے پھرتے۔ اس کا نام راشد تھا اور یہ اپنی وضع کا اکلوتا شخص تھا۔ پینٹنگ کا دورہ ہوتا تو دن رات صرف اس کام میں جتا رہتا۔ کتابیں پڑھنے پر آتا تو ہر وقت کوئی نہ کوئی کتاب اس کے ہاتھ میں ہوتی، اس دوران رات کے وقت اگر لائٹ چلی جاتی تو موم بتی جلا لیتا اور اس کی موم کتاب پر گرتی رہتی، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوتا جب وہ میری کوئی کتاب واپس کرتا تو اس کے کئی صفحات پر موم کے قطرے نظر آتے۔ راشد بے حد امیر والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، چنانچہ چھ کنال کی کوٹھی میں اپنے والد کے ساتھ اکیلا رہتا تھا۔ اس پر کئی دفعہ دیوانگی کے دورے بھی پڑتے تھے اور وہ ایک عجیب کیفیت میں چلا جاتا تھا۔ میں ایک روز اس کی طرف گیا، بیل دی، وہ باہر آیا مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب طرح کی وحشت تھی، میں کمرے میں داخل ہوگیا مگر ڈر گیا، کمرے میں برائے نام روشنی تھی، صرف اس کا سایہ نظر آرہا تھا، اس نے کھڑکیوں کے سارے پردے تبدیل کرکے سیاہ رنگ کے پردے ڈال دیئے تھے۔ کمرےکی تمام دیواریں سیاہ کر دی تھیں اور وہ اپنے سامنے دھری میز پر موت کی وہ تصویریں دیکھ رہا تھا جو اس نے آج مکمل کی تھیں۔ میرے پورے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے مجھے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھا اور اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک تیز چھری تھی، اس نے چھری کی دھار چیک کرنے کےلئے اس پر ہاتھ پھیرا اور پھر مجھے مخاطب کرکے بولا ’’ اگر یہ چھری کسی کی گردن پر چلائی جائے تو اس سے خون کا جو فوارہ پھوٹے گا وہ کیسا منظر ہوگا؟ ‘‘ میں اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے تیزی سے اپنی نشست سے اٹھااور اندھا دھند باہر کی طرف بھاگا۔ اس کے خوفناک قہقہے میرا پیچھا کرتے رہے، مگر اگلے دن جب اس سے ملاقات ہوئی تو وہ وہی راشد تھا، خوش طبع، ذہین وفطین اور بے پناہ محبت کرنے والا دوست۔ اس نے بہت ملائمت سے مجھ سے پوچھا یار کل تم اچانک اٹھ کر چلے گئے، خیریت تو تھی۔ میں نے کہا بس ایک کام یاد آ گیاتھا ورنہ تمہاری خوبصورت کمپنی سے محرومی کسے پسند ہے؟

یہ 1970ء کے اوائل کی بات ہے ایک دن میرے ماڈل ٹاؤن کے سب دوستوں نے پاکستان سے امریکہ ہجرت کا پروگرام بنایا، یہ سب کروڑ پتی والدین کی اولاد تھے، ان میں راشد بھی شامل تھا، سو یہ سب ایک ایک کرکے امریکہ چلے گئے اور وہاں سے خط لکھ کر مجھے بھی امریکہ آنے کا کہتے اور یہ کہ پاکستان میں کیا دھرا ہے۔ ایک دن میں نے بھی امریکہ جانے کا پروگرام بنا لیا، مگر جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا، اباجی کو بھی مجھ سے جدائی گوارا نہ تھی مگر میں نے انہیں صدق دل سے یقین دلایا کہ میں وہاں ہرگز قیام نہیں کروںگا، میں کچھ عرصہ وہاں گزار کر واپس آ جاؤں گا۔ قصہ مختصر میں نے رو دھو کر چھ ہزار روپے جمع کئے، اس دور میں ڈالر دس روپے کا تھا، یوں چھ سو ڈالر میری جیب میں تھے۔ میں اتنے تھوڑے پیسوں میں امریکہ کیسے پہنچا جبکہ امریکہ پہنچ کر بھی ایک سو ڈالر میری جیب میں تھے۔ میں نے یہ داستان اپنے سفر نامے ’’شوق آوارگی‘‘ میں چسکے لے لے کر لکھی ہے۔ میرے سب دوست میسوری سٹیٹ کے صنعتی شہر سینٹ لوئیس میں جمع تھے۔ سو میں بھی ان آوارہ گردوں کے گروہ میں شامل ہوگیا۔ اب میں راشد سے ملنا چاہتا تھا، دوستوں نے بتایا اس نے ایک ابنارمل امریکی لڑکی سے شادی کی ہے اور وہ ہم سے کم کم ہی ملتا ہے، تاہم میرے اصرار پر انوار مجھے اس کے گھر لے گیا، بیل دی، مگر دروازہ نہیں کھلا، البتہ اندر سے توڑ پھوڑ کی کچھ آوازیں آتی رہیں،دوسری بار بیل دی تو راشد نے دروازہ کھولا مگر اس کے ساتھ ہی ایک فرائی پین اس کے بازو پر آ کر لگا اور پھر دروازہ بند ہوگیا اور ہم واپس چلے آئے۔

اگلے دن راشد اپنی بیوی کےساتھ میری طرف آیا، اچھی خوبصورت تھی اور راشد کے بازوؤں سے چمٹی ہوئی تھی۔ راشد نے کل کے واقعہ کی معذرت کی اور کہا باربرا بہت نائس اور بہت اچھی لڑکی ہے، بس کبھی کبھار غصہ میں آ جاتی ہے، راشد نے کل کے واقعہ کی تلافی اور اپنی بے پناہ محبت کی وجہ سے جو وہ سب دوستوں سے کرتا تھا، مجھے فلم دیکھنے کی پیشکش کی، راشد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور باربرا اس کے ساتھ چمٹی رہی، میں کار کی پچھلی نشست پر تھا، تھوڑی تھوڑی دیر بعد باربرا ایک آئینہ میں اپنی شکل دیکھتی اور راشد سے کہتی ’’میں کتنی خوبصورت ہوں، ہوں نا؟‘‘ راشد کہتا ’’ تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو‘‘۔ یہ ایک اوپن ائیر سینما تھا جہاں ہم فلم دیکھنے پہنچے تھے۔ مجھے تو پردۂ اسکرین پر صرف باربرا راشد سے چمٹی نظر آتی تھی اور اس کی آواز سنائی دیتی تھی ۔ ’’میں کتنی خوبصورت ہوں۔ ہوںنا؟‘‘ اور پھر راشد کی آواز آتی ’’اس میں کیا شبہ ہے کہ تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو۔ جب انٹرول ہوا تو میں نے راشد سے کہا یار واپس چلتے ہیں، فلم بوگس ہے۔ چنانچہ واپس گھر کی طرف روانہ ہوئے اور ’’میں کتنی خوبصورت ہوں، ہوں نا؟‘‘ اور ’’تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو، ہنی‘‘ کی تکرار میرے کانوں سے ٹکراتی رہی۔

امریکہ میں ڈیڑھ دو سال قیام کے بعد میں حسب وعدہ واپس پاکستان آگیا چند برس بعد مجھے ناروے میں پاکستان کا سفیر مقر ر کردیا گیا۔ ایک دن میری سیکرٹری نے مجھے اطلاع دی کہ امریکہ سے ابرار آپ سے بات کرنا چاہتا ہےوہ خود کو آپ کا دوست بتا رہا ہے۔ میں نے فون سنا ، ابرار کہہ رہا تھا عطا، راشد امریکہ سے ہانگ کانگ چلا گیا تھا، میں نے کہا مجھے علم ہے۔ ابرار نے کہا ’’آج وہ مر گیا ہے اس کی چینی بیوی نے اطلاع دی ہے‘‘۔ ریسور میرے ہاتھ سے گر گیا اور میں نے اپنی آنکھوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں