چڑھ جا بیٹا سولی پر !

میں ایک صحافی ہوں اور جابر سلطان کی عدم موجودگی میں کلمہ حق کہنا میرا کام ہے، اس کی موجودگی میں قصیدے کہتا ہوں کئی بار میرا جی چاہا کہ جابر سلطان کی موجودگی ہی میں کلمہ حق کہہ ڈ الوں لیکن ہر بار رُک گیا اور ہر بار اس کا باعث میرے ایک ماہر نفسیات دوست بنے۔ ایسے مواقع پر انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کلمہ حق اس لیے کہنا چاہتے ہو نا کہ حکومت تمہیں پکڑ کر جیل بھیج دے اور یوں تمہاری نام ونمود کی خواہش پوری ہو سکے؟ میں نے جھینپ کر کہا! نہیں میں کلمہ حق اس لیے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میرا نام عطا الحق ہے باقی نام ونمود والی بات بھی اتنی غلط نہیں ’’بس ٹھیک ہے!‘‘ انہوں نے میری اس حق گوئی سے خوش ہو کر کہا ’’جب عوام جابر سلطان کو قربانیاں دے کر تخت سے اتار دیں تو اس وقت جی بھر کر کلمہ حق کہو عوام اتنے سادہ لوح ہیں کہ وہ تمہارا سابقہ کردار بھول کر تمہیں اپنا ہیرو تسلیم کر لیں گے اور یوں تمہاری نام ونمود کی فطری خواہش بھی پوری ہو جائے گی ۔

اس دلیل کے علاوہ بھی میرے یہ ماہر نفسیات دوست گاہےگاہے میری بریفنگ کرتے رہتے ہیں اور کلمہ حق کہنے والوں کی اتنی گھنائونی تصویر پیش کرتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں سے گھن آنے لگتی ہے، ایک دن مجھ سے کہنے لگے یہ تو بتائو کلمہ حق کہنے والوں کا حشر کیا ہوتا ہے؟ ہر دور میں برا ہی ہوا ہے شہنشاہیت کے دور میں ایسے گستاخ کو بال بچوں سمیت کولہو میں پسوا دیا جاتا تھا اور جمہوریت کے دور میں جیل بھجوا کر ڈکلیئریشن منسوخ کر کے اس طرح کے دیگر حربوں سے اسے گھٹنے ٹیکنے اور اس کے بال بچوں کو کولہو کے آگے جتنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے ۔ٹھیک اب یہ تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں صرف اپنی جان پر اختیار دیا ہے یا دوسروں کی جان بھی تمہارے قبضہ قدرت میں دے دی ہے ؟

صرف اپنی جان پر اختیار دیا ہے ۔

ٹھیک کہتے ہو،اب یہ کہو کہ کلمہ حق کہنے کی جو سزا ان کے علاوہ ان کے بیوی بچوں اور دیگر متعلقہ افراد کو بھگتنا پڑتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ان کے اس طرح کے دلائل سن کر ہر بار میں نے سوچا کہ انہیں مشیر اطلاعات ہونا چاہئے ۔

لیکن میں جانتا ہوں ایسی باتیں وہ صرف میرے مذہبی رجحانات کو مدِنظر رکھ کر کرتے ہیں ورنہ بنیادی طور پر وہ ماہر نفسیات ہی ہیں۔ ایک روز جب ان کے پند و نصائح کا اثر زائل ہونے لگا اور میں نے کلمہ حق کی ٹھانی تو وہ موقع پر پہنچ گئے اور ایک بار پھر مجھے ’’سیدھے راستے‘‘ پر ڈال دیا۔

میںاپنے اس دوست کی ان باتوں سے مطمئن ہو جاتا ہوں یا یوں کہہ لیجئےکہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل جاتا ہے اور یوں میں نام و نمود کے مظاہرے، حقوق العباد سے لاپروائی اور اذیت پسندی ایسے فعالِ بد کا مرتکب ہوتے ہوتے بچ جاتا ہوں لیکن ایک روز ہوا یوں کہ بازار سے گزرتے ہوئے نئی نسل کے ایک اخلاق باختہ نوجوان نے مجھے دیکھ کر چمچے کا نعرہ لگا دیا، یہ پتہ مجھے بعد میں چلا کہ میری موجودگی میں کلمہ حق کہنے کا حوصلہ صرف اسی نوجوان کو ہو، عدم موجودگی میں تو سبھی اسی نام سے پکارتے ہیں تاہم اس پر میں کچھ مغموم سا ہو گیا۔ اس روز میں خود چل کر اپنے اس ماہر نفسیات دوست کے پاس گیا۔ وہ بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میری فریاد سنی تو اسے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا، عینک اتار کر رومال سے شیشے صاف کئے اور پھر گلا کھنکار کر بولے ’’بس اتنی سی بات پر پریشان تھے، میں سمجھا کوئی بڑا سانحہ گزر گیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی بات تو یہ ہے کہ طعنوں سے تنگ آ کر اپنا مستقبل تباہ کر لینا کوئی دانشمندی نہیں۔ تم نے اگر شرم کھا کر کلمہ حق کہنا شروع کر دیا تو کیا ہو گا یہی کہ تم جیل چلے جائو گے اور لوگ کچھ دیر کے لیے واہ واہ کریں گے۔ شاید ایک آدھ مظاہرہ بھی کر ڈالیں اور بس۔ اس کے بعد تم ہو گے اور تمہاری…..‘‘ اے عزیز ان کے پیچھے نہ لگو۔ یہ سب کوفی ہیں تمہیں کلمۂ حق کہنے کے لیے اکسائیں گے اور پھر ظالم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے لیکن اگر تم عوام میں اپنا بھرم رکھنا ہی چاہتے ہو تو سنو کسی دفتر کے راشی کلرک کے خلاف لکھو، پٹواری کی دھاندلیوں کو بے نقاب کرو، پولیس کا سپاہی کسی تانگے والے سے رشوت لے تو اس کے خلاف صفحہ اول پر بھرپور فیچر شائع کرو….. اسی طرح اگر کبھی عوامی مطالبات منظر عام پر لانے کا شوق چرالے تو شہ سرخیوں کے ساتھ یہ مطالبہ شائع کرو کہ بھونڈپورے میں نلکا لگایا جائے، علاقے کے خاکروبوں کو تبدیل کیا جائے، بچوں کو دوپہر کے وقت گلی میں شور شرابا کرنے سے روکا جائے وغیرہ۔ اور اگر کلمہ حق مروجہ معنوں میں کہنا چاہو تو پھر جابر سلطان کی عدم موجودگی میں کہو یقین جانو ان تمام چیزوں سے اقتدار کے ماتھے پر کبھی شکن نہیں آئے گی اور عوام کا ایک طبقہ تمہیں حق گو صحافی بھی سمجھنے لگے گا‘‘، میرے لیے اس دوست کی یہ باتیں ایک بار پھر تقویت قلب کا باعث بنیں اور میں نفس کے دھوکے میں آتا آتا رہ گیا۔

تو دوستو! مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میں جابر سلطان کی موجودگی میں قصیدے اور اس کی عدم موجودگی میں کلمہ حق کہنے والا صحافی ہوں اور میں اپنے اس موقف پر ایوب خانی دور سے کاربند ہوں بلکہ اس دور میں تو میرا یہ شعر بھی بہت مقبول ہوا تھا؎

اس شوخ کی خوشامدیں کرتا ہوں رات دن

میں ہوں ٹرسٹ کے کسی اخبار کی طرح

شاید آپ اس گمان کا شکار ہوں کہ میں نے یہ کالم اپنا متذکرہ شعر سنانے ہی کے لیے تحریر کیا ہے تو واضح رہے کہ آپ کا گمان صحیح ہے آپ میرے اس اعتراف کو کلمہ حق سمجھ لیجیے!

اپنا تبصرہ بھیجیں