اخوت کا حجرا اور اس کے بابا جی!

میں نے ’’اخوت‘‘ والے ڈاکٹر امجد ثاقب کوتب سے ’’بابا جی امجد ثاقب‘‘ کہنا شروع کر رکھا ہے، جب اپنے دو کالموں میں انہیں ’’بابا‘‘ قرار دیا تھا اور اب دوستوں کے ساتھ گفتگو ہوتی ہے تو امجد ثاقب کے تذکرے کے دوران کبھی کبھی منہ سے بے اختیار ’’بابا جی امجد ثاقب‘‘ نکل جاتا ہے۔

بات یہ ہے کہ جو شخص ’’ڈپٹی کمشنر‘‘ ہو، وہ یہ ’’صاحب بہادری‘‘ کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ مگر امجد ثاقب نے استعفیٰ دیا، استعفیٰ نہ دیا ہوتا تو وہ اس وقت تک سیکرٹری کے عہدے پر پہنچ چکے ہوتے، مگر انہوں نے استعفیٰ دینے کے بعد باقاعدہ ’’ریاضت‘‘ کا آغاز کردیا، اور اس ریاضت کے لیے وہ کسی جنگل میں نہیں گئے بلکہ چند دوستوں کے ساتھ مل کر بہت تھوڑی رقم سے فلاحی تنظیم ’’اخوت‘‘ کا آغاز کیا اور خلقِ خدا کی خدمت شروع کردی، ذہن میں خدمتِ خلق کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں تھا، چنانچہ چند برسوں میں کروڑوں اور اب اربوں روپے ہر سال ضرورت مندوں کو بلا سود قرضے دیتے ہیں، یہ قرضے چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے سے لے کر تعلیم اور مکان کی تعمیر تک کے لیے دیے جاتے ہیں اور یہ کام اتنے شفاف طریقے سے کیاجاتا ہے کہ میرے جیسے لوگ بھی جو بعض فلاحی تنظیموں کے حساب کتاب کی عدم شفافیت کی وجہ سے ان سے دور ہوگئے تھے، اوران کی مدد کے لیے کوئی کالم لکھنے سے باز آ چکے تھے، وہ بھی ’’اخوت‘‘ کے طرفدار ہوگئے۔ اللہ تک پہنچنے کا سب سے بہترین اور سب سے مشکل راستہ اس کی مخلوق کے لیے بھلائی کے کام کرنا ہے اور یوں بیوروکریسی کے دھندے چھوڑ کر ڈاکٹر امجد ثاقب اللہ والے ہوگئے۔ ان کی تنظیم اب تک اڑھائی کروڑافراد ( ہرگھر میں پانچ افراد) کو قرضے دے چکی ہے اور کمال یہ ہے کہ ریکوری کی شرح 99فیصد ہے، ملک کے سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سابق فاٹا میں یہ قرضےدیئے گئے اور بلاتفریق مذہب و ملت دیئے گئے۔’’اخوت‘‘ چار ہزار سے زائد ملازمین، آٹھ سوسے زیادہ دفاتر اور چار سو شہروں میں یہ فرض انجام دے رہی ہے۔ اخوت کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اراکین بغیر کسی معاوضے اور سہولتوں کے یہ خدمت خلق محض اللہ کی خوشنودی کے لیے انجام دے رہے ہیں۔ اخوت کے زیر اہتمام اخوت یونیورسٹی قصور اور خواتین کے متعدد کالجز بھی کام کر رہے ہیں۔

میں ڈاکٹر صاحب کی دعوت پر اخوت کالج یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر قصور گیا۔ وہاں جب اس یونیورسٹی کی عمارت پر نظر پڑی تو میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ اسے صرف ’’سٹیٹ آف آرٹ‘‘ ہی کا نام دیا جا سکتا تھا، اس وقت میری حیرت کی حد نہ رہی جب مجھے پتہ چلا کہ یہاں تعلیم بالکل مفت ہے، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ نے جب مہمانوں کو ’’گارڈ آف آنر‘‘ پیش کیاتو میں ان کی خوبصورت یونیفارم دیکھ کر سوچنے لگا کہ ٹھیک ہے تعلیم تو مفت ہے، مگر یہ طالب علم اتنا مہنگا یونیفارم کیسے افورڈ کرتے ہوں گے، مگر پتہ چلا کہ ان کی فیس، ان کے یونیفارم، ان کی کتابیں حتیٰ کہ ہاسٹل کے سبھی اخراجات بھی ’’اخوت‘‘ ادا کرتا ہے، یہ سب کچھ حیرت انگیز تھا مگر جب کھانے کی میز پر مجھے پتہ چلا کہ میرا مہنگا موبائل فون میری جیب میں نہیں ہے تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اس وقت میری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں جب ایک طالب علم میرےپاس آیا اور کہا سر! آپ یہ فون اپنی میز پر بھول آئے تھے، دوسرے طالب علموں کی طرح یہ بھی غریب فیملی کا بچہ تھا، تب مجھے اندازہ ہو کہ اخوت کی یہ یونیورسٹی نئی نسل کو صرف بہترین تعلیم نہیں دے رہی بلکہ ان کی بہترین تربیت بھی کرتی ہے، تعلیم بغیر تربیت کے گدھے پر کتابوں کے بوجھ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

میرے ’’بابا جی ڈاکٹر امجد ثاقب‘‘ کو اللہ کی طرف سے تو جو ملنا ہے وہ تو ملے گا ہی مگر اس دنیا میں بھی اس کا صلہ انہیں قوم اور بین الاقوامی ایوارڈ کی صورت میں مل چکا ہے اور شنید ہے انہیں نوبل ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے جو اقبال کو نہیں دیاگیا تھا تو دینے والے امجد ثاقب کو کیوں دیں گے! مجھے آخر میں تمام پاکستانیوں سے گزارش کرنا ہے کہ وہ اپنے عطیات اور زکوٰۃ وغیرہ کا اگر صحیح استعمال چاہتے ہیں تو اس کے لیے ’’اخوت‘‘ بہترین اور قابل اعتماد تنظیم ہے، اخوت یونیورسٹی کے لیے زکوٰۃ کی مد میں رقوم بینک اسلامی لمیٹڈ، ٹائٹل اخوت یونیورسٹی، اکائونٹ نمبر 20110011606-210 پر ارسال کی جاسکتی ہیں، ہم سب اس عظیم خدمت پر ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، مخیر حضرات اس تنظیم کے ساتھ اپنا تعاون نہ صرف یہ کہ جاری رکھیں بلکہ وہ حسب توفیق جہاں جہاں اس تنظیم کے دست و بازو بن سکتے ہیں اس سےبھی گریز نہ کریں، ان کی عبادات اپنی جگہ، مگر اس عبادت کا کوئی متبادل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں