ایک منحوس شخص!

ایک دوست سے بہت طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی تو اس نے سلام دعا لیے بغیر مجھے مخاطب کیا اور کہا وہ شیر محمد تھانا،ٹائون شپ والا؟ میں نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ کیا ہوا اسے ؟بولا، فوت ہو گیا ہے۔ میں نے ابھی اناللہ پوری بھی نہیں پڑھی تھی کہ اس نے ایک بار پھر مجھے مخاطب کرکے کہا غلام رسول بھی فوت ہو گیا ہے۔ میرے لیے یہ دونوں خبریں صدمے کا باعث تھیں اس نے مجھے ان صدموں سے سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر مزید افسوسناک خبر یہ سنائی کہ رضیہ باجی جو بچوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھیں وہ بھی فوت ہو گئی ہیں۔ میرے اندر بہت سے اناللہ جمع ہو گئے تھے۔ مگر اس نے کسی ایک مرحوم کے لیے بھی مجھے یہ کلمات پڑھنے کا موقع نہیں دیا بلکہ اس نے تابڑ توڑ دس بارہ مزید اموات کی خبردی۔ مجھے یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا محسوس ہوا تو میں نے اسے درمیان میں ٹوکا اور کہا میرا خیال ہے کہ تم مجھے صرف ان جاننے والوں کے نام بتا دو جو زندہ بچ گئے ہیں۔ اس پر وہ خاصا بدمزہ ہوا تاہم اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے چنانچہ بولا جو زندہ بچ گئے ہیں ان کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ وہ ابھی تک فوت نہیں ہوئے ہوں گے؟میں نے کہا یہ تم نے لاکھ روپے کی بات کہی ہے۔ یہ گارنٹی تو میں تمہارے حوالے سے بھی نہیں دے سکتا کیا پتہ ابھی ابھی خود تم اللہ کو پیارے ہو جائو اور اللہ تعالیٰ اس کارِخیر کی توفیق مجھے عطا فرمائے۔

دراصل میرا یہ دوست غمگین سلیمانی کی فکر سے بہت متاثر ہے۔غمگین سلیمانی ان دنوں ایک ٹی وی چینل سے وابستہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اچھی خبر، خبر ہی نہیں ہوتی صرف بری خبر، خبر کے ضمن میں ا ٓتی ہے چنانچہ اس کے چینل کا نیوز بلیٹن اس نوع کی خبروں سے بھرا ہوتا ہے، بس الٹنے سے چودہ لوگ ہلاک، فلائی اوور گرنے سے چوبیس افراد جاں بحق، دو گروہوں میں فائرنگ سے بارہ راہگیر ہلاک، ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، وغیرہ وغیرہ۔ غمگین سلیمانی کے بلیٹن میں کسی بم دھماکے کے بعد خواتین کو بین ڈالتے بار بار دکھایا جاتا ہے۔ نمازِ جنازہ میں آہ وزاری کے مناظر بھی خصوصی طور پر پیش کئے جاتے ہیں، کسی مظلوم سے اس کی داستانِ غم اس کی آہوں اور سسکیوں کے درمیان سنائی جاتی ہے۔ میرا یہ دوست غمگین سلیمانی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتا ہے جو دردناک خبریں اور واقعات ابھی ٹی وی سے نشر ہونے ہوتے ہیں۔غمگین سلیمانی ان میں حسب توفیق اضافہ کرکے میرے دوست کو پہلے سے سنا دیتا ہے، پھر دونوں گھنٹوں اس پر اظہار افسوس اور منہ سے چچ چچ کی آواز نکالتے ہوئے غالباً لاشعوری طور پر حظ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

سو مجھے علم تھا کہ میرا یہ دوست ایسے بہت سے واقعات اور خبریں مجھے سنانے کے لیے بے تاب ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اسے درمیان میں ٹوک دیا تھا، لیکن وہ ایک پرعزم اور اپنے خیالات و افکار اور اپنے عمل پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ کرنے والا شخص نہیں ہے۔ اس دوران میرا ملازم چائے لے آیا تھا اس نے چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا ’’تمہارے خیال میں پاکستان کے بچنے کی کوئی امید ہے؟ ‘‘ اس پر میں نے اس سے وضاحت مانگی کہ کیا وہ اپنے جیسے لوگوں کے ہاتھوں سے پاکستان کےبچنے کے متعلق استفسار کررہا ہے؟ اس نے کہا ’’یار کیسی باتیں کرتے ہو، مجھے تو پاکستان سے اپنے بچوں سے بھی زیادہ پیار ہے‘‘۔ میں نے عرض کی کہ اگر ایسا ہے تو جب کبھی تمہارا کوئی بچہ بیمار ہوتا ہےتو تم بھاڑ ایسا منہ کھول کر ڈاکٹرسے پوچھتے ہو کہ کیا بچے کے بچنے کی کوئی امیدہے ؟بولا ’’نہیں‘‘ میں نے کہا تو پھر پاکستان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم اور تم ایسے کتنے ہی لوگ پاکستان کی زندگی کے بارے میں سفاکانہ طریقے سے سوال اٹھاتے رہتے ہیں؟ مجھے لگا، میرے دوست کو میری بات اچھی نہیں لگی شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ میرے جواب میں ناامیدی کا عنصر شامل نہیں تھا مگر میں نے اس کی ناراضی کی پروا کیے بغیر اس سے پوچھا’’یار ایک بات تو بتائو ‘‘ بولا ’’ پوچھو‘‘ میں نے کہا ’’تم اور تمہارے جیسے دوسرے لوگ جو پاکستان کے بارے میں گونا گوں مفروضوں یا بعض حقیقی خدشات پر اظہار خیال کے دوران لفظوں کا مناسب استعمال نہیں کرتے، کیا اسے موجود بحرانوں سے نکالنے کےلیے آپ لوگوں نے بھی کبھی اپنا کردار کیا ہے؟ ’’بولا ‘‘ ہم عام لوگ کیا کرسکتے ہیں، میں نے کہا ’’اگر تم مایوسی پھیلاسکتے ہو، چلو وہ پھیلاتے رہو، مگر ایک مثبت کام بھی تو کرو‘‘۔ بولا ’’مثلاً‘‘میں نے کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والے اندر ونی اور بیرونی دشمن جو کچھ کر رہے ہیں تم پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے صرف ایک کام کرواوروہ یہ کہ تم میں سے جو شخص جس جگہ بیٹھا ہے وہ اپنا کام پوری دیانتداری سے انجام دینا شروع کر دے، جب بائیس کروڑ لوگوں میں سے اٹھارہ کروڑلوگ بھی ہر وقت پر مال بنانے میں لگے رہیں اور ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں فکرمند بھی نظر آئیں تو اسے حب الوطنی نہیں کہتے بلکہ یہ حب الوطنی کے ساتھ سیدھی سادی فلرٹیشن ہے۔

میرا یہ دوست میری گفتگو سے سخت بیزار نظر آرہا تھا مگر اچانک اس کے چہرے پر اس وقت رونق کے آثار نمایاں ہوئے جب میرے ملازم نے اندر آکر مجھے بتایا کہ غمگین سلیمانی صاحب آپ سے ملنے کیلئے آئے ہیں اور پھر غمگین سلیمانی کو دیکھتے ہی میرا دوست جھپی ڈال کر اسے ملا اور زور سے بھینچتے ہوئے کہا ’’اچھا ہوا تم آگئے، یہ بتائو کہ پاکستان کے بارے میں کوئی اور بری خبر تو نہیں آئی؟‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں